جدید سائنسی اختراعات اور محیر العقول ایجادات نے ایک طرف جہاں لوگوں کی زندگیوں کو آسان بناکر انہیں ہمدوش ثریا کیا تو دوسری جانب اسکے بے محابا استعمال نے لوگوں میں خود غرضی و خود فریبی کی ایسی مضر بیماری پیدا کردی جس سے بیشتر افراد معاشرہ متاثر ہوۓ، بہت کم ایسے ہیں جو اس قبیح بیماری کا شکار نہ ہوۓ ہوں الا ماشاءاللہ ۔
خود فریبی محض ایک اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ یہ ایک گہری نفسیاتی کیفیت ہے جو انسان کے شعور، ترجیحات اور اس کے فیصلوں کو اندر سے متاثر کرتی ہے یہ وہ پردہ ہے جس کے پیچھے انسان اپنی کمزوریوں، غلطیوں اور ناکامیوں کو چھپا کر اپنے آپ کو مطمئن رکھنے کی کوششیں کرتا ہے اور ہمہ وقت ہم چنین دیگرے نیست کے خول میں بند ہوتا ہے ۔
خود فریبی نفس امارہ کی وہ خطرناک چال ہے جو عقل پر پردہ ڈال کر انسان کو گمراہی کے دلدل میں گرا دیتی ہے اللہ تعالی نے قرآن میں اسی انسانی کیفیت کو بلیغانہ انداز میں فرمایا فرمایا
يخادعون الله والذين آمنوا وما يخدعون الا انفسهم وما يشعرون
وہ لوگ اللہ اور ایمان والوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو دھوکا نہیں دیتے اور انہیں شعور نہیں ہوتا
خود فریبی کی ایک نمایاں شکل اخلاقی جواز ہے۔ انسان اپنے غلط اعمال کو درست ثابت کرنے کے لیے انہیں اچھے نام دے دیتا ہے چنانچہ ظلم و زیادتی کو حکمت و دانائی دھوکہ کو چالاکی و ہوشیاری، کمزوری کو مجبوری اسراف کو ضرورت وغیرہ بنا کر پیش کرکے یہ سمجھتا ہے کہ وہ معاشرے کو بلندیوں پر مہمیز کر رہا ہے جبکہ اپنے ساتھ وہ خود گردوپیش کو بھی قعر عمیق میں دھکیلنے کی ناروا کوشش کرتا ہے اور اسے احساس تک نہیں ہوتا ۔
قرآن مجید نے اسی کیفیت کو بیان کیا ہے:
واذا قيل لهم لا تفسدوا في الارض قالوا انما نحن مصلحون الا انهم ھم المفسدون ولكن لا يشعرون
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں کہ ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں خبردار! یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں مگر انہیں شعور نہیں
اسباب عوامل
انسان کو خود فریبی میں مبتلا کرنے والے بہت سارے اسباب عوامل ہو سکتے ہیں انہیں اسباب میں ایک اہم سبب نفسیاتی خوف بھی ہے ۔کہ انسان اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کو بیان کرنے سے ڈرتا ہے ڈرنے کی وجہ یہی ہے کہ اس کی انا اس کے سامنے آتی ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ اس کی غلطیاں اور اس کی کمزوریاں لوگوں پر آشکارا ہوں اسی لیے وہ حقیقت سے دور بھاگتا ہے اور دوسروں کے عیوب نقائص کو اچھال کر سرخ رو بننا چاہتا ہے۔
فرد کا یہ خوف اسے دھیرے دھیرے کتمان حق کے دلدل میں گراکر اس کی شخصیت کو مخدوش و مجروح کردیتا ہے اور وہ معاشرتی دباؤ کو نہ جھیل کر خود فریبی میں جینے کا عادی ہوجاتا ہے کیونکہ جب معاشرہ کسی غلط رویے کو معمول بنا دیتا ہے تو فرد بھی اسے درست سمجھنے لگتا ہے اور اپنی ضمیر کو خاموش کرنے کے لیے خود فریبی کا سہارا لیتا ہے۔
خود فریبی انسان کی ایک ایسی خفیہ بیماری ہےجو اسے اصلاح حال سے روک دیتی ہے اسے حقیقت سے دور کر دیتی ہے خود فریبی میں مبتلا شخص کو وقتی سکون اور اطمینان تو مل جاتا ہے لیکن اصلاح کے دروازے اس کے لیے بند ہو جاتے ہیں۔
ںخود فریبی انسان سے تسلیم حقیقت کی صلاحیت سلب کرلیتی ہے بنابریں اس بیماری میں مبتلا آدمی اپنے اقران و معاصرین کی حقیقی ترقی سے گھبرا کر انکی کاوشوں کو پاۓ حقارت سے ٹھکرا دیتاہے کیونکہ تسلیم کرنے کی صورت میں اسے تکلیف دہ مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اس لئے وہ حقیقت کا مواجہہ کرنے سے خائف ہوکر متاعِ غرور کا سودائی ہوجا تا ہے اور انجام کار خسران ونقصان ہوتا ہے۔
فریب نفس کا شکار انسان اگر کسی عہدے اور منصب پر فائز ہو تو اسکے لہجے میں فرعونیت، بود وباش میں قارونیت اور ملازمین سے تخاطب میں ہامانیت شامل ہوتی ہے خود فریبی میں مبتلا شخص سے امانت و دیانت داری، تواضع انکساری کی توقع عبث ہے ایسا شخص نخوت اور گھمنڈ کا مظاہرہ کرنے سے بھی باز نہیں آتا چھوٹوں سے شفقت اور بڑوں کا احترام، مظلوموں کی داد رسی کی امید ایسے لوگوں سے کم ہی کی جانی چاہیے ، کذب بیانی اور دروغ گوئی سے وہ اپنی زبان کو آلودہ کرنے میں بھی پیچھے نہیں ہوتا لوگوں کے ساتھ مکر و فریب اور دغا بازی ایسوں کے خمیر میں شامل ہوتی ہے۔
الغرض کہ خود فریبی ایک ایسی معیوب خصلت اور نفسیاتی بیماری ہےجو انسان کو صرف دنیا ہی نہیں بلکہ عقبی میں بھی ذلت و رسوائی سے دو چار کرے گی کیونکہ خود فریبی رب فراموشی کا راستہ ہموار کرتی ہے
عبدالمبین محمد جمیل سلفی ایم-اے 10/4/2026








