ذکر مولانا ابوالکلام آزاد

اب چمن میں اس وضع کا گل نہ کھلنے پائے گا

مولانا آزاد سے مولانا محمد علی کی معاصرانہ چشمک ایک طبعی امر تھا لیکن جب دونوں ایک ہی تحریک کے دست و بازو ہوۓتو مولانا محمد علی نہ صرف مولانا آزاد کی معجز نگاریوں اور جادو بیانیوں کا اعتراف و اعلان کرتے بلکہ ان کے دماغ کو عربی ذہانت اور عجمی فطانت کا شہپارہ کہتے تھے آپ نے اس زمانے میں لاہور کے ایک جلسے عام کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا:

"ابوالکلام نے ہندوستان میں گمشدہ اسلام کو دریافت کیا ہے وہ ایک یگانہ عصر انسان ہیں”۔

مولانا شوکت علی لاہور میں شہید گنج کانفرنس کی صدارت کے لیے آئے تو خلیفہ شجاع الدین کے ہاں کسی طرح مولانا آزاد کا ذکر چھڑ گیا فرمایا :

"وہ قرن اول کے مسلمانوں کی ذہنی فراست کا نمونہ ہیں ان میں ایک ہی نقص ہے کہ عوام سے پرہیز کرتے ہیں ورنہ فقہی میدانوں میں جن راست باز زبانوں کے سوانح وافکار پڑھ کر دل کو ایک گونا مسرت اور دماغ کو حیرت ہوتی ہے کہ اس پائے کے عظیم لوگ بھی ہم میں تھے مولانا ازاد فی زمانہ ان کی تصویر ہیں”۔

مولانا حسین احمد مدنی نے مولانا سے متعلق کئی دفعہ اظہار کیا کہ وہ آیات من اللہ میں سے ہیں ابوالکلام نہ ہوتے تو ہندوستان میں مسلمانوں کا انقلابی سفر دیر تک معطل رہتا ایک جامع الصفات انسان ہیں کہ اس قسم کے انسان صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔

علامہ انور شاہ کشمیری سے متعلق مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی نے بتایا کہ مولانا آزاد دیوبند میں قاسم نانوتوی اور شیخ الہند کی قبروں کے پاس ٹہل رہے تھے علامہ انور شاہ نے دور سے دیکھا تو فرمایا وہ دیکھو علم ٹہل رہا ہے، فرمایا ابو الکلام نے "الہلال” کا صور پھونک کر ہم سب کو جگایا سید سلیمان ندوی اور مولاناعبد السلام ندوی ہوں یا مولانا امین حسن اصلاحی سبھوں نے مولانا کی عبقریت کا اعتراف بخوبی کیا ہے۔

مولانا امین حسن اصلاحی نے ابو سعید بزمی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابوالکلام کا دماغ کئی ہزار دماغوں کا نچوڑ ہے مولانا ابو الاعلی مودودی کی دعوت قرآن میں الہلال کے دور اول کی واضح چھاپ موجود ہے قاضی عبدالغفار کا طرز تحریر اپنا تھا لیکن حسن تحریر میں مولانا کا رنگ جھلکتا تھا فی الواقعہ مولانا آزاد کا دماغ قدرت کا معجزہ تھا وہ ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی قیادت کا ایک عظیم عہد تھے۔

پروفیسر ال محمد سرور نے مولانا کو فکر و نظر کی معراج پر دیکھا اور ان کی محراب عظمت پر اپنے قلم کی پیشانی کو جھکا دیا نیاز فتح پور نے شورش کاشمیری سے بیان کیا کہ ابو الکلام بنا کر قدرت نے وہ سانچہ ہی توڑ ڈالا جس میں اس عبقریہ روزگار کو ڈھالا تھا۔

سید سلیمان ندوی کے مولانا سے ناراضی بے قابو ہو گئی عبدالماجد دریا ابادی نے ایں وآں شروع کی تو دارالمصنفین کے ایک پرانے رفیق مولانا سعید احمد انصاری نے شورش کاشمیری کو اپنے والا نامے میں لکھا کہ ابوالکلام سے حسد نہ کی جائے تو کس سے کی جائے وہ جواب دینے کے عادی نہ تھے اور یہ لوگ نشتر زنی کے بغیر جینے سے معذور،

ابو الکلام شاہ ولی اللہ کے بعد مسلمانوں کی سب سے بڑی ذہانت کا نام تھا۔غلام رسول مہر پنجاب کے بہت بڑے صحافی اور بلند پایہ انشاء پرداز تھے ان کو تحقیق و تنقید کے علاوہ سیاسی میدانوں میں کمال حاصل تھا وہ انگریزی، عربی، فارسی اور اردو میں بلند پایہ ادیب تھے انہوں نے ایک مکتوب میں لکھا ہے:

"ہم نے مولانا کے معاملے میں کفران نعمت کیا ان کی فراست سے فرار ہماری عقلوں کا الحاد تھا، مولانا ہندوستان میں عرب و عجم کی نفاستوں کا پیکر تھے ،میں نے خود زندگی کا آغاز الہلال کے مطالعہ سے کیا میرے قلم کا ذوق مولانا کے اسی فیضان نگاہ کا نتیجہ ہے لیکن ہم نے مولانا کے علم و عمل کو ٹھکرا کر شومی قسمت خرید کی ہے مولانا کا وجود اس دھرتی کے لیے اللہ کا ایک عطیہ تھا ہم نے اسے اسی طرح کھو دیا جس طرح اندھا بینائی کھو چکا ہوتا ہے "۔

اختر شیرانی جو اردو کے ایک بہت بڑے محقق محمود شیرانی کے بیٹے ہیں خود بھی اعلی پاۓ کے شاعرمانے جاتے ہیں کہا کرتے تھے ہندوستان میں مسلمانوں کی ادبی ذہانت کے محور تین ہیں نمبر ایک ابو الفضل نمبر دو مرزا غالب نمبر تین مولانا آزاد۔

سیماب اکبر آبادی اردو کے بہت بڑے استاذ شاعر ہیں پاکستان بنا تو کراچی اگئے وہیں انتقال کیا انہیں تاج محل سے حد درجہ لگاؤ تھا ان کے مجموعہ ہائے کلام میں تاج محل پر بہت سی نظمیں ہیں مولانا آزاد کا ذکر آیا تو کہنے لگے تقسیم نے ہم سے انہیں چھین لیا وہ انسانوں کا تاج محل تھے ۔

جوش ملیح آبادی جو اپنی ذات سے باہر چھانکنے کا قائل ہی نہیں تھا خود کو باکمال سمجھتا تھا لیکن مولانا آزاد کے سامنے اور ان کی محراب عظمت کے حضور وہ خود سجدہ ریز تھا فرماتا ہے مولانا انفاس روزگار میں سے تھے اور صدیوں تک ان کا نچوڑ پیدا ہونا مشکل تھا۔

گاندھی جی نے اپنے ساتھیوں میں مولانا کو تاریخ کا سب سے بڑا عالم اور اپنا استاد کہا۔

جواہر لال نہرو کے خیال میں مولانا جدید و قدیم ہندوستان کی تعلیم و تہذیب کا فکری مجسمہ تھے ۔

پنڈت موتی لال نہرو کہا کرتے تھے مولانا کے عناصر اربعہ آگ، پانی، ہوا، مٹی نہیں بلکہ علم ،فکر، فہم اور تدبر ہیں ۔

بھولا بھائی ڈیسائی جو انڈین نیشنل کانگرس کے اعلی قیادتوں میں سے ایک اہم قائد تھے جن کا مولانا سے کچھ سیاسی اختلاف بھی تھا لیکن مولانا کے متعلق ایک کتاب کے طابع کو لکھا کہ مولانا کمالات و محاسن کا ایک ایسا مجموعہ ہیں کہ ان کی ذات ہندوستانی فلسفے ،حجاز کے حافظے ،ایران کے حسن اور جدید یورپ کے دانش علم سے لدی پھندی نظر آتی ہے۔

وہ ہندوستان جو 1920 میں ابھرنا شروع ہوا اس میں صرف گاندھی اور مولانا ابوالکلام آزاد دو شخصیتیں ایسی تھیں جن سے ہندوستان کی جدید لیڈرشپ پیدا ہوئی لیکن گاندھی کا واسطہ انسانوں کی اس جماعت سے تھا جو بت کدے سے اٹھی اور اس کی روایتوں کو اپنے مذہب کی اساس سمجھتی تھی اس کے لیے افراد ہی پوجا کے لائق تھے گاندھی جی نے اپنے دور کی لیڈرشپ کو جنم دیا پروان چڑھایا اور جواہر لال بنا دیا لیکن مولانا آزاد اس قوم کے فرد تھے جس کی تلواریں اپنی ہی اکابر کے لہو سے گلنار رہی ہیں دبستان الہلال سے جو لوگ تیار ہوئے وہ سیاست و سعادت کی وادیاں ضرور قطع کرتے رہے لیکن جس قوم کے اعضا و ارکان تھے اس کے خارستان میں تلوے سہلاتے رہے

ابوالکلام سب کچھ تھا لیکن اس سب کے باوجود اخر دم تک تنہا رہا، اس کی تربیت گاہ میں کوئی جواہر لال نہ تھا اس کے اخری شب و روز جنگل میں سرما کی چاندنی رات تھے یا پھر ہجر کے آنسو ،کہ شب کا سناٹا اور صبح کا اجالا دونوں تماشائی ہوتے ہیں ۔

شورش کاشمیری نے گاندھی جی سے سوال کیا کہ ہندوستان میں آپ کی پوری سیاسی عمر مولانا کے ساتھ گزری ہے اس طویل تجربے میں آپ نے ان کے متعلق کیا رائے قائم کی ہے گاندھی جی نے فرمایا آپ کا سوال پیچیدہ ہے رفقا کے متعلق رائے دینا آسان نہیں مولانا علم کے شہنشاہ ہیں میں انہیں افلاطون ارسطو کی سطح کا ویسا ہی انسان سمجھتا ہوں، تاریخ کے بہت بڑے عالم ہیں کانگرس ورکنگ کمیٹی میں جہاں تک تاریخ کے شعور کا تعلق ہے کوئی بھی ان کا ہم پایا نہیں سب ان سے پیچھے ہیں اردو زبان ان کی لونڈی ہے وہ عربی و فارسی کے جید عالم ہیں خطابت کے فن میں ڈیواسی کے ہم رتبہ ہیں مولانا کو ہم نے دیکھا اور سنا ہے ایک سائنسداں کے انداز میں بات چیت کرتے ہیں اور مباحث کی بو قلمونی کو چند فقروں ہی میں نتیجے پر لے آتے ہیں آل انڈیا کانگرس کمیٹی میں پیچیدہ ،پہلودار اور دقیق قرارداد مولانا ہی پیش کرتے اور اندرونی اپوزیشن کو چت کرتے ہیں ،جہاں تک کلام میں تاثیر اور اس میں سحر کا تعلق ہے اس وقت ہندوستان بھر میں کوئی شخص ان کی نظیر نہیں مولانا کی ذہانت ہندوستان کے لیے عطیہ الہی ہے ۔

پنڈت جواہر لال نہرو کو مولانا آزاد سے ہمعصری کے باوجودبڑی گہری عقیدت تھی پنڈت جواہر لال نہرو کے بقول کانگرس کی عظیم الشان تجویزوں اور ہم فیصلوں میں مولانا کی مسلسل رفاقت کی عزت حاصل رہی کانگرس کی تاریخ میں اور ہندوستان کی تاریخ میں بہت کم لوگ اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ کانگرس کی تجویزان کی تراش خراش میں مولانا کا زبردست ہاتھ کس طرف مصروف رہا ہے۔

مولانا عام دنیا سے بالکل مختلف اور نرالے سیاستدان ہیں آپ ایک کامیاب سیاست دان کے طبعی مزاج سے بالکل معری ہیں باوجود ایک موثر اور پروقار مقرر ہونے کے شور ہنگامہ خیزیوں سے بہت گھبراتے تھے ان کو عوام میں تقریر کرنے کے لیے آمادہ کرنا کوئی اسان کام نہیں حق یہ ہے کہ ان کی اصل خصوصیت علم و فضل تھی حالات کی نزاکت نے انہیں حرکت و گردش کی زندگی پر مجبور کر دیا ہے۔

سردار ولبھ بھائی پٹیل فکری سطح پر ایک طرح سے مولانا سے اختلاف رکھنے کے باوجود مولانا کے بارے میں اپنی اجتماعی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا مولانا کی ذہانت وفطانت، فراست ،تدبر ،علم اور ان سب کی گہرائی و گیرائی مجھ ایسے عقل کھرے انسان کے رد و قبول کی محتاج نہیں وہ دمشق وبغداد اور دہلی کی مسلمان سلطنتوں کے عہد کمال کی عبقریت کا آخری وجود ہیں انہیں قدرت نے ہندوستان کے زمانے ابتلا میں پیدا کیا وہ ہندوؤں میں ہوتے تو مہاتما تلک اور مہاتما گاندھی ہوتے ہندو عوام انہیں رشیوں کی طرح پوچھتے لیکن مسلمانوں نے ان سے وہ سلوک کیا جو کلیسا اور مذہب کے معرکہ میں یورپ کے کوتاہ فکر پادریوں نے نئی دنیا کے رہنماؤں سے کیا تھا۔

اسی طرح سردار جی نے مولانا کی شخصیت کو کانگرس کے وجود میں دماغ کہا ہےڈاکٹر راجندر پرشاد جو ہندوستان کے پہلے صدر جمہوریہ ہیں ان کا اردو خط اور اسلوب تحریر نہایت عمدہ تھا شورش کاشمیری کی استفسار پر مولانا کے متعلق جو انہوں نے کہا تھا مہا دیو ڈیسائی جو گاندھی جی کے سیکرٹری تھے انہوں نے مولانا سے متعلق ایک کتاب لکھی تھی شورش کاشمیری کے استفسار پرراجندر پرشاد نے کہا کہ ہم سب گاندھی وادی ہیں اور ہم سب کی رائے مولانا کے متعلق وہی ہے جو مہادیو ڈیسائی نے اپنی کتاب میں لکھ دیا ہے مہادیو ڈیسائی نے کیا لکھا انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ "مولانا کی شخصیت میں اتنا جذب اور کشش ہے کہ ان کی ہر جگہ تعظیم کی جاتی ہے کانگرس میں اپنی مثال آپ نہیں رکھتے ان کے اعجاز بیان سے انسان مسحور ہو جاتا ہے ان سے بڑھ کر کانگرس میں اور کوئی معاملہ فہم سیاستدان اور سیاسی جوڑ توڑ کرنے والی شخصیت نہیں گاندھی جی سیاسی زندگی کی انتہائی خطرناک مراحل میں ہمیشہ ان سے رجوع کرتے ہیں, موتی لال نہرو اور سی آر داس ان سے مشورہ کیے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتے تھے۔

ڈاکٹر راجیندر پرساد مہادیو ڈیسائی کی تحریروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ گاندھی وادی لیکن مولانا گاندھی جی کے ساتھ ہی اور ان کے رفیق جہد ہیں، اپنی بے پایاں انا کے باعث بڑے سے بڑے شخصی حریف کی خرافات کا جواب نہیں دیتے ان کے نزدیک ذاتیات کی جنگ ناقابل اعتنا ہے اس کو بدرومیں روڑے پھینکنے کی مصداق سمجھتے ہیں جس کے چھینٹیں اڑ کر اپنے ہی بدن پر اثتے ہیں۔

مولانا کے متعلق راجندر پرشاد کا ایک مضمون الجمعیہ دہلی کے ابو الکلام نمبر میں شائع ہوا تھا اس میں انہوں نے لکھا ہے جب شورش کاشمیری نے ان سے پوچھا کہ چندر بوس کانگرس کی صدارت سے مستعفی ہوئے اور آپ نے صدارت کا چار سنبھال لیا تو سبھاش بابو کا غصہ مولانا کے خلاف زیادہ تھا وہ اپنے بیانوں میں انہیں مغل اعظم کہتے اور اس طرح بیان دیتے گویا ان سے جو سلوک ہوا اس کے مسئول مولانا ہیں ،مولانا محمد علی جوہر کانگریس سے الگ ہوئے تو ان کا غصہ بھی مولانا کے خلاف تھا قائد اعظم بھی مولانا ہی کو معتوب کرتے ہیں اخر اس کی وجہ کیا ہے؟ راجیندر پرشاد نے جواب دیا اس کی وجہ مولانا کی ہمہ گیر شخصیت اور ان کا علم ہے مولانا پبلک جواب کبھی نہیں دیتے اور نہ تو تکار جانتے ہیں وہ اپنے منفرد مقام سے قومی سیاسی اور جماعتی نوعیت کے مسئلوں کو صاف کرتے ہیں تو ان کی ذہانت کا ٹکراو دوسرے سے ہوتا اور ان کے لیے غصے کا موجب بنتا ہے سبھاش بابو محسوس کرتے تھے کہ مولانا کی ذہانت نے ان کے وار کو روک کر کند کر دیا ہے وہ ان کے خلاف ہو گئے۔

مولانا محمد علی کا ٹکراؤ مولانا آزاد کی شخصیت سے نہیں ان کے علم سے تھا اور وہ اس کے تاب نہ لا سکتے تھے، قائد اعظم محض سیاستدان ہیں اور گاندھی کے مد مقابل ہو کر لڑنا چاہتے ہیں مولانا ان کے ہم مذہب ہیں اور انہیں اسلام کے بارے میں بحر بیکراں کا درجہ حاصل ہے اور اسلام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرتے قائد اعظم نے مسلمان عوام کی اسی عصبیت کو سیاسی اسلحہ بنا لیا اور یہی قائد اعظم کے مولانا سے ٹکراؤ کا سبب ہے۔ راجیندر ر پرساد نے بالاخر کہا مولانا ہندوستان کے 15 سو سال کی تاریخ کے اسلامی واآریائ ارتقا کا نچوڑ ہیں ۔

آج ہندوستان کی عمارتوں میں سب سے زیادہ خوبصورت عمارت تاج محل ہے اور انسانوں میں سب سے زیادہ خوبصورت انسان ابو الکلام ہیں ۔اآپ کے اس قلق سے متفق ہوں کہ ان کے ہم مذہبوں نے ان کی قدر نہیں کی فی الواقعہ اور ہندوستان کے شوالے میں وہی اذان ہیں جو گنگا و جمنا کے کناروں پر قافلۂ اسلام کی آمد سے پہلی بار گونجی تھی۔

عبد-سلمبین-سلفی-Abdul-Mubeen-Salafi

عبد المبین محمد جمیل سلفی (ایم اے)

عبد المبین محمد جمیل سلفی ایک نوجوان اسلامی اسکالر، معروف کالم نگار اور معتبر تعلیمی شخصیت ہیں۔ جامعہ سلفیہ بنارس اور سدھارتھ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے تعلیم و صحافت کے شعبوں میں گہرا اثر چھوڑا ہے۔ "حجاب کی اہمیت وافادیت" جیسی معروف کتاب اور متعدد پمفلٹس کے علاوہ سیکڑوں مضامین لکھ کر انہوں نے عوامی سطح پر علمی و سماجی موضوعات پر روشنی ڈالی ہے۔ تین سال سے زیادہ عرصے سے صحافت کی تدریس کے ساتھ ساتھ، وہ اپنے تحقیقی مضامین اور پراثر تحریروں کے ذریعے قارئین کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ ان کا انداز بیاں واضح، دلنشین اور فکری طور پر پرکشش ہے، جو انہیں ورڈپریس بلاگرز اور جدید ذرائع ابلاغ کے لیے ایک مثالی رول ماڈل بناتا ہے۔

Leave a Comment

قلمکارواں

عبد-سلمبین-سلفی-Abdul-Mubeen-Salafi

عبد المبین محمد جمیل سلفی (ایم اے)

مولانا-ابو-العاص-وحیدی-Abul-Aas-Waheedi

مولانا ابوالعاص وحیدی (شائق بستوی)

Aamir-Zafar-Ayyoobi

مولانا عامر ظفر ایوبی

Avatar photo

ڈاکٹر حفیظ الرحمن سنابلی

Avatar photo

ڈاکٹر محمود حافظ عبد الرب مرزا

ڈاکٹر صالحہ رشید

مولانا خورشيداحمدمدنیKhursheed-Ahmad-Madni

مولانا خورشید احمد مدنی

ڈاکٹر-محمد-قاسم-ندوی-Mohd-Qasim-Nadwi

ڈاکٹر محمد قاسم ندوی

Dr-Obaidur-Rahman-Qasmi

ڈاکٹر عبید الرحمن قاسمی

جاوید اختر عمری

error: Content is protected !!