فیض احمد فیض کی نظم نگاری : ایک جائزہ

تعارف

فیض احمد فیض کا اصل نام فیض احمد خاں تھا، 1911ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم 1915ء میں حفظ قرآن سے ہوا، لیکن ژوب مکمل نہ کر سکے، سیالکوٹ کے ایک مکتب سے عربی و فارسی پڑھی، گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن و پوسٹ گریجویشن کیا، پھر تعلیم مکمل کرکے لاہور کے ہیلی کالج میں انگریزی مضمون کے استاذ بن گئے۔ کچھ سالوں کے بعد یہ ملازمت چھوڑ کر فوج میں چلے گئے۔ قیام پاکستان کے تین سال بعد لیاقت علی خاں کا تختہ پلٹنے کے الزام میں جیل کی ہوا کھانی پڑی۔ فیض کی بیشتر نظمیں اسی زمانۂ قید کی یاد گار ہیں۔

متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خون دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے
زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا؟ کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقۂ زنجیر میں زباں میں نے

فیض کی نظم نگاری کی ابتداء

فیض احمد فیض جب گریجویشن کے سال اول میں تھے تبھی سے شاعری کرنے لگے تھے ان کی پہلی نظم "معصوم قاتل” گورنمنٹ کالج لاہور کی میگزین میں 1929ء میں شائع ہوئی تھی۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ "نقش فریادی” 1941 میں شائع ہوا تھا

فیض بیسویں صدی کے اُن خوش قسمت شعراء میں سے ہیں جنہیں زندگی ہی میں بے پناہ شہرت و مقبولیت اور عظمت و محبت ملی ۔ اقبال کے استاد میر حسن سے تعلیم حاصل کی لیکن وہ اقبال نہ بن سکے اقبال نے اسلام کو انقلابی مذہب سمجھتے ہوئے اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں اس کی عظمت پیدا کرنے کی کوشش کی جبکہ فیض نے کمیونزم کے راستے انقلاب کا خواب دیکھا۔ دونوں کی شاعر ی میں یہ فرق بہت واضح ہو کر سامنے آتا ہے۔

فیض نے جب شعور سنبھالا اور شعر کہنے شروع کئے تو اُس وقت رومانیت کی لہر آئی ہوئی تھی۔ جب ترقی پسند تحریک کا آغاز ہوا تو فیض اُسکے بانی اراکین میں شامل ہوگئے۔ فیض معاشرے میں ایسا انقلاب برپا کرنے کے خواہشمند تھے جو موجودہ استحصالی نظام کو بالکل بدل کر رکھدے وہ غیر طبقاتی نظام کے قائل تھے۔

ترقی پسند تحریک کے زیر اثر غزل کو بہت نقصان پہنچا لیکن فیض نے ترقی پسند نظریات کے اظہار کے لئے بھی غزل کا پیرایہ اختیار کیا۔ اور سیاسی مزاحمتی نظمیں لکھنے کے بجائے غزلیں تحریر کیں۔ کیوں کہ اُن کا خیال تھا کہ سیاسی اور مزاحمتی ادب کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے۔

فیض رومان اور انقلاب کا ایک سنگھم

فیض بیسویں صدی کا ایسا ترقی پسند شاعر ہے جس کی ایک ہتھیلی پر رومانیت کاچراغ فروزاں ہے تو دوسری ہتھیلی پر سماجیت کی مشعل جل رہی ہے۔ فیض کے ہاں غمِ جاناں اور غم دوراں ایک ہی پیکر میں جمع ہیں انہوں نے محبت اور انقلاب کے ترانے بیک وقت گنگنائے ہیں فیض کا فنی کمال یہ ہے کہ انہو ں نے کلاسیکیت اور رومانیت کو قالبِ شعر میں ڈھال کر ایک منفرد اُسلوب اور لہجہ تخلیق کیا ہے۔درج ذیل اشعار پر غور کریں فیض کے تشبیہات و استعارات وطن کو اپنا محبوب قرار دے کر وطن سے اپنی محبت کا اظہار اس طرح کیا ہے جیسے کوئی اپنے محبوب سے اظہار کر رہا ہو۔

تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے
تیر ے ہاتھوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تارےک راہوں میں مارے گئے
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

یہ سوال فیض کی زبان پر اس لئے بھی شعر بن کر نمودار ہوا کہ کاشتکار کی محنت کا ثمر جاگیردار کی جھولی میں چلا جاتا ہے اور مزدور کے پسینے کے قطرے دولت کی شکل اختیار کرکے سرماےہ دار کی تجوری کی زینت بنتے ہیں۔

فیض اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ جب رومان و انقلاب ایک شاعر کے فن اور ذات میں ڈھل جاتے ہیں تو ترقی پسند شاعری پیدا ہوتی ہے۔ وہ سستی جذباتیت اور نعرہ بازی کے خلاف ہیں وہ صرف انقلاب کا نعرہ بلند کرکے کشت و خون کی دعوت دیتے نظر نہیں آتے بلکہ وہ نرم اور کومل الفاظ میں ہمیں انقلاب کے راستے سے روشناس کرواتے ہیں ۔ فیض اپنے تنقیدی مضامین کے مجموعے ”میزان “ میں لکھتے ہیں:

” انقلابی شاعر پر حسن و عشق یا مے و جام حرام نہیں ، اور اُس پر یہ حکم نہیں لگایا جا سکتا کہ وہ انقلابی مضامین کے علاوہ دوسرے تجربات اور دوسری وارداتوں کا ذکر نہ کرے۔“

فیض پر یہ حقیقت واضح تھی کہ روٹی ، کپڑا ، مکان وغیر ہ کے مطالبات انسان کے جسم سے متعلق ہیں اُسکی روح کی طلب روٹی کپڑے کے بجائے روحانی تسکین کی متلاشی نظر آتی ہے اور جس کی تسکین اُنہیں رومان ہی میں نظر آتی ہے۔ انہوں نے بڑی خوبصورت تشبیہات کے ذریعے اپنے محبوب کا ذکر کیا ہے۔

رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے
جیسے صحرائوں میں ہولے سے چلے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے

فیض کو سوشلزم سے وابستگی اور آزادانہ اظہار ِ خیال کی کڑی سزا بھگتنی پڑی اور اپنی زندگی کے بہترین ماہ و سال قیدمیں رہ کر گزارے لیکن فیض کی فکر پر پہرے نہ لگائے جا سکے اور نہ فیض کے نظریات پر پابندی لگائی جا سکی چنانچہ عین گرفتاری کے دوران بھی فیض نے انقلابی خیالات کا اظہار جاری رکھا۔

اے خاک نشینوں اُٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آپہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اُچھالے جائیں گے
اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں
جو دریا جھوم کے اُٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے

انقلاب کا یہ تصور کشت و خون سے ہو کر گزرتا ہے زنداں میں فیض کے دل و دماغ پر قیامت گزر گئی جب فیض کو ”غدار وطن“ کا نام دیا گیا اور وطن دشمنی کے الزامات لگائے گئے۔

اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے وہ گزری
تنہا پس ِ زنداں ، کبھی رسوا سر ِ بازار
گرجے ہیں بہت شیخ، سر گوشہ منبر
کڑکے ہیں بہت اہل ِ حکم ، برسرِ دربار

فیض ایک طرف انقلاب کے نعرے بلند کرتے ہیں اور دوسری طرف محبت کے گیت الاپتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ان کی انقلابی روح انہیں انقلاب کا درس دینے پر مجبور کرتی تھی ان کے اشعار میں رومان اور انقلاب کی وجہ سے غنائیت اور شگفتگی کے علاوہ رنگینی کا احسا س ہے اور وہ زندگی کی سچی مسرتوں سے لطف اندوز ہونے کے خواہاں ہیں رنگینی حسن اور نزاکت ِ خیال ان کے اشعار میں ہمیں انوکھے اور منفرد انداز میں نظر آتے ہیں،

سلام لکھتا ہے شاعر تمہارے حسن کے نام
بکھر گیا جو کبھی رنگ ِ پیرہن سرِ بام
نکھر گئی ہے کبھی صبح ، دوپہر کبھی شام
کہیں جو قامت زیبا پہ سج گئی ہے قبا
چمن سرو،و صنوبر سنور گئے ہیں تمام
بنی بساطِ غز ل جب ڈبو لئے دل نے
تمہارے سایہ رخسار و لب میں ساغر وجام

دوسری طرف فیض اپنے دیس اور اس کے باشندوں کی خستہ حالی ، قوم کی عزت و ناموس کی آرزانی ، لوگوں کی ناداری، جہالت ، بھوک اور غم و اندوہ کو دیکھ کر تڑپتے ہیں مگر پھر بھی ان کی شاعری میں وطن سے محبت کا اظہار ہوتاہے۔

نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کے جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھاکے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے

فیض کی پوری شاعری میں عشق اور انقلاب دونوں آپس میں اس طرح گڈ مڈ ہوگئے ہیں کہ اب ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا مشکل ہے بلکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لئے تفسیر اور تشریح بن گئی ہیں یہ صفت موجودہ دور میں کسی اور شاعر کے یہاں نہیں پائی جاتی۔

فیض کے کلام کی فکری و فنی خوبیاں

فیض اپنے کلام سے اپنے خشک زاہد اور ناصح ہونے کا تصور نہیں دیتے بلکہ پھول اور تلوار کے ساتھ ساتھ چشم و لب کی کاٹ کی باتیں بھی کرتے ہیں ۔ ان کی اُفتاد ِ طبع رومانی ہے ان کے سینے میں پیار بھرا دل دھڑکتا ہے ان کے کلام میں لطافت اور نزاکت کی روحانی فضاء چھائی رہتی ہے وہ تصورِ جاناں پر سب کچھ نچھاور کرتے نظر آتے ہیں،

تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی و رخسار و ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لٹادی ہم نے

اور دیکھیں کہ وہ محبوب کے جمال کو دیکھ کر کیا محسوس کرتے ہیں،

ترا جمال نگاہوں میں لے کے اُٹھاہوں
نکھر گئی ہے فضا تیرے پیرہین کی سی
نسیم تیرے شبستاں سے ہو کے آئی ہے
مری سحر میں مہک ہے تیرے بدن کی سی

نیم واآنکھوں میں کاجل کی لکیر فیض ایسے حسن پرست دل پر بڑا گہرا وار کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔

آج وہ حسن و دلدار کی وہی دھج ہوئی
وہی خوابیدہ سی آنکھیں وہی کاجل کی لکیر
رنگ رخسار پہ ہلکا سا وہ غازے کا اُبھار
صندلیں ہاتھ پہ دھندلی سی حنا کی تحریر

حسن ادا اور ندرت ِ بیان

فیض ندرت بیان سے قاری کواپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں اور ان کے کلام کا جتنا زیادہ مطالعہ کیا جائے نئے نئے خیالات و تصورات وا ہوتے جاتے ہیں کیونکہ ان کے ہاں ندرت بیاں اور حسن ادا کی دلکش مثالیں پائی جاتی ہیں،

ادائے حسن کی معصومیت کو کم کر دے
گناہ گار نظر کو حجاب آتا ہے

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے

وہ تو وہ ہے تمہیں ہو جائے گی الفت مجھ سے
اک نظر تم میرا محبوب ِ نظر تو دیکھو

جذبات کی ترجمانی

شاعری میں جذبات کی ترجمانی کے لئے صدق و خلوص انتہائی ضروری ہوتے ہیں صرف احساسات ، محسوسات اور جذبات کے بیان کا نام شاعری نہیں ہوا کرتا ۔ فیض کے ہاں ہمیں پر خلوص جذبہ صداقت اور اُسلوب ِ اظہار پر کامل قدرت ہمیں بھر پور انداز میں ملتے ہیں صرف دو شعر دیکھیں کیا خوب ہیں،

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگے ہیں
ہر اجنبی ہمیں محرم دکھائی دیتا ہے
جواب بھی تیرے گلی سے گزرنے لگتے ہیں

عشقیہ شاعری

فیض کی شاعری حقیقی جذبات کی عکاسی کرتی ہے ان کی شاعری میں عشق و مستی اور چاہت ومحبت کا بھی کثرت سے ذکر ملتا ہے ان کی شاعری محبت کا ایک دل آویز نمونہ ہے اس اظہار میں چاند کی چاندنی کی سی ٹھنڈک اور سکون ، باد نسیم سی نازک خرامی کے علاوہ محبت کا لوچ اور رس ہمیں دلکش پیرایے میں نظر آتا ہے۔

اس قدر پیا ر سے ، اے جان جہاں ، رکھا ہے
دل کے رخسار پہ اس وقت تری یاد نے ہات
یوں گماں ہوتا ہے ، گرچہ ہے ابھی صبح فراق
ڈھل گیا ہجر کا دن ، آبھی گئی وصل کی رات

اسلوب نگارش

دراصل فیض کا مخصوص لہجہ اور اسلوب ہی وہ جادو ہے جو قاری کو اپنا اسیر کر لیتا ہے اور ہر بار ایک نئے اندا ز میں نمودار ہوتا ہے۔ یہ فیض کے اسلوب کا ایک خاص وصف ہے کہ جدید ذہن اس کو جدید حوالے سے لیتے ہیں اور قدیم ذہن اس میں کلاسیکی رکھ رکھائو اور شیرینی تلاش کر لیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ فیض بیک وقت ، ماضی ، حالی اور مستقبل تینوں زمانوں پر محیط نظر آٹا ہے۔ یہ ان کے اسلوب کا خاصا ہے

ساد ہ زبان

فیض کی زبان سادہ اور لفاظی و مبالغہ سے مبرا ہوتی ہے۔ یہ اہم خصوصیت ہے جو انھیں ہم عصر شعراءمیں ممتاز کرتی ہے فیض جو بات کہتے ہے سیدھے سادے الفاظ میں کہتے ہیں۔ اور اس سادگی میں بلا کا درد ، تاثیر ، متوازن نشتریت اور سنجیدہ جذبات سمو دیتے ہیں۔

گر آج تجھ سے جد ا ہیں توکل باہم ہوں گے
یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں
گرآج اوج پہ ہے طالع رقیب تو کیا
یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں

تغزل

فیض کی شاعری کی اصل خوبی ان کا وہ پیرایہ اظہار ہے جس میں تغزل کا رنگ و آہنگ تہہ نشین ہوتا ہے۔ یہی طرز بیان ان کی شاعری کا امیتازی وصف ہے ۔ تعبیرات کی ندرت اور تشبیہوں کی جدت اس کے اہم اجزا ہیں ۔ ان کی نظموں میں ایسے ٹکڑے جن میں اجزاء سلیقے کے ساتھ یکجا ہو گئے ہیں۔ واقعتا بے مثال ہیں ۔بیان کی شگفتگی ایسے اجزا ءمیں درجہ کمال پرنظر آتی ہے اور پڑھنے والا کچھ دیر کے لئے کچھ کھو سا جاتا ہے۔

اس قدر پیار سے اے جا نِ جہاں رکھا ہے
دل کے رخسار پہ اس وقت تیری یاد نے ہاتھ
یوں گماں ہوتا ہے گرچہ ہے ابھی صبح فراق
ڈھل گیا ہجر کا دن آبھی گئی وصل کی رات

تشبیہات و استعارات

فیض کے طرز کلام کا دھیما پن ان کے اسلوب کی نمایاں خصوصیت ہے خیال اپنے آپ کو نمایاں کرنے کے لئے استعاروں کی جدت اور تشبیہوں کی ندرت کا سہارا لیتا ہے۔ انھوں نے ہاتھ کو بطور استعارہ بہت ہی خوبصورت طریقے سے استعمال کیا ہے۔ مثلاً

یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک

اس خوں میں حرارت ہے جب تک
اس دل میں صداقت ہے جب تک

اس نطق میں طاقت ہے جب تک

تیرے دستِ ستم کا عجز نہیں
دل ہی کا تھا جس نے آہ نہ کی

فیض تشبیہ کا استعمال بہت عمدہ طریقے سے کرتے ہیں،

رات یوں دل میں تیر ی کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے
جیسے صحرائوں میں ہولے سے چلے بادِ نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے

شعری مجموعے

نقش فریادی، دست صبا، زنداں نامہ، دست تہہ سنگ، شام شہریاراں، میرے دل میرے مسافر، کلام فیض،

"سارے سخن ہمارے” یہ فیض کے جملہ کلامکا مجموعہ ہے جو بصورت کلیات لندن سے شائع ہوا۔
"نسخہ ہائے وفا” فیض کی کلیات کا پاکستانی ایڈیشن۔