غزل

میں خوش نصیب ہوں ہمدم کہ میرے پاس ہے تو
تیرا لباس ہوں میں اور میرا لباس ہے تو

یہ روز و شب مِرے، یہ زندگی کے ہر اک پل
ہیں مقتبس تیری سانسوں سے، میری آس ہے تو

لٹاؤں چاہتیں، تجھ پر میں جاں نثار کروں
میں ہوں نہ ساتھ تیرے، جان، کیوں اداس ہے تو

ہزار ہوتے ، پہ تم سا کوئی کہاں ملتا
ہزار خوبیاں تجھ میں ، وفا شناس ہے تو

تمہارے شیریں لبوں سے اُدھار لے لوں کیا؟
ذرا سی قند، کہ پیاسا ہوں، میری پیاس ہے تو

جاوید اختر عمری

جاوید اختر عمری

جاوید أختر عمری کا تعلق مئوناتھ بھنجن، اترپردیش سے ہے۔ آپ نے دینی مدارس اور عصری جامعات دونوں سے تعلیم حاصل کی، اور تحقیق، تدریس، ادب و تحریر کے میدان میں سرگرم عمل ہیں۔ اسلامی ادب، سفرنامہ نگاری، اور سیرت و ثقافت جیسے موضوعات پر خامہ فرسائی کے ساتھ ساتھ آپ ڈیجیٹل دنیا میں بھی فعال ہیں۔ عربی، اردو، اور انگریزی زبانوں پر مہارت رکھتے ہوئے بلاگنگ، ویب ڈیزائننگ، اور مواد نویسی کے ذریعے معیاری علمی مواد پیش کرتے ہیں۔ روایت و جدت کے امتزاج سے علم کی خدمت کا یہ سفر جاری ہے۔

Leave a Comment

قلمکارواں

عبد-سلمبین-سلفی-Abdul-Mubeen-Salafi

عبد المبین سلفی

مولانا-ابو-العاص-وحیدی-Abul-Aas-Waheedi

مولانا ابوالعاص وحیدی (شائق بستوی)

Aamir-Zafar-Ayyoobi

مولانا عامر ظفر ایوبی

Avatar photo

ڈاکٹر محمود حافظ عبد الرب مرزا

ڈاکٹر صالحہ رشید

مولانا خورشيداحمدمدنیKhursheed-Ahmad-Madni

مولانا خورشید احمد مدنی

ڈاکٹر-محمد-قاسم-ندوی-Mohd-Qasim-Nadwi

ڈاکٹر محمد قاسم ندوی

Dr-Obaidur-Rahman-Qasmi

ڈاکٹر عبید الرحمن قاسمی

جاوید اختر عمری

error: Content is protected !!