غبارِ خاطر : ایک تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

مولانا ابوالکلام آزاد اپنے عہد کے ایک ممتاز نثر نگار ہیں انہوں نے مذہب، ادب، صحافت، سیاست اور سماجیات کے مختلف موضوعات پر طبع آزمائی کی ہے وہ صاحب طرز ادیب ہیں اور اردو نثر میں وہ طرزِ نو کے بانی ہیں، مولانا کی مذہبی موضوعات پر لکھی ہوئی کتابوں کو بہت شہرت حاصل ہوئی لیکن ادبی موضوعات پر لکھی گئی کتابوں میں ان کے خطوط کے مجموعے ان کی بے پناہ شہرت اور مقبولیت کی بنیاد بنے ان کی خطوط کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں لیکن جس مجموعی نے سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کی ہے وہ ہے غبار خاطر.

غبارِ خاطر کے خطوط کے بارے میں مولانا نے اپنے دوست حبیب الرحمن خان شیروانی کو خط میں لکھا ہے ک

میری دکان میں ایک طرح کی جنس نہیں رہتی ہے لیکن آپ کے لیے لئے کچھ نکالتے ہوئے تو احتیاط کی چھلنی میں میں اچھی طرح سے چھان لیا کرتا ہوں کہ کسی طرح کی کی سیاسی ملاوٹ باقی نہیں رہتی (غبارِ خاطر :٨٧)

غبار خاطر کی نثر کا اسلوب مولانا کی تمام تحریروں سے مختلف ہے الہلال اور البلاغ کے انداز میں گھن گرج اور خطابت کا انداز تھا، ان میں پڑھنے والوں کو عربی فارسی الفاظ کے استعمال سے مرعوب کرنے کی کوشش کی گئی ہے

مولانا کی مذہبی نوعیت کی تحریروں کا انداز الہلال اور البلاغ سے مختلف ہے اس میں کوشش کی گئی ہے کہ پڑھنے والا بات کو آسانی سے سمجھ لے۔ اس کے برعکس غبار خاطر کی نثر میں بے تکلفی شگفتگی ہے، گفتگو کا انداز زبان و بیان پر مولانا کی قدرت اور کہیں کہیں مزاحیہ انداز نے نثر کو بہت دلکش کشش اور خوبصورت بنا دیا ہے۔

مولانا غبار خاطر میں عام طور سے عربی اور فارسی کے صرف ایسے الفاظ استعمال کیے ہیں جو اردو نثر میں عرصے سے استعمال ہوتے آ رہے تھے جو قاری کے لئے اجنبی نہیں، مولانا نے نثر کو ایسا رنگین بنا دیا ہے کہ ہم یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں  کہ مولانا حسین آزاد کے بعد نثر پر یہ قدرت مولانا آزاد کو حاصل ہوئی ہوئی لیکن مولانا نے اپنی علمیت دانشمندی اور ذہانت سے اپنی نثر کو مولانا محمد حسین آزاد کی نثر سے کہیں زیادہ دلچسپ اور خوبصورت بنا دیا ہے، کیونکہ اس نثر پر مولانا کی غیر معمولی علمی شخصیت کی چھاپ بھی ہے

ہمارے نقادوں کے خیال میں یہ خطوط انشائیے مضامین اور افسانے ہیں ان خطوط میں مولانا نے اپنی زندگی کے تجربوں کو اور اپنی ذاتی حالات کو شاعرانہ انداز میں بیان کیا ہے۔ ان خطوط میں بظاہر مولانا کا تخاطب مولانا حبیب الرحمن شیروانی سے ہے لیکن یہ تخاطب محض رسمی ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے خیالات کو خطوط کی شکل دی ہے۔

ان خطوط میں مولانا نے علم و فن کے موتی بکھیرے ہیں انہوں نے ان میں "چڑے چڑیا کی کہانی” اور "حکایت زاغ وبلبل” جیسے موضوعات کو بھی بہت دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے

‏ نقادوں کا آزاد کے بارے میں یہ خیال ہے کہ مولانا نے اپنی دقت نگاہ، جزئیات نگاری، اور پرندوں کے عادات و اطوار اس طریقے سے بیان کئے ہیں کہ اگر چاہتے تو تخلیقی نثر نگار بن سکتے تھے تے۔

مولانا کا شمار اردو کے رومانوی نثر نگاروں میں ہوتا ہے ہے قید خانے میں جیل کی صعوبتوں اور ہندوستان کے سیاسی حالات نے ان کے دل دماغ کو بری طرح متاثر کر رکھا تھا، یہ خطوط خود ان حالات سے فرار کا راستہ تھا تھا۔ غرض یہ کہ غبار خاطر کے خطوط اردو نثر کا بیش بہا خزانہ ہیں۔

غبار خاطر میں جو خطوط شامل ہیں وہ مختلف علوم دنیات، تاریخ، انشاء، موسیقی وغیرہ کے موضوع پر ہیں، ان خطوط کے متعلق مولانا کا وسیع مطالعہ، غیر معمولی ذہانت، قوی حافظہ، مختلف علوم کے بارے میں ان کی معلومات، فارسی عربی اور اردو قدیم و جدید پر ان کی قدرت کا پتہ چلتا ہے۔ مولانا کو اردو، عربی اور فارسی کے بیشمار اشعار یاد تھے صرف ایک "غبارِ خاطر” کی بات کریں تو اس میں ان تینوں زبانوں کے انہوں نے سات آٹھ سو اشعار نقل کیے ہیں۔

غبار خاطر کی نثر اگرچہ مشکل ہے لیکن اسے غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اردو کے بہت ہی ممتاز شاعر اور نثر نگار مولانا حسرت موہانی نے مولانا آزاد کی اردو نثر کی تعریف کرتے ہوئے لکھا تھا

جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر
‏ نظم حسرت میں کچھ مزا نہ رہا

غالب اور آزاد کے خطوط میں بنیادی فرق یہ تھا کہ غالب کے خطوط میں زندگی ہمہ رنگ رعنائیوں کے ساتھ بکھری ہوئی نظر آتی ہے جب کہ غبارِ حاطر کے خطوط کے موضوعات علمی مسائل کے مختلف پہلوؤں پر مبنی ہیں، اس طرز تحریر میں بھاری بھرکم الفاظ، تصنع، علمیت کے اظہار کی کوشش اور جذبہ نظر آتا ہے۔

غالب نے اپنے خطوط کو مکالمہ بنا دیا تھا غالب کے پچاس سال بعد ایک ایسا عالم پیدا ہوا جس نے اردو مکتوب نگاری کو نیا موڑ دیا، غالب کی طرح ان کا عالم کا نام بھی اردو میں مکتوب نگاری کی تاریخ میں زندہ جاوید رہے گا، اور وہ نام ہے مولانا ابوالکلام آزاد کا۔