ڈاکٹر سر محمد اقبال کی نظم گوئی

تعارف

اقبال 9 نومبر 1877ء  کو برطانوی ہندوستان کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے والد کا نام شیخ نور محمد تھا ۔ ماں باپ نے نام محمد اقبال رکھا۔ مختلف تاریخ دانوں کے مابین علامہ کی تاریخ ولادت پر کچھ اختلافات رہے ہیں لیکن راجح قول کے مطابق آپ کی ولادت 9 نومبر 1877ء کو ہوئی تھی۔

شیخ نور محمد دیندار آدمی تھے۔ بیٹے کے لیے دینی تعلیم ہی کافی سمجھتے تھے۔  سیالکوٹ کے اکثر مقامی علما کے ساتھ دوستانہ مراسم تھے۔ ان میںبایک مولانا غلام حسن نامی بزرگ تھے یہیں سے اقبال کی تعلیم کا آغاز ہوا، انہیں سے قرآن کی تعلیم لی۔ اس کے مولانا سید میر حسن کے پاس چلے گئے اور وہاں اقبال نے اردو، فارسی اور عربی ادب پڑھی۔ اقبال کی شخصیت کی مجموعی تشکیل میں جو عناصر بنیادی طور پر کارفرما نظر آتے ہیں ان میں سے بیشتر مولانا غلام حسن صاحب کی صحبت اور تعلیم کا کرشمہ ہیں۔ سید میر حسن سر سید کے بڑے قائل تھے۔ علی گڑھ تحریک کو مسلمانوں کے لیے مفید سمجھتے تھے۔

ان کے زیر اثر اقبال کے دل میں بھی سرسید کی محبت پیدا ہو گئی جو بعض اختلافات کے باوجود آخر دم تک قائم رہی۔ مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ تو خیر اقبال کے گھر کی چیز تھی مگر میر حسن کی تربیت نے اس جذبے کو ایک علمی اور عملی سمت دی۔ اقبال سمجھ بوجھ اور ذہانت میں اپنے ہم عمر بچوں سے کہیں آگے تھے۔ بچپن ہی سے ان کے اندر وہ انہماک اور استغراق موجود تھا جو بڑے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ سولہ برس کی عمر میں اقبال نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ فرسٹ ڈویژن آئی اور تمغا اور وظیفہ ملا۔

1898ء میں اقبال نے بی اے پاس کیا اور ایم اے (فلسفہ) میں داخلہ لے لیا۔ یہاں پروفیسر ٹی ڈبلیوآرنلڈ کا تعلق میسّر آیا۔ جنھوں نے آگے چل کر اقبال کی علمی اور فکری زندگی کا ایک حتمی رُخ متعین کر دیا۔

مارچ 1899ء میں ایم اے کا امتحان دیا اور پنجاب بھر میں اوّل آئے۔ اس دوران میں شاعری کا سلسلہ بھی چلتا رہا، مگر مشاعروں میں نہ جاتے تھے۔ نومبر 1899ء کی ایک شام کچھ بے تکلف ہم جماعت انھیں حکیم امین الدین کے مکان پر ایک محفلِ مشاعرہ میں کھینچ لے گئے۔ بڑے بڑے سکّہ بند اساتذہ، شاگردوں کی ایک کثیر تعداد سمیت شریک تھے۔ سُننے والوں کا بھی ایک ہجوم تھا۔ اقبال چونکہ بالکل نئے تھے، اس لیے ان کا نام مبتدیوں کے دور میں پُکارا گیا۔ غزل پڑھنی شروع کی، جب اس شعر پر پہنچے کہ :

موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چُن لیے
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے

تو اچھے اچھے استاد اُچھل پڑے۔ بے اختیار ہو کر داد دینے لگے۔ یہاں سے اقبال کی بحیثیت شاعر شہرت کا آغاز ہوا۔ مشاعروں میں باصرار بُلائے جانے لگے۔ اسی زمانے میں انجمن حمایتِ اسلام سے تعلق پیدا ہوا جو آخر تک قائم رہا۔ اس کے ملّی اور رفاہی جلسوں میں اپنا کلام سناتے اور لوگوں میں ایک سماں باندھ دیتے۔ اقبال کی مقبولیت نے انجمن کے بہت سارے کاموں کو آسان کر دیا۔ کم از کم پنجاب کے مسلمانوں میں سماجی سطح پر دینی وحدت کا شعور پیدا ہونا شروع ہو گیا جس میں اقبال کی شاعری نے بنیادی کردار ادا کیا۔

اوردو نظم کے ارتقاء میں علامہ اقبال خدمات

اوردو نظم کے ارتقاء میں علامہ اقبال خدمات نا قابل فراموش ہیں، انہوں نے عم عمری ہیں سے شعر کہنا شروع کر دیا تھا۔ داغ سے اصلاح لیتے تھے۔ لیکن ان کی شاعری کا رنگ داغ سے یکسر مختلف تھا۔ انہوں نے اپنی شاعری کا آغاز غزل سے کیا تھا۔ لیکن ان کی نظموں کی تعدا غزلوں سے زیادہ ہے۔ ان کی شہرت بحیثیت نظم گو شاعر کے ہے۔ انہوں نے شاعری شروع کی تو ان کے سامنے مولانا الطاف حسین حالی، نظیر اکبر آبادی، محمد حسین آزاد، مولانا شبلی، اور اسماعیل میرٹھی کی نظمیں بطور نمونہ موجود تھیں ۔انہوں نے نہ صرف اس سلسلے کو آگے بڑھایا بلکہ اردو میں نظم نگاری کے وقار و معیار کو بلندی عطا کی۔ اقبال اردو کے اہم مفکر شاعر ہیں ۔انہوں نے اپنی نظموں کے ذریعے دنیا کے سامنے اپنے مخصوص نظام فکر کو پیش کیا۔ ان کی نظموں میں رابط وتسلسل ہے ۔ مدلل اور مر بوط فلسفہ ہے ۔ ایک مخصوص انداز فکر ہے ۔اقبال کے مخاطب ہمیشہ وہ انسان رہے ہیں جو حرارت، یقین محکم، اور عمل پیہم سے خالی اور جمود اور تعطل کا شکار تھے۔ انہوں نے اپنی نظموں کے ذریعہ ان کے مردہ دلوں میں زندگی کی روح بچھو نکلنے کی کوشش کی اور کامیاب زندگی گزارنے کا تصور پیش کیا۔ ان کی کچھ اہم نظمیں خضر راہ، مسجد قرطبہ، ساقی نامہ، ذوق وشوق، والدہ مرحومہ کی یاد میں، شمع و شاعر، ابلیس کی مجلس شوری، بچے کی دعا، ہمالہ، طلوع اسلام، شکوہ، جواب شکوہ، ماں کا خواب، پرندے کی فریاد، پہاڑ اور گلہری وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔ان میں سے اکثر نظمیں اپنی فنی خوبیوں کی بلندی پر نظر آتی ہیں۔ ” ہمالہ ” اقبال کی پہلی مطبوعہ نظم ہے۔ اس نظم نے صاحب ذوق حلقے کو چونکا دیا تھا۔ اس نظم میں حسن فطرت، حب الوطنی کے ساتھ ساتھ ماضی کی باز یافت کا جذبہ بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ اقبال نے ہیت کو کبھی اہمیت نہیں دی ان کی غزلوں میں تسلسل اور نظموں میں رنگ تغزل کا رنگ ملتا ہے۔

اقبال کے پہلے شعری مجموعے "بانگ درا” میں حسن فطرت سے دلچسپی اور حب الوطنی کے جذبات نمایاں نظر آتے ہیں ۔ "بال جبرئیل” کی شاعری میں مفکرانہ پہلو نمایاں ہیں، "ضرب کلیم” اور "ارمغان حجاز” کی نظموں پر ڈرامائی انداز اور خطابت حاوی ہے۔

وطنی اور قومی شاعری میں انھوں نے حب الوطنی کے جذبات ابھارنے کی کوشش کی ہے یا قوم کو دعوت عمل دی ہے ۔ ہندوستانی بچوں کا قومی گیت، ترانۂ ملی، نیا شوالہ، وطنیت، خطاب بہ نوجوانان اسلام، ہلال عید، صداۓ درد، تصویر درد، آفتاب، ترانۂ بندی وغیرہ اس کی متعدد مثالیں ہیں۔ ان نظموں میں اقبال نے قوم کو اتحاد کا پیغام دیا۔ اور خبر دار کیا کہ اگر وہ متحد نہ رہیں گے تو پوری قوم کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا۔ اس زمانے میں اقبال نے بچوں کی نظمیں بھی کثرت سے لکھیں جن میں ایک مکڑی، ایک مکھی، ایک پہاڑ اور گلہری، ایک گائے اور بکرری، بچےکی دعا، ماں کا خواب، پرندے کی فریاد اور ہندوستانی بچوں کا قومی گیت اہم ہیں ۔ ان میں بعض نظمیں مشہور شعرا ایمرسرن، ولیم کوپر، لانگ فیلو اور ٹینی سن کے خیالات سے متاثر ہو کر کھیں۔

شکوہ اقبال کی پہلی طویل نظم ہے جو انہوں نے 1911ء میں لکھی۔ اس نظم میں اقبال نے مسلمانوں کے دور عظمت و شوکت کا حال اور موجودہ زیورات کو نہایت فنکارانہ انداز میں پیش کیا۔ اردو کا شعری سرمایہ اس انداز بالکل نا آشنا تھا۔ بہ اس دور کے مسلمانوں کے دل کی آواز تھی۔ نظم شکوہ بے حد مقبول ہوئی، شکوہ کے ڈیڑھ سال بعدا قبال نے’’جواب شکوہ” لکھی۔ انھوں نے اللہ تعالی کی جانب سے مسلمانوں کو مخاطب کیا۔ یہ نظم بیانیہ انداز کی ہے۔ اس میں تاسف کا اظہار بھی ہے امید بھی بندھائی گئی۔ دعوت عمل بھی ہے۔ ان سب نے مل کر نظم کو منفرد بنادیا ہے۔ ڈرامائی رنگ نے اس کی تاثیر میں اضافہ کردیا ہے۔ کہیں کہیں طنزیہ انداز سیدھا دل میں اتر جاتا ہے۔ جیسے:

یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر

حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

جواب شکوہ فکر و خیال کی ندرت کے ساتھ فنی اعتبار سے بھی ایک خوب صورت نظم ہے ۔ تاثر کی شدت اور جذبے کی گہرائی نظم کے ہر حصے میں موجود ہے نظم کا اختتام اس قد ر لاجواب ہے کہ اس کی مثال پوری شاعری میں نہیں ملتی :

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں

سرکار دو عالم نے اقبال کی بے پناہ محبت ان کی دوسری نظموں میں جھلکتی ہے ۔ "شمع وشاعر” بھی ایک اہم نظم ہے ۔ اقبال نے رمز، کنایہ و علامت کا پیرا یہ اختیار کیا ہے۔ اقبال نے شاعری کی پرانی و روایتی علامتوں کو نئے معنی و مطالب عطا کیے ۔ اس نظم کا موضوع قومی انحطاط، مسلمانوں کا مقام، راہ عمل اور درخشاں مستقبل ہے۔ اقبال مسلمانوں کے انحطاط کا سبب ان کے انفرادی کردار کا خاتمہ، اخلاقی پستی سے ملی تن آسانی، موثر قیادت کا فقدان، آپسی نفاق و انتشار بتاتے ہیں ۔ اقبال مسلمانوں کو اس بات کا بھی احساس دلاتے ہیں کہ وہ ماضی میں کیا تھے اور اب کیا ہیں۔

غرض اقبال ایسے ہنر کی تخلیق کے قائل ہیں جسے حیات ابدی حاصل ہو جو دلوں میں ولولہ پیدا کرے ۔ وہ چمک دمک وخوب صورتی سے نہیں بلکہ تلاطم کے طرف دار ہیں ۔ وہ افسردگی کے نہیں امید افزا جد و جہد چاہتے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ جب تک قو میں کوئی معجزہ نہیں دکھا تیں۔ دنیا میں ان کا نام نہیں ہوتا۔ جس طرح موسی نے اپنے عصا کے ذریعہ معجزے دکھائے تھے، اسی طرح قوم بھی اپنی مخفی صلاحیتوں کو پہچان کر عصا کی طرح منجزے دکھائے ۔ اقبال خودی کی پہچان حرکت ، عمل اور جدوجہد کا پیغام دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہنر کا مقصد بھی یہی پیغام ہو۔