ڈاکٹر سر محمد اقبال : ایک سوانحی تعارف

تعارف

بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان اور اور احیائے قوم و ملت کے مشن پر کام کرنے والی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو زبان اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ "دا ریکنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ ان اسلام” کے نام سے انگریزی میں ایک نثری کتاب بھی تحریر کی۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔

اقبال 9 نومبر 1877ء  کو برطانوی ہندوستان کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے والد کا نام شیخ نور محمد تھا ۔ ماں باپ نے نام محمد اقبال رکھا۔ مختلف تاریخ دانوں کے مابین علامہ کی تاریخ ولادت پر کچھ اختلافات رہے ہیں لیکن راجح قول کے مطابق آپ کی ولادت 9 نومبر 1877ء کو ہوئی تھی۔

شیخ نور محمد دیندار آدمی تھے۔ بیٹے کے لیے دینی تعلیم ہی کافی سمجھتے تھے۔  سیالکوٹ کے اکثر مقامی علما کے ساتھ دوستانہ مراسم تھے۔ ان میںبایک مولانا غلام حسن نامی بزرگ تھے یہیں سے اقبال کی تعلیم کا آغاز ہوا، انہیں سے قرآن کی تعلیم لی۔ اس کے مولانا سید میر حسن کے پاس چلے گئے اور وہاں اقبال نے اردو، فارسی اور عربی ادب پڑھی۔ اقبال کی شخصیت کی مجموعی تشکیل میں جو عناصر بنیادی طور پر کارفرما نظر آتے ہیں ان میں سے بیشتر مولانا غلام حسن صاحب کی صحبت اور تعلیم کا کرشمہ ہیں۔ سید میر حسن سر سید کے بڑے قائل تھے۔ علی گڑھ تحریک کو مسلمانوں کے لیے مفید سمجھتے تھے۔

ان کے زیر اثر اقبال کے دل میں بھی سرسید کی محبت پیدا ہو گئی جو بعض اختلافات کے باوجود آخر دم تک قائم رہی۔ مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ تو خیر اقبال کے گھر کی چیز تھی مگر میر حسن کی تربیت نے اس جذبے کو ایک علمی اور عملی سمت دی۔ اقبال سمجھ بوجھ اور ذہانت میں اپنے ہم عمر بچوں سے کہیں آگے تھے۔ بچپن ہی سے ان کے اندر وہ انہماک اور استغراق موجود تھا جو بڑے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ سولہ برس کی عمر میں اقبال نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ فرسٹ ڈویژن آئی اور تمغا اور وظیفہ ملا۔

1898ء میں اقبال نے بی اے پاس کیا اور ایم اے (فلسفہ) میں داخلہ لے لیا۔ یہاں پروفیسر ٹی ڈبلیوآرنلڈ کا تعلق میسّر آیا۔ جنھوں نے آگے چل کر اقبال کی علمی اور فکری زندگی کا ایک حتمی رُخ متعین کر دیا۔

مارچ 1899ء میں ایم اے کا امتحان دیا اور پنجاب بھر میں اوّل آئے۔ اس دوران میں شاعری کا سلسلہ بھی چلتا رہا، مگر مشاعروں میں نہ جاتے تھے۔ نومبر 1899ء کی ایک شام کچھ بے تکلف ہم جماعت انھیں حکیم امین الدین کے مکان پر ایک محفلِ مشاعرہ میں کھینچ لے گئے۔ بڑے بڑے سکّہ بند اساتذہ، شاگردوں کی ایک کثیر تعداد سمیت شریک تھے۔ سُننے والوں کا بھی ایک ہجوم تھا۔ اقبال چونکہ بالکل نئے تھے، اس لیے ان کا نام مبتدیوں کے دور میں پُکارا گیا۔ غزل پڑھنی شروع کی، جب اس شعر پر پہنچے کہ :

موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چُن لیے
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے

تو اچھے اچھے استاد اُچھل پڑے۔ بے اختیار ہو کر داد دینے لگے۔ یہاں سے اقبال کی بحیثیت شاعر شہرت کا آغاز ہوا۔ مشاعروں میں باصرار بُلائے جانے لگے۔ اسی زمانے میں انجمن حمایتِ اسلام سے تعلق پیدا ہوا جو آخر تک قائم رہا۔ اس کے ملّی اور رفاہی جلسوں میں اپنا کلام سناتے اور لوگوں میں ایک سماں باندھ دیتے۔ اقبال کی مقبولیت نے انجمن کے بہت سارے کاموں کو آسان کر دیا۔ کم از کم پنجاب کے مسلمانوں میں سماجی سطح پر دینی وحدت کا شعور پیدا ہونا شروع ہو گیا جس میں اقبال کی شاعری نے بنیادی کردار ادا کیا۔

جاوید اختر عمری

جاوید أختر عمری کا تعلق مئوناتھ بھنجن، اترپردیش سے ہے۔ آپ نے دینی مدارس اور عصری جامعات دونوں سے تعلیم حاصل کی، اور تحقیق، تدریس، ادب و تحریر کے میدان میں سرگرم عمل ہیں۔ اسلامی ادب، سفرنامہ نگاری، اور سیرت و ثقافت جیسے موضوعات پر خامہ فرسائی کے ساتھ ساتھ آپ ڈیجیٹل دنیا میں بھی فعال ہیں۔ عربی، اردو، اور انگریزی زبانوں پر مہارت رکھتے ہوئے بلاگنگ، ویب ڈیزائننگ، اور مواد نویسی کے ذریعے معیاری علمی مواد پیش کرتے ہیں۔ روایت و جدت کے امتزاج سے علم کی خدمت کا یہ سفر جاری ہے۔

Leave a Comment

قلمکارواں

عبد-سلمبین-سلفی-Abdul-Mubeen-Salafi

عبد المبین سلفی

مولانا-ابو-العاص-وحیدی-Abul-Aas-Waheedi

مولانا ابوالعاص وحیدی (شائق بستوی)

Aamir-Zafar-Ayyoobi

مولانا عامر ظفر ایوبی

Avatar photo

ڈاکٹر محمود حافظ عبد الرب مرزا

ڈاکٹر صالحہ رشید

مولانا خورشيداحمدمدنیKhursheed-Ahmad-Madni

مولانا خورشید احمد مدنی

ڈاکٹر-محمد-قاسم-ندوی-Mohd-Qasim-Nadwi

ڈاکٹر محمد قاسم ندوی

Dr-Obaidur-Rahman-Qasmi

ڈاکٹر عبید الرحمن قاسمی

جاوید اختر عمری

error: Content is protected !!