پوری عالمی برادری ایک ایسے دوراہے پر آکھڑی ہے جسکے آگے کنواں پیچھے کھائی ہے، پوری دنیا بارود کے ڈھیر اور ہلاکت کے دہانے پر یونہی نہیں پہونچی یہاں تک پہونچنے میں خود ایک ملک نے دوسرے ملک کا آنکھیں موند کے بھر پور تعاون کیا، مظلوموں کی آہوں، مجبوروں کی چیخوں ، یتیموں و بیواؤں کی سسکیوں کو مغنیہ کی نغمہ سرائی سمجھ کے محظوظ ہوتے رہے، ترقی یافتہ قومیں غریب ممالک کے باشندوں کو بھیڑ بکری اور نرم چارہ جان کے بے رحمی سے ڈکارتی رہیں، مسلمانوں اور اقلیتوں کے خون کو پانی کی طرح فضول و بیکار سمجھ کے جہاں تہاں بہانے میں کسی ملک نے کبھی دریغ نہیں کیا۔
محبت واپناٸیت، اتحاد واتفاق کے جس عنصر و خمیر سےترقی و خوشحالی کا خوشنما محل تعمیر ہوتاہے اس میں نفرت وعصبیت کا ایسا گھول انڈیلا گیا کہ ساری عمارت، در ودیوار، مکین سب مسموم ہوگۓ بغض حسد کے شجر ممنوعہ کی آبیاری ہی کے نتیجہ میں فرقہ پرستی ،انتہا پسندی، تشدد ،عدوات، بے رحمی، قساوت قلبی، ظلم و تعدی، دست درازی کے تیکھے و کڑوے پھل ہر گلی و کوچے میں گرے پڑے ہیں۔
اس بیچ امت مسلمہ بھی اپنی حیثیت مقام و مرتبہ اور فرائض کو فراموش کرکے زرپرستی، زر دوزی ،خیانت کاری، رشوت خوری ،میں حد درجہ انہماک و مشغولیت کو ترقی و تعلی کی معراج سمجھ بیٹھی خیر امت و وسط امت کا تمغہ وتاج سجا کے میخانوں کی سیر، ملت فروشی، حقوق و معاملات میں کوتاہی کے ساتھ علم وعمل کی دنیا سے ناطہ توڑ کے فحاشی ، عریانیت، انتشار و افتراق سے رشتہ استوار کۓ رہی ” من یسر علی معسر یسرہ اللہ فی الدنیا و الآخرة “ اور ”من کان فی حاجة اخیہ کان اللہ فی حاجتہ“کی تعلیم و پیغام عام کرنے والے ” واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً کانعرہ بلند کرنے والے ولاتفرقوا اور ولاتنازعوا سے فریق مخالف کو پست کرنے والے حقیقی دنیا میں خود ایک دوسرے سے کٹے رہے، دین میں مداہنت کو روش خیالی کا نام دیکر دین و دھرم کا حلیہ مسخ کرکے اللہ و رسول کا مذاق اڑاتے رہے. مجبوروں کی مجبوری لاچاروں کی لاچاری بے بسوں کی بے بسی یتیموں کی پریشانی بیواؤں کے ماتھے پر فکر کی لکیریں دیکھ کے بھی ہم چپی سادھے رہے، ہاں کبھی کسی اللہ کے بندے نے اپنی طرف سے یا اوروں کے وسیلے سے کچھ کرنے کی ہمت و جرأت کی،یااس ضمن میں کوئی قابل ستائش اور مستحسن قدم اٹھایا تو اسکی ٹانگ کھینچنے اوراس کو لعن طعن کرنے اس کو کھاکر ڈکارنہ لینے والا اور نہ جانے کتنے بے ہودہ القاب سے نوازنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔
سماج کا کوئی قابل فرد سماجی و فلاحی کاموں کے ارادے سے آگے آیا ،جمعیت و جماعت میں کسی بابصیرت روشن دماغ نے کچھ کرنے کی سعی کی تو خود گلے تک گناہوں میں ڈوبنے کے باوجود اس میں خلفاۓراشدین کی جھلک دیکھنےکو بے تاب رہے اور اسکی مساعی جمیلہ، اوصاف حمیدہ الغرض ساری خدمات پر صرف ایک غلطی کی وجہ سے پانی پھیرنے میں ذرا بھی کوتاہی نہیں کی .اس واسطے بے شمار، ان گنت ،لاتعداد مشکلات امت مسلمہ کا مقدر ٹھہریں۔
ایک دو زخم نہیں جسم ہے سارا چھلنی* *درد بے چارہ پریشاں ہے کہاں سے اٹھے* *
مساجد و مدارس سے وابسطہ علما ٕوطلبہ ،حفاظ و قرا ٕ ،نظماء و منتظمین مدارس و جامعات اعلی تعلیم یافتہ طبقہ ومخیر تجار اسی طرح دیگر تمام لوگ جو سماجی تانے بانے کو مضبوطی فراہم کرنے میں ایک دوسرے کے معاون ومددگار ہوتے ہیں وہ مل کر ایک ایسا لائحہ عمل ترتیب دینے کے ساتھ ایسی طرز زندگی کو فروغ دیں جس میں حقوق کی فراہمی ہو، معاملات میں شفافیت ،لین دین، خرید و فروخت میں انصاف اور عدل ہو شادی و بیاہ ،معیشت ومعاش ، انتظام و انصرام اور دیگر تمام امور میں خیر کا پہلو نمایاں و روشن ہو۔
ظاہر ہے مذکورہ اوصاف کا حامل معاشر تشکیل دینے کے لئے کہیں دور جانے یا بقراط و سقراط جالینوس کی کتابوں کو پڑھنے پڑھانے کی ضرورت نہیں اس کتاب کو دیکھنے پڑھنے اور اس میں تدبراور غور و فکر کی ضرورت ہے جو سارے راز سربستہ کھولنے والی، ترقی کی شاہ کلید، دماغوں کو روشن کر نے والی ہے جس کا ایک ایک حرف روشنی کا مینار اور جامع ہدایت کا سرچشمہ ہے جس کے متعلق رب العزت کا فرمان ہے ”کتاب انزلنا ہ الیک لتخرج الناس من الظلمات الی النور “ وہ کتاب ہے قرآن مقدس اور اس کی شارح آحادیث مبارکہ جیسا کہ نبی پاکﷺ کافرمان أوتیت القران ومثلہ معہ صادق وبرہان ہے۔
اے اللہ تو ہماری مشکلات کو دور فرما (آمین)








