ذکر مولانا ابو الکلام آزاد

مولانا آزاد اور ترجمان القرآن

مولانا آزاد نے مسلمانوں کے روشن خیال طبقہ کو اپنے اعجاز نگارش سے بتایا کہ قرآن پاک میں غسل و عبادت کی علاوہ کائنات کے حقائق بھی پوشیدہ ہیں۔ وہ محض تنبیہ و تہدید اور تکفیر و تعزیر نہیں اصل منشور حیات ہے، کہ انسان کو زندگی بسر کرنے کے لیے ان راہوں سے گزر کے کائنات کے حقائق کا ادراک ہوتا اور اپنے خالق کو پہچان کر ان اساسات پر تکمیل ذات ہوتی ہے۔

مولانا آزاد قرآن لے کر اٹھے تو مسلمان مبہوت ہو گئے کہ 1300 برس پہلے کے اس صحیفہ میں ہر زمانہ کے لیے دعوت و تذکرہ اور رشد و ہدایت کی روشنی موجود ہے مولانا آزاد کے ترجمہ و تفسیر نے ہندوستان کے غیر مسلموں میں بھی قرآن پڑھنے کی ترغیب پیدا کی اس سے پہلے وہ قران کو نہ پڑھتے نہ اس پر غور کرتے تھے۔ اکا د کا پنڈت یاگیانی مناظرے یا مجادلے کے لیے قران پڑھتے تھے ۔مولانا کے تفسیر و ترجمہ کی ہمہ گیری نے تعلیم یافتہ ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں میں اس کے مطالعہ کا ذوق پیدا کیا ،جس سے ان کی نئی نسلوں اور بعض پرانے لوگوں میں اسلام آشنائی کی راہیں کھلیں اور اسلام کے بارے میں جن بدگمانیوں کا شکار تھے وہ رفع ہو گئیں۔ ڈاکٹر ذاکر حسین نے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ” مولانا کے ترجمان القرآن سے پہلے اردو میں کوئی ترجمہ ایسا نہیں تھا جو مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلموں کے دلوں کو بھی کھینچ سکے۔” (مولانا ابوالکلام آزاد ص309)

مولانا نے جلد اول کے آغاز میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا ایک قول نقل کیا ہے {اي سماء تظلني واي ارض تقلني اذا قلت في كتاب الله ما لا اعلم }تفسیر ابن کثیر جلد 1 ص 5″کون آسمان مجھ پر سایہ کرے گا اور کون زمین مجھے اٹھائے گی اگر میں اللہ کی کتاب سے متعلق کوئی ایسی بات کہوں جس کا مجھے صحیح علم نہیں "مولانا نے ترجمہ و تفسیر میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس قول کو بکمال و تمام ملحوظ رکھا اور ٹھیک ٹھیک وہی مطالب بیان کیے جن سے اس زمانہ کی لب تشنگیاں سیراب ہو سکتی ہیں اور جن کی غایت ہی کلام الہی ہے۔

ترجمان القرآن کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مولانا نے اسرائیلیات اور عقلیات دونوں کو ترک کیا اور کلام الہی کی روایات پر تفسیر و ترجمہ کی بنیاد اٹھائی غالبا یہی چیز مولانا کو دوسرے مفسرین سے ممتاز کرتی ہے ۔سورہ فاتحہ کی تفسیر میں رب العالمین °الرحمن الرحیم° اور °مالک یوم الدین °کے مطالب و معنی کا پھیلاؤ مولانا کے علم کی گہرائی فکر کی گہرائی اور نظر کی پہنائی کا معجزاتی اسلوب ہے ۔مولانا نے اس حسن و خوبی سے ان ہر چار صفات ربانی کی تشریح کی ہے کہ انسان افکار کی وسعت اور استدلال کی بلاغت میں اس طرح کھو جاتا ہے کہ اس کا دماغ عقل کے کنارے تک پہنچ کر حقیقت سے آگاہ ہوتا اور جان لیتا کہ قرآن پاک انسانی فلسفہ و کلام کی کتاب نہیں بلکہ الہیاتی رشد و ہدایت کا صحیفہ ہے جو انسان کو عقل کے مخمصوں سے نجات دیتا اور حکمت کی راہ پر لاتا ہے ۔مولانا آزاد نے °الرحمن الرحیم° کے مباحث کو اتنے جامع انداز میں بیان کیا کہ ان کی وسعت و تنوع اور اعجاز نہ صرف قران کے طرز مخاطبت کی ٹھیک ٹھیک تصویر ہیں بلکہ ان کا اسلوب،بیان کی دلکشی اور دل نشینی کی معراج پر ہے۔

ایک دوسری چیز جو ان مباحث سے ابھرتی ہے وہ مولانا کی زبان و بیان پر قدرت کاملہ ہے ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اردو زبان کی جامعیت میں اظہار و بیان کی پوری توانائی کار فرما ہے ۔وہ سحر کی تاثیر رکھتی ہے۔ زبان کی اس تاثیر نے جو کلام کا منتہی ہے کسی مرحلے یا موڑ میں احساس تک نہیں ہوتا کہ فلاں چیز بیان نہیں ہو سکی یا زبان نے عجز کے باعث استدلال کو ادھورا چھوڑ دیا ہے ۔انسان پڑھتا اور جھومتا ہے گویا انعام الٰہی سے بہرہ مند ہو رہا ہے ۔اور احسان کی منزل میں ہے۔

مولانا نے سورہ توبہ کی تفسیر میں قرآن اور سوشلزم کے متعلق نہایت جامع اشارے کیے ہیں فرماتے ہیں کہ "معیشت کے لحاظ سے تمام افراد و طبقات کی حالت یکساں نہیں ہو سکتی۔ اور یہ عدم یکسانیت بعض حالتوں میں قدرتی ہے۔ کیونکہ سب کی جسمانی و دماغی استعداد یکساں نہیں اور جب استعداد یکساں نہیں تو ناگزیر ہے کہ جدوجہد معیشت کے ثمرات بھی یکساں نہ ہوں ۔ بالفاظ دیگر انفرادی ملکیت کا حق تسلیم کر لیا جائے کہ جو جس قدر حاصل کر سکتا ہے وہ اس کا ہے البتہ ریاست پر فرض ہے کہ وہ دولت اور وسائل دولت کا احتکار روکے اور ہر فرد کی ضروریات زندگی اس کے فرائض کا حصہ ہوں۔ مارکسی نقطہ نگاہ یہ ہے کہ انفرادی ملکت ختم کر دی جائے اور ایسا نظام لایا جائے جو ہر لحاظ سے عدم طبقاتی ہو کہ اقتصادی و معیشی مساوات کی حالت پیدا ہو جائے اور وسائل دولت تمام تر قومی ملکیت ہو جائیں قبضہ باقی نہ رہے – مولانا کے نزدیک پہلی بات فطرت انسانی کے مطابق ہے اس میں ایک شر کو ختم کرنے سےدوسرا کوئی شر پیدا نہیں ہوتا معاشرہ میں توازن و اعتدال رہتا ہے مولانا فرماتے ہیں کہ "دنیا کا اس وقت تک کا تجربہ قومی ملکیت کے اشتراک کی تجربہ کی تائید نہیں کرتا بلکہ اس کے خلاف ہے اور نہ روس ہی اپنے دعوی کی اب تک تکمیل کر سکا ہے لیکن سوشلزم کو اس مطالبہ کا حق ہے کہ مزید تجربہ کا موقع دیا جائے کیونکہ جو لوگ سوشلزم کے جدلیاتی فلسفہ کے سحر میں مبتلا ہیں ان کے لیے تجربہ ہی بہترین استاد ہو سکتا ہے” ۔(مولانا آزاد شورش کاشمیری صفحہ 325)

ترجمان القرآن کی دوسری جلد پہلی دفعہ 1936 میں شائع ہوئی ۔پہلی جلد 1930 میں اور اس پر 1945 میں نظر ثانی کی گئی ۔دوسری جلد کی اشاعت کے بعد مولانا 22 سال زندہ رہے لیکن عوام کو تیسری جلد کا انتظار ہی رہا۔المختصر بارہ پاروں کا تفسیری ترجمہ شائقین کے انتظار کی نذر ہو گیا البتہ مولانا غلام رسول مہر نے مولانا کی رحلت کے بعد 1961 میں "باقیات ترجمان القران” کے نام سے تیسری جلد کے مختلف آیات اور سور کا ترجمہ٫ تفسیر و تشریح مدون کیا جو تمام تر مولانا علیہ الرحمہ کی تحریرات و تصریحات پر مشتمل ہے اور الہلال و البلاغ سے مرتب کیا گیا ہے یہ 76 سورتوں کا ترجمہ ہے تشریحات کے ساتھ ان کا ترجمہ اور قدر تفصیلی نوٹ ہیں ۔لیکن یہ تراجم بعض مضامین سے الگ کیے گئے ہیں ان کے تشریحات ان مضامین کے دائرے میں ہیں ان تراجم کو مولانا تیسری جلد کے لیے لکھتے اور پہلی دو جلدوں کی طرح تشریحات فرماتے تو لازم ان کی جامعیت اور کاملیت مختلف ہوتی ۔

بہت سارے لوگوں نے مولانا کی تفسیر پر نقد و نظر سے کام لیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ "ترجمان القرآن” کے بعد کئی لوگوں نے ترجمہ و تفسیر میں مولانا کے اجتہاد و انشاء کی نقل کی اور بعض نے ان کی طرز فکر اختیار کی لیکن پرواز ادھوری رہی اور لب بام رہ گئے ۔ایک چیز واضح ہے کہ "ترجمان القرآن” کے بعد کی تمام تفسیروں میں مولانا کی چھاپ صاف صاف محسوس و معلوم ہوتی ہے ۔

جن لوگوں نے مولانا کے ترجمہ و تفسیر یا ان کی ترجمان القرآن کو تنقیدی نگاہ سے دیکھا انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہر زمانے میں تفاسیر کی ایک خاص ذہنی فضا رہی جس میں سانس لینا ہر مترجم و مفسر کی مجبوری رہی ہے اور اس سے کوئی الگ نہیں رہ سکا ۔ مولانا نے جس وقت قرآن کی دعوت کا آغاز کیا اور وہ زمانہ جس وقت ترجمان القرآن کی جلد اول شائع کی وہ دور بالفعل دماغوں کی آب و ہوا کے لیے مختلف تھا

  • پہلا مسلمانوں کے انحطاط کی طرف روز بروز قدم بڑھانے ، یورپی علوم و فنون کے قدم جمانے اور تشکیک و ہوا کے زور پکڑنے کا دور تھا سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ مسلمانوں کا سیاسی اقتدار ان کے ہاتھ سے نکل چکا اور نکل رہا تھا ۔مولانا نے قرآن سے جن آیات و سور کو ترجمہ و تفسیر یا دعوت و تذکیر کے لیے منتخب کیا اور جنہیں مولانا غلام رسول مہر نے "باقیات ترجمان القرآن” میں الہلال و البلاغ کے مضامین سے لے کر ترتیب دیا وہ اس صورتحال ہی کی عکاس ہیں ۔
  • ترجمان القرآن کی اشاعت کے وقت الحاد و زندقہ ،اعراض و انکار اور فسق و معصیت کی راہیں کھل چکی تھی یورپ کا علمی ضمیر مذہب کی طرف لوٹنا چاہتا تھا۔ مولانا کے سامنے انسانی روح کا یہی مطالبہ تھا انہوں نے سورہ فاتحہ کو تفسیر کے لیے منتخب کیا اور اس کی طویل و بسیط شرح میں ان تمام بے چینیوں اور درماندگیوں کا جواب دیا جس میں کرہ ارض کا عصری انسان ذہنی طور پر گر چکا تھا ۔مولانا ابوالکلام آزاد ص 329

ترجمان القرآن کا ایک بڑا حسن نقد و نظر کی جرات ہے۔ مولانا نے جس سے اختلاف کیا اس کی شخصیت سے مرعوب نہیں ہوئے نہ قدماء سے اختلاف کو گناہ گردانتے اور نہ کسی جماعت یا گروہ سے ڈرتے ہیں عامۃ المسلمین قدماء کی تقلید کو اصل دین سمجھتے اور ان پر تنقید کو جرم و گناہ خیال کرتے۔ مولانا نے امام فخر الدین رازی کی تفسیر کبیر سے متعلق بلا جھجک لکھا کہ "اس میں منطق، فلسفہ، حکمت، علم الکلام وغیرہ سب کچھ ہے مگر قران نہیں ہے” (مولانا ابوالکلام آزاد شورش کاشمیری” صفحہ 329)

ترجمان القرآن کے متعلق مولانا سعید احمد اکبر ابادی مدیر "برہان” دہلی لکھتے ہیں "کہ سید رضا مصری کی تفسیر "المنار” اور مولانا کا” ترجمان القران” مطالب و معنی کے اعتبار سے ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں زبان دو ہیں ،مقصد ایک۔ مولانا علامہ ابن تیمیہ اور حافظ ابن قیم رحمہا اللہ کے شانہ بشانہ ہیں” ۔شورش کاشمیری جنہوں نے مولانا کی سوانح حیات لکھی ہے وہ کہتے ہیں کہ ہندوستان چھوڑو تحریک میں کانگریس کے بڑے بڑے ہندو زعماء جیل خانے میں آئے تو ان میں سے اکثر کے پاس "ترجمان القران”کے نسخے تھے معلوم ہوا کہ وہ اس سے زبان سیکھتے اور اپنی تقریروں کے لیے فقرے نکالتے ان کا بیان تھا کہ اس کے مطالعہ سے ایک بات ان کے دل میں جم گئی کہ "اسلام مذاہب کی آخری سچائی ہے اور قران خدا ہی کا کلام”۔(صفحہ 330 )

مولانا کے ذہن میں قرآن مجید کے ترجمہ و تفسیر اور مقدمہ کا خیال کب پیدا ہوا اس کے متعلق کچھ کہنا مشکل ہے لیکن ایک چیز واضح ہے کہ الہلال کا پہلا پرچہ 13 جولائی 12 19ء کو نکلا اس کی ترتیب و تدوین لب و لہجہ اور مضامین و مقالات ہی ظاہر کر رہے تھے کہ ان کی روح میں کلام الہی رچا ہوا ہے پھر جب مولانا نے الہلال و البلاغ کی ابتدائی دور (16-1912ء) میں باب التفسیر کے تحت آیات قرآنی کی تفسیر اور ترجمہ کا آغاز کیا تو معلوم ہوا کہ ایڈیٹر الہلال کے قلم کا محور و مرکز قرآن و اسلام ہیں ۔

مولانا نے 1912 سے قرآن کے ترجمہ اور تفسیر کو لکھنا شروع کر دیا لیکن بار بار کی گرفتاری اس نیک عمل میں مخل ثابت ہو رہی تھی پھر بھی گاہے بگاہے دوران گرفتاری اور دوران نظر بندی یہ نیک عمل جاری رکھتے لیکن جب 1921 عیسوی میں ملک کے ہر گوشے سے ترجمان القرآن کے لیے تقاضا شروع ہوا تو لاچار اس کی اشاعت کے لیے مولانا کو آمادہ ہونا پڑا.

پھر 1921 میں جب تحریک "لا تعاون” کی سرگرمیاں منتہائے عروج پر پہنچ گئیں تو برٹش حکومت نے پھر سے گرفتاری کا سلسلہ شروع کیا مولانا کو بھی گرفتار کر لیا گیا لیکن کوئی ایسا مواد نہیں مل سکا جس سے مولانا کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکے ان کے گھر کی اور مطبع کی تلاش بسیار کے بعد بھی کوئی چیز ایسی نہیں ملی جو حکومت کے خلاف ہو چار ہونا چار برٹش حکومت نے مولانا کے تمام مسودات کو ضبط کر لیا حتی کہ ترجمان القرآن کی تمام لکھی ہوئی کاپیاں بھی توڑ مروڑ کر مسودات کے ڈھیر میں ملا دیں . 15 ماہ بعد مولانا رہا ہوئے تو حکومت سے کاغذات کا مطالبہ کیا ایک عرصہ کی خط و کتابت کے بعد کاغذات ملے مگر اس حالت میں ملے کہ تمام ذخیرہ برباد ہو چکا تھا. افسران تفتیش نے جب ان کاغذات پر قبضہ کیا تو یہ قلمی مسودات کے مختلف مجموعی تھے ان میں مختلف مکمل و غیر مکمل تصنیفات کے علاوہ بڑا ذخیرہ یادداشتوں کا تھا. لیکن جب وہ واپس ملے تو محض اوراق پریشان کا ایک ڈھیر تھا۔ اور نصف سے زیادہ اوراق یا تو ضائع ہو چکے تھے یا اطراف سے پھٹے ہوئے اور پارہ پارہ تھے ۔مولانا آزاد خود لکھتے ہیں” یہ میرے صبر و شکیب کے لیے زندگی کی سب سے بڑی آزمائش تھی لیکن میں نے کوشش کی کی اس میں بھی پورا اتروں اور یہ سب سے زیادہ تلخ گھونٹ تھا جو جام حوادث نے میرے لبوں سے لگایا لیکن میں نے بغیر کسی شکایت کے پی لیا البتہ اس سے انکار نہیں کرتا کہ اس کی تلخی آج تک گلو گیر ہے. "رگ وپے میں جب اترے زہر غم تب دیکھئے یہ کیا ہو ابھی تو تلخی کام و دہن کی ازمائش ہےرہائی کے بعد مولانا نے ہر چند کوشش کی کہ ازسر نو محنت کی جاۓ لیکن حادثے کے بعد طبیعت کچھ اس طرح افسردہ ہو گئی کہ ہر چند کوشش کی مگر ساتھ نہ دے سکی۔ مولانا نے محسوس کیا کہ حادثے کا زخم اتنا ہلکا نہیں کہ فورا مندمل ہو جائے۔ بارہا انہوں نے کوشش کی کہ ترجمہ و تفسیر کے بچے کچھے اوراق نکالے لیکن جون ہی برباد شدہ کاغذات پر نظر پڑتی طبیعت کا انقباض تازہ ہو جاتا اور دو چار صفحے لکھ کر چھوڑ دیتے۔ لیکن ایک ایسے کام کی طرف جس کی نسبت ان کا یقین تھا کہ مسلمانوں کے لیے وقت کا سب سے زیادہ ضروری کام ہے ممکن نہ تھا کہ زیادہ عرصے تک غافل رہتے جس قدر وقت گزرتا جاتا تھا۔ اس ضرورت کا احساس ان کے لیے ناقابل برداشت ہو جاتا وہ محسوس کرتے تھے کہ اگر یہ کام ان سے نہ انجام پایا تو شاید عرصہ تک اس کے انجام دہی کا کوئی سامان نہ ہو۔ اسی تذبذب اور پس و پیش میں چھ سے سات سال کا عرصہ گزر گیا حتی کہ 1927 قریب الاختتام تھا کہ اچانک مدتوں کی رکی ہوئ طبیعت میں جنبش ہوئی اور رشتہ کار کی جو گرہ ذہن و دماغ کی پیہم کوششیں نہ کھول سکتی تھی دل کے جو شش بے اختیار سے خود بخود کھل گئی ۔کام شروع کیا تو ابتدا ہی میں چند دنوں تک طبیعت رکھی رکی رہی لیکن جون ہی ذوق و فکر کے دو چار جام گردش میں آئے طبیعت کی ساری رکاوٹیں دور ہو گئیں۔ اور پھر تو ایسا معلوم ہونے لگا شورش کدہ ہستی میں افسردگی و خمار آلودگی کا کبھی گزر ہی نہیں ہوا تھا۔ بہرحال کام شروع ہو گیا اور اس خیال سے کہ سورہ فاتحہ کی تفسیر و ترجمہ کے لیے بھی ضروری تھی۔ سب سے پہلے اس کی طرف توجہ دی پھر ترجمہ کی ترتیب شروع کی حالات اب بھی موافق نہ تھے صحت روز بروز کمزور ہو رہی تھی سیاسی مشغولیت کی آلودگیاں بدستور خلل انداز تھیں ۔تاہم کام کا سلسلہ کم و بیش جاری رہا اور 20 جولائی 1930 عیسوی کو آخری سورت کے ترجمہ اور ترتیب سے فارغ ہو گئے۔(ص 38)

ترجمان القرآن پہلی دفعہ 1931 کے اوائل میں منظر عام پر آیا اور نومبر 1930 میں مولانا نے د یباچہ لکھا لیکن اس سے پہلے الہلال کے دور آخر کے دوسرے شمارے 24 جون 1927 میں مولانا نے بعض مسودوں کی ویرانی کا ذکر کرتے ہوئے افتتاحیہ میں یہی روداد بیان کی تھی کہ 1916 میں جب بنگال سے مجھے خارج کر دیا گیا اور رانچی گیا تو یہ وقت تھا کہ البلاغ اور دارالارشاد کی مشغولیت کے ساتھ میں نے اپنے افکار و تحقیقات کی تحریر و ترتیب بھی شروع کر دی تھی ۔جن امور کی تکمیل و ترتیب پیش نظر تھی وہ کسی ایک یہ موضوع سے تعلق نہیں رکھتے تھے بے شمار گوشے سامنے آتے تھے اور ہر گوشہ نظر میں کثرت سے متفرق اور منتشر حقیقتیں نمایاں ہوتی تھیں کہ ان سب کا جمع کرنا اور اصول کلیات کے ماتحت لانا آسان نہ تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

عبد-سلمبین-سلفی-Abdul-Mubeen-Salafi

عبد المبین محمد جمیل سلفی (ایم اے)

عبد المبین محمد جمیل سلفی ایک نوجوان اسلامی اسکالر، معروف کالم نگار اور معتبر تعلیمی شخصیت ہیں۔ جامعہ سلفیہ بنارس اور سدھارتھ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے تعلیم و صحافت کے شعبوں میں گہرا اثر چھوڑا ہے۔ "حجاب کی اہمیت وافادیت" جیسی معروف کتاب اور متعدد پمفلٹس کے علاوہ سیکڑوں مضامین لکھ کر انہوں نے عوامی سطح پر علمی و سماجی موضوعات پر روشنی ڈالی ہے۔ تین سال سے زیادہ عرصے سے صحافت کی تدریس کے ساتھ ساتھ، وہ اپنے تحقیقی مضامین اور پراثر تحریروں کے ذریعے قارئین کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ ان کا انداز بیاں واضح، دلنشین اور فکری طور پر پرکشش ہے، جو انہیں ورڈپریس بلاگرز اور جدید ذرائع ابلاغ کے لیے ایک مثالی رول ماڈل بناتا ہے۔

Leave a Comment

قلمکارواں

عبد-سلمبین-سلفی-Abdul-Mubeen-Salafi

عبد المبین محمد جمیل سلفی (ایم اے)

مولانا-ابو-العاص-وحیدی-Abul-Aas-Waheedi

مولانا ابوالعاص وحیدی (شائق بستوی)

Aamir-Zafar-Ayyoobi

مولانا عامر ظفر ایوبی

Avatar photo

ڈاکٹر حفیظ الرحمن سنابلی

Avatar photo

ڈاکٹر محمود حافظ عبد الرب مرزا

ڈاکٹر صالحہ رشید

مولانا خورشيداحمدمدنیKhursheed-Ahmad-Madni

مولانا خورشید احمد مدنی

ڈاکٹر-محمد-قاسم-ندوی-Mohd-Qasim-Nadwi

ڈاکٹر محمد قاسم ندوی

Dr-Obaidur-Rahman-Qasmi

ڈاکٹر عبید الرحمن قاسمی

جاوید اختر عمری

error: Content is protected !!