شبلی نعمانی کے تنقیدی تصورات : ایک مطالعہ

الطاف حسین حالی کے بعد شبلی نعمانی اردو کے بڑے نقاد کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں، حالی کے بعد شبلی ہی وہ فنکار ہیں جن کی تحریریں فارسی شعر و ادب کے تنقیدی مطالعہ پر مشتمل ہیں، اور جن میں باضابطہ تنقیدی و ادبی اصول نظر آتے ہیں یوں کہہ سکتے ہیں کہ شبلی بھی حالی کی طرح اردو کے اولین نقادوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اردو تنقید نگاری کی بنیاد رکھی۔

 شبلی کے تنقیدی تصورات کسی ایک کتاب تک محدود نہیں لیکن ”شعر العجم” کی چوتھی جلد وہ کتاب ہے جس کی مدد سے شاعری کے متعلق شبلی کے خیالات اور تصورات کو سمجھا جا سکتا ہے۔

شبلی کے مطابق شاعری کی تعریف ایک مشکل امر ہے کیوں کہ یہ ایک ذوقی اور وجدانی چیز ہے۔ یہ ہمارے احساسات و جذبات کو چھیٹر تی ہے۔ شاعری در اصل داخلی احساسات کی تصویر کھینچی ہے۔ شاعری میں بیان کی گئی حقیقتوں کو عقلی بنیاد پر ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ 

حالی کی طرح شبلی کے یہاں بھی شعر کے لیے وزن کوئی لازمی جز نہیں تاہم حسب ذیل عناصر شاعری کے لیے لازمی ہیں :

  1.  محاکات
  2.  تشبیہیں اور استعارے
  3.  تخیل  
  4. جدت و طرزادا 
  5.  سادگی
  6.  واقعیت
  7. تاثیر

محاکات

محاکات سے مراد کسی واقعے یا شئے کا ایسا بیان ہے جس کو پڑھ کر ہمارے حواس متاثر ہوں ۔ یعنی لفظوں کی مدد سے ذہن و دل پر اس طرح کا نقش قائم ہو کہ نظروں کے سامنے اس کی تصویر سی پھر جائے۔ شبلی نے اسے شاعرانہ مصوری قراردیا ہے۔

تشبیہات و استعارات

محا کات کی طرح تشبیہیں اور استعارے بھی شعر کے لیے لازمی ہیں ۔ تشبیہوں اور استعاروں کی وجہ سے شعر کے معنی میں وسعت، کیفیت میں شدت، کلام میں لطافت، بیان میں جدت پیدا ہوتی ہے۔ وہ تشبیہیں اور استعارے موثر اور عمدہ ہوتے ہیں، جن میں متغائر حقیقتیں مثال کے لیے یکجا کردی گئی ہوں۔

تخیل

متفائر چیزوں میں اشتراک ڈھونڈ نکالنے کا عمل تخیل کے سب ممکن ہے۔ لہذا تخیل شعر کے لیے لازم ہے۔ یہ تخیل کی قوت ہی ہے جو محاکات، تشبیہات اور استعارات کو اثر انگیز بنا تا ہے۔ اگر تخیل نہ ہوتو محاکات ایک بے جان تصویر بن کے رہ جائے گا۔ شبلی نے تخیل کو اختراعی قوت قرار دیا ہے ۔ کیوں کہ شاعر اس کی مدد سے ایک نیا عالم خلق کرتا ہے۔ جو اصل عالم سے بہتر ہوتا ہے۔ تخیل کی مدد سے شاعر ایک مضمون سے کئی مضامین پیدا کرتا ہے۔ حسن تعلیل، مبالغہ، مجاز وغیرہ تخیل کے سبب معنی خیز اور اثر انگیز ہو جاتے ہیں۔

جدت و طرزادا

شعر کی اثر انگیزی کی ایک وجہ اس کا ”طرز ادا” ہے۔ خیال کو یا مضمون کو بیان کر نے کا انداز ”طرز ادا” کہلا تا ہے۔ مضمون کو ادا کرنے کا انداز ہی ایک شاعر کو دوسرے شاعر سے جدا اور منفرد بناتا ہے. کلام میں ایک لطف پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ سے شبلی کے نزد ایک مضمون یا موضوع اتنا اہم نہیں جتنا کہ لفظ۔ لہذا موزوں اور صحیح الفاظ کا انتخاب شعر مؤثر بنا تا ہے۔ شعر کی موسیقیت، شعر کی معنویت، شعر کی روانی ، شعر کی سلاست، الفاظ کے انتخاب، ان کی مناسب ترتیب، ان کا موزوں استعمال کے مرہون منت ہوتی ہے۔ ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں کہ جنہیں پڑھتے ہوئے کوئی رکاوٹ یا گرانی محسوس نہ ہو یہی روانی ہے۔

سادگی

لفظ سادہ اور آسان ہوں ۔ شبلی نے سادگی کو بھی شعر کا ایک نمایاں وصف قرار دیا ہے۔ سادگی سے مراد پڑھتے ہی شعر ہر عام اور خاص کو آسانی کے ساتھ سمجھ میں آ جائے۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب شعر میں الفاظ اپنی جگہ سے ہٹ نہ جائیں مضمون یا خیال کی ادائیگی کے لیے جتنے اجزا ضروری ہیں وہ چھوٹ نہ جائیں نہیں تو شعر میں جھول پیدا ہو جائے گا۔ الفاظ سادہ اور آسان ہوں تشبیہات اور تلمیحات اجنبی نہ ہوں۔

واقعیت و مبالغہ

شبلی کے مطابق واقعیت اور مبالغہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہونے کے باوجود شعر کے لوازم میں سے ہیں۔ کچھ علمائے فن نے واقعیت کو شعر کے لیے ضروری قرار دیا ہے تو کچھ نے مبالغہ کو شاعری کا زیور قرار دیا ہے۔ وہ اس لیے کہ شعر کی دوقسمیں ہوا کرتی ہیں۔ ایک ”تخیلی” اور دوسری ”غیر تخیلی”. تخیلی شاعری کے لیے مبالغہ ضروری ہے۔ ایسی شاعری کو واقعیت سے کوئی غرض نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیش نظر تو یہ بات رہتی ہے کہ تخیل کی مدد سے ایک ایسی کائنات تشکیل دی جائے جس سے تفریح حاصل ہو۔ جب کہ غیر تخیلی شاعری سچائی سے دلچسپی رکھتی ہے۔ اور اپنے اثرات کی مدد سے دلوں کو بدلنا اور معاشرے پر اثرانداز ہونا چاہتی ہے۔ اگر اس میں مبالغہ ہو گا تو اثر پذیری کا عنصر مفقود ہو جائے گا۔ شبلی لکھتے ہیں:

”شاعری کا مقصود اگر صرف تفریح ہے تو مبالغہ کام آ سکتا ہے۔ لیکن وہ شاعری جس سے عرب قبائل میں آگ لگادیتے تھے جس سے نوحے کے وقت در و دیوار سے آنسو نکل پڑتے تھے وہ واقعیت اور اصلیت سے خالی ہو تو کچھ کام نہیں کرسکتی۔”۔ (شعرا العجم چ2، ص82)

اس اقتباس سے ظاہر ہے کہ تخیلی شاعری کا مقصد تفریح ہوتا ہے۔اور ایسی شاعری کے لیے مبالغہ ضروری ہے اور وہ زیور کی حیثیت رکھتا ہے۔ زیور کی تشبیہ سے ظاہر ہے کہ جس طرح زیور پہننے والے کے حسن میں اضافہ کرتا ہے اسی طرح مبالغ تخیلی شاعری کے حسن میں اضافے کا سبب ہوتا ہے۔  

تاثیر

شبلی تاثیر کو بھی شعر کاایک لازمی جزو مانتے ہیں، جس شعر میں تاثیر نہ ہو پھر تو وہ محض ایک بیان ہے۔ انہوں نے ارسطو کے حوالے ان دو چیزوں کو تاثیر کے اسباب بتائے ہیں: 

  1. ہو بہو بیان کرنا یعنی اصل کے مطابق نقشہ کھینچنا۔
  2. موسیقیت

لیکن شبلی نے ارسطو کی ان دو باتوں پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں:

”شاعری صرف صرف محسوسات کی تصویر نہیں کھینچتی بلکہ جذبات و احساسات کو بھی پیش نظر کر دیتی ہے، ہم اپنے نازک اور پوشیدہ جذبات سے واقف نہیں ہوتے یا ہوتے ہیں تو ایک دھندلا سا نقش نظر آتا ہے شاعری ان پس پردہ چیزوں کو بھی پیش نظر کر دیتی ہیں اور وہ دھندلی چیزیں چمک اٹھتی ہیں”

شبلی صرف ہو بہو تصویر کھینچنے کو شاعری نہیں سمجھتے بلکہ شاعری انسان کے ان دھندلے دھندلے جذبات تک پہنچنے کا نام ہے جو باطن میں پوشیدہ ہیں یعنی وہ نرم نازک جذبات اور دل کی تہہ میں موجیں مارتے ہوئے خیالات کو ہمارے سامنے پیش کردیتی ہے، انہیں احساسات و جذبات کی عکاسی کی وجہ سے ہمیں سکون ملتا ہے انہیں شعر کے روپ میں دیکھ کر ہم اپنے جذبات سے واقف ہو سکتے ہیں شعر کا سکون پہنچانے یا جذبات کو چھیڑنے کا عمل ہی شعر کی تاثیر کہلاتا ہے۔