مرغ و ماہی کا کبابوں کا نہ بریانی کا
یہ مہینہ تو ہے ایثار کا قربانی کا
آج آرام و آسائش کے تمام اسباب میسر ہونے کے باوجود بھی انسان بے کلی اور بے اطمینانی کا شکار ہے جدید ٹیکنالوجی کے اس دور نے جہاں انسانی فطرت سے بہت سی چیزیں دور کر دی ہیں وہیں مسلم معاشرے میں رمضان کا حسن اور تقدس بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا.
ہر انسان کو اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کرنی چاہیے کہ رمضان المبارک میں کس طرح جدید ٹیکنالوجی کے مضر اثرات سے خود کو اور اپنے اہل خانہ کو بچائے تاکہ ماہ مقدس کا ایک ایک لمحہ سب کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بن جائے۔
رمضان تعلق باللہ کے حصول میں یکسوئی کا مہینہ ہے غیبت اور لاحاصل بحثوں سے اجتناب اور پرہیز کا مہینہ ہے قیام اللیل کا مہینہ ہے اپنے وقت کو بربادی سے بچانے کا مہینہ ہے الغرض یہ کہ رمضان 11 ماہ کے لیے ایک ٹریننگ کا مہینہ ہے جس طرح ایک شخص میدان عمل میں اترنے سے قبل تربیت کے عمل سے گزرتا ہے تاکہ مفوضہ امور کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی اور کمی نہ رہ جائے بعینہ رمضان گیارہ ماہ کے لئے تربیتی کورس ہے ۔
رمضان اللہ تعالی کی رحمت ومغفرت اور نئی شروعات کا مہینہ ہے ایسا مبارک موسم جو عبادت کے ساتھ فہم قرآن، اصلاح قلب ،کردار میں پختگی لآکر زندگی کو اجتماعی بیداری کی طرف لے جاتا ہے۔
یہ مہینہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نہیں بلکہ جسم کے تمام اعضاء کو اطاعت الہٰی میں لگا دینے اور اس کے احکام پر سر تسلیم خم کردینے کا نام ہے۔
ماہ رمضان تزکیہ اور دلوں کی اصلاح کا موسم بہار ہے گناہوں کو بخشوانے کا زریں موقع ہے انسان اگر بھوک اور پیاس برداشت کر لے لیکن اپنے کردار کی اصلاح نہ کر پائے تو ایسے بھوک اور پیاس کی حاجت اللہ کو نہیں ہے۔
رمضان میں جہاں ایک طرف لوگ اللہ تبارک و تعالی کی بندگی اور اس کی خوشنودی میں لگے رہتے ہیں وہیں دوسری جانب جانے انجانے میں ان امور کے مرتکب ہوبھی جاتے ہیں جو روزہ کو متاثر کرتے ہیں خصوصا افطاری اور سحری کے وقت کھانے پینے کے نظام کو لے عوام الناس بڑی لاپروای کا شکار ہوتی ہے متنوع و مختلف قسم کے پکوان سے دسترخوان بوجھل ہو جاتے ہیں جو جائز حدود سے نکل کر اسراف اور فضول خرچی کے زمرے میں داخل ہو جاتا ہے رمضان ہو یا غیر رمضان ہمہ وقت انسان کو اسراف و فضول خرچی سے اجتناب کرنا چاہیے خصوصا ایسے ماحول میں جہاں بھوکوں اور مجبوروں کی کثرت ہو آج پوری دنیا میں متزلزل صورتحال اور معاشی نا ہموارہی کی بنا پر ایک طرف جہاں فاقہ کشوں اور ناداروں کی کثرت ہو رہی ہے دو وقت کی روٹی کے لیے لوگ مجبور ہیں وہاں مختلف قسم کے پکوان سے دستر خان کو بوجھل کرنا کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے ۔
اقوام متحدہ کی فوڈ ویسٹ انڈیکس 2024 کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوتوں اور سیر سپاٹوں میں جوکھانا ضائع ہوتا ہے وہ تو ہوتا ہی ہے گھروں میں سب سے زیادہ کھانا ضائع ہوتا ہے۔
دیا ہے رب نے تو بے شک تم اس کو خرچ کرو
مگر بقدر ضرورت ہو بے حساب نہ ہو
جہاں سے تنگ ہو چادر وہیں سمٹ جاؤ
بہت زیادہ نہ تم پیر اپنے پھیلاؤ
خدا نے صاف کہا ہے یہ بیچ قراں کے
فضول خرچ جو ہیں بھائ ہیں وہ شیطاں کے
رپورٹ کے مطابق ایک دن میں دنیا والے جو جھوٹا یا باسی سمجھ کر جتنا پھینک دیتے ہیں اس سے 100 کروڑ لوگوں کا پیٹ بھر سکتا ہے انقلاب ادارتی صفحہ مضمون نگار شمیم طارق مورخہ 14/2/26
رمضان کے مہینے میں عموما یہ دیکھا جاتا ہے کہ افطاری کے وقت طرح طرح کے پکوان سے لوگ لذت کام و دہن کا کام کرتے ہیں اس کے بعد اس کا کچھ حصہ بچ جاتا ہے جسے ضائع و برباد کر دیتے ہیں۔
ہندوستان جہاں کسان کو انیہ داتا اور بھگوان کا درجہ دیا جاتا ہے وہاں 2021 میں 88 اعشاریہ چھ کروڑ ٹن اور 2022 میں 80 ہزار سات کروڑ ٹن کھانا برباد ہوا جبکہ عام حالات میں بھی ایک اعشاریہ 74 فیصد ہندوستانیوں کو غذائیت سے بھرپور غذا نہیں ملتی دنیا بھر میں ایسے لوگ 83 کروڑ ہیں جو بھکمری کا شکار ہیں 78 کروڑ لوگ خالی پیٹ سونے کو مجبور ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق 2022 میں 105 کروڑ ٹن کھانا برباد ہوا اس میں ایک اعشاریہ63 کروڑ ٹن وہ کھانا تھا جو گھروں میں برباد ہوا خراب ہونے والی غذا میں 20 فیصد کو کوڑا کرکٹ میں پھینکا گیا یعنی غذا کو بچانے کی تدبیر کی گئی نہ بچ رہی غذا کے صحیح استعمال کی کوشش کی گئی۔
یہ تشویشناک صورتحال سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ کیا اہل دنیا اتنے بےحس ہوچکے ہیں کہ اطراف کی بھکمری انہیں نظر نہیں آتی۔
رمضان موجودہ تشویشناک صورتحال سے باہر نِکالنے کا بہترین مہینہ ہے کیونکہ جب انسان خود بھوکا پیاسا ہو گا تبھی اسے دوسروں کی بھوک و پیاس کا احساس ہوگا اور جب احساس ہوگا تب مذکورہ تکلیف دہ صورتحال کی تدارک کی کوششیں کرےگا۔
رمضان ہمیں ضبط نفس کا پیغام دیتا ہے رمضان میں بھی اگر ہم اپنے نفس پر ضبط نہ کر سکیں اپنی خواہشات کو لگام نہ لگا سکیں اور اپنے جذبات پر کنٹرول نہ کر سکیں تو ایسا روزہ بے مقصد ہے۔
رمضان میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ گھروں ، افطار کی محفلوں اور عشائیوں میں کافی کھانا ضائع ہوتا ہے ماہ رمضان المبارک ہمیں پیغام دیتا ہے کہ ہم ان تمام چیزوں پر قدغن لگائیں جو ہمارے روزہ کو برباد اور ہمارے کردار کو زنگ الود کرتی ہیں ہے۔
کوشش یہ ہو کہ رمضان میں عبادت بڑھے، اخلاق نکھرے اور خدمت خلق عام ہو تاکہ ہمارے گھروں کی اصلاح سے ہمارے محلوں اور معاشرے میں خیر پھیلے رمضان کا اصل اثر اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب مسلمان اپنے گھر محلہ بازار دفتر اور سماج میں ایسا کردار پیش کریں کہ لوگ اسلام کو بحث اور شور سے نہیں بلکہ اخلاق اور خدمت سے پہنچانے اگر کوئی اپنے پڑوسی کو روزہ رکھے دیکھے تو اسے محض ایک مذہبی عمل نہیں بلکہ خود سازی ،ضبط نفس اور بہترین انسان بننے کی سنجیدہ کوشش کے طور پر بھی دیکھے ،یہی نرمی اور حسن سلوک دلوں کو قریب اور بدگمانیوں کو کم کرتا ہے ۔
رمضان اس لیے نہیں آتا کہ ہم اچھا اچھا جوڑا جامہ تیار کر لیں انواع و اقسام کے کھانوں سے اپنے دسترخوان کو سجا لیں رمضان آتا ہے ہمیں ثابت قدم کرنے زیادہ با اخلاق زیادہ باخبر اور زیادہ رحم دل بنانے کے لیے ۔








