ذکر مولانا ابو الکلام آزاد

مولانا کی ولادت اور ابتدائی تعلیم و تربیت

مولانا آزاد ذوالحجہ 1355 ہجری مطابق 1888 عیسوی محلہ قدوہ متصل باب السلام مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے سات اٹھ برس کی عمر تھی کہ 1895 عیسوی میں خاندان کے ہمراہ ہندوستان آگئے اس رعایت سے مولانا کا مولد مکہ معظمہ اور متوطن ہندوستان ہے چونکہ والد نے کلکتہ میں قیام کیا اس لیے وہیں کے ہو گئے ہندوستان کی مرکزی کابینہ میں وزارت تعلیم کا عہدہ سنبھالا تو کلکتہ چھوڑ کر دہلی کے ہو گئے حتی کہ موت کے بعد قلعہ معلی اور جامع مسجد دہلی کے وسط کی گراؤنڈ میں دفن ہوئے۔

پیدائش کے وقت مولانا کا نام محی الدین رکھا گیا تاریخی نام فیروز بخت تھا ، آزاد تخلص، ابوالکلام کنیت، قلم کا سفر شروع کیا تو محی الدین عنقا ہو گیا، تب دستخط کرتے تو احمد لکھتے پھر ابو الکلام ہی نام ہو گیا اور جب ہمہ گیر شخصیت ہو گئے تو پورا نام ابوالکلام آزاد تھا۔

مولانا نے اپنی کہانی بروایت ملیح آبادی میں بیان کیا ہے کہ والد نے شیخ حرم سے پانچ برس کی عمر میں بسم اللہ کرائی شیخ نے تین مرتبہ یا فتاح پڑھوایا اور اتنی مرتبہ یسرولا تعسر کہلوایا اس کے بعد الف سے شین تک حروف شناخت کرائے گھر میں پڑھائی شروع ہوئی تو پہلا استاذ خالہ تھیں ان سے پڑھتے تھے۔

مولانا روایتی مدرسے میں تعلیم کی غرض سے نہیں گئے مولانا آزاد اور ان کے بھائی ابو نصر بہت چاہتے تھے کہ انہیں کسی مدرسے میں بھیجا جائے لیکن والد مالی بے فکری اور معاشی فراغت کے باوجود راضی نہ ہوتے اور انہیں گھر سے باہر قدم رکھنے کی اجازت نہ دیتے ۔

مولانا نے عربی اور فارسی میں دستگاہ بھی والد ہی سے حاصل کہ اس زمانے میں مولوی محمد یعقوب دہلوی ایک مستند ماہر درسیات تھے ان سے بھی دو ایک کتابیں پڑھی والد بیمار ہو گئے تو مولوی نظیر حسین امیٹھوی سے بعض ضروری کتابوں کا سبق لیا ان کے علاوہ دو اور استادوں سے پڑھنے کا اتفاق ہوا ایک مولوی محمد ابراہیم دوسرے مولوی محمد عمر دونوں اپنے فن میں خوب تھے مذکورہ اساتذہ کے علاوہ اور اساتذہ سے فیض حاصل کیا مثلا مولانا محمد شاہ محدث حضرت جلال بخاری کے خاندان سے تھے ان کا درس سنا تو خواہش کر کے ان سے بھی دو ماہ ترمذی شریف کا درس لیا اس طرح درس نظامیہ سے 11, 15 سال کی عمر میں اپریل سے قبل 1902 عیسوی میں فارغ ہو گئے.

اس کے علاوہ لکھنو کے مشہور طبیب سید باقر حسین سے جوایک سال کے لیے کلکتہ ٹھہرے تھے والد کی خواہش پر سات اٹھ ماہ طب پڑھی پھر ہاتھ اٹھا لیا کہ اس طرف طبیعت آتی ہی نہ تھی.

مولانا آزاد اور شعر وشاعری

مولانا آزاد کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شاعری کے لیے نہیں انشاء کے لیے پیدا ہوئے تھے قدرت نے اسلامی ہندوستان کو اس زمانے میں دو عظیم عطیوں سے نوازا شاعری میں اقبال نثر میں ابوالکلام مولانا کو ابتدا میں شعر و شاعری سے دلچسپی تھی جس کا ایک پس منظر بھی ہے کہ ایک صاحب عبدالواحد خان سہرامی کی بہن مولانا کے ہاں ملازم تھی وہ کبھی کبھار بہن سے ملنے آتے ان کی طبیعت میں شعر کہنے کا ملکہ تھا مولانا سے شاعری پر گفتگو کی تو مولانا کو بھی شاعری سے محبت ہو گئی یہ تھا.

مولانا کی شاعری کا اغاز

اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر گوئی شروع کی مشاعروں کا چسکا پڑا ہر مشاعرے میں داد پاتے مولانا نے امیر مینائی سے رجوع کیا غزل بھیجی تو اصلاح سے طبیعت خوش نہ ہوئ البتہ شوق نیموی وغیر کا تلمذ اِختیار کرکے زبان بیان پر قدرت حاصل کی اور عبدالواحد سہسرامی کی تجویز پر آزاد تخلص کیاالبتہ سولہ برس کے سن میں ہی شاعری کا پنڈ چھوڑ دیا اور جب 1905میں "الندوہ”کی ادارت سنبھالی یا 1906میں "وکیل”اور "امرتسر”کے ایڈیٹر ہوگئے تو شاعری اگر طبیعت سے نہیں تو قلم سے ضرور نکل چکی تھی پھر جب 1912میں "الہلال”نکلا تو شعر گوئی ان کی مطلقہ کا نام تھا ۔( مولانا ابوالکلام آزاد ص 20)

فقر و استغنی

مولانا کی پوری زندگی فقر و استغنی کا استعارہ تھی اس کے باوجود کسی فرد یا جماعت کا احسان مند ہونا گوارا نہ کرتے، بعض لوگوں کا خیال تھا کہ ابتدائی دور میں حکیم اجمل خان اور ڈاکٹر انصاری ان کی مالی مدد کرتے تھے لیکن ان کا فقر کسی حالت میں بھی کسی دوست کے اگے ہاتھ پھیلانے کا روانہ تھا۔

پنڈت جواہر لال نہرو” "میری کہانی "میں لکھتے ہیں کہ” انہوں نے بعض ہمہ وقتی کارکنوں کو احساس کمتری سے نجات دلانے کے لیے کانگرس سے سیکرٹری شپ کا ماہانہ الاوننس قبول کر لیا تھا لیکن مولانا نہ تو کسی نزدیک و دور کی تقریب میں شمولیت یا اخراجات لیتے اور نہ کانگرس فنڈ میں سے پھوٹی کوڑی کو ہاتھ لگاتے تھے یہ ان کا فقر و غیور تھا۔”

مولانا ابوالکلام آزاد کی پوری زندگی فقر و استغنی میں گزری خصوصا 1932 سے 1938 تک جوں توں بسر کی اور یہ امام الہند کا حال تھا بلکہ وہی معاملہ تھا جو علامہ اقبال کے لیے معیشت کے اضطراب نے پیدا کر رکھا تھا پیدا کر رکھا تھا ،عجیب بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے دونوں عبقری افلاس کے اس عالم میں تھے 1947ء سے اپنی رحلت 1958ء تک ہندوستان کی مرکزی حکومت میں وزیر تعلیم رہے اپنی تنخواہ کا تین چوتھائی غریب الحال طلبہ اور بے سہارا بیواؤں کو وظائف میں دیتے باقی ایک چوتھائی میں کوٹھی کے اخراجات پورا کرتے۔

مولانا کے والد نے پیری مریدی کا جو جال پھیلا رکھا تھا اگر چاہتے تو اس سے لاکھوں کی آمدنی کرتے لیکن آپ نے اس بوجھ کو اٹھانے سے انکار کر دیا، لاکھوں روپیے مفت آمدنی سے دستبردار ہو گئے اور فقر و فاقہ اختیار کیا مولانا کی مالی حالت کا ایک بڑا حصہ اچھا نہ رہا وہ چاہتے تو صرف بمبئی کی جائیداد بیچ کر خاصی رقم لے سکتے تھے لیکن انہوں نے اپنی جائیداد کا پیچھا تک نہ کیا ۔ (مولانا ابو الکلام آزاد صفحہ 49/ 50 شورش کاشمیری)

ذکاوت و حس

مولانا کی تحریروں میں ایک چیز نمایاں نظر آتی ہے وہ ان کی ناسازی طبع ہے معلوم ہوتا ہے گویا تمام عمر علالت میں گزری ڈاکٹر بدھان چند رائے کانگرس ورکنگ کمیٹی کے ممبر تھے انہوں نے میڈیکل بورڈ کے ہمراہ مولانا کا معائنہ کیا تو صحافیوں نے ان سے سوال کیا مولانا کی بیماری کیا ہے ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ جو دنیا کی شدید الاحساس شخصیتوں کو ہوتی ہے۔مولانا نے زمانے کو اپنے ڈھب پر نہ پا کر حالات کی برہمی اور واقعات کی خرابی کے باعث ثقافت کے مریض ہیں مولانا کے اعصاب کی سب سے بڑی بیماری کا نام یہی تھا کہ زمانے سے سمجھوتہ نہیں کر سکتے تھے۔

خودداری و غیرت مندی

مولانا کی خودداری و غیرت مندی کا حال یہ تھا کہ وزارتی مشن کے زمانے میں جب کانگریسی و لیگی زعماء کا مرکز دہلی تھا اور گاندھی جی سردار پٹیل ڈاکٹر راجندر پرشاد اور بعض دوست رہنما سیٹھ برلا کے مہمان تھے اور مولانا حسب محمول آصف علی کے ہاں مقیم تھے کئی دفعہ برلا نے اپنے ہاں لے جانے پر اصرار کیا لیکن مولانا امادہ نہ ہوئے سفر میں ہوتے تو عموما ہوٹلوں میں ٹھہرتے یا پھر جن کانگریسی زعما سے تعلق خاطر ہوتا ان کے ہاں قیام کرتے مولانا کے تعلقات سربراہان اور زعما سے تھے اکثر ہندو مسلمان اور پارسی ان کے قدموں میں ڈالر کا ڈھیر لگا سکتے تھے لیکن انہیں کسی حال میں گوارا نہ تھا کوئی دس سال وزارت میں رہے وفات پائی توجو کپڑے تھے ان میں پیوند تھے اور بنک بیلنس صرف چند سو روپیے تھا۔ (ایضا ص 53)

سقوط حیدراباد کے بعد وہاں کے مسلمانوں کی ڈھارس بڑھانے کے لیے اور حالات کا جائزہ لینے کے لیے مولانا حیدراباد تشریف لے گئے موقع کو غنیمت جان کر نظام نے مولانا کو کھانے پر مدعو کیا جو مصاحب دعوت نامہ لے کر آیا اس سے کاغذ لے کر پشت پر لکھ دیا

"جس شخص کے سوئے فہم اور نظر کج کی بدولت مسلمانوں کا لہو اس طرح بہا ہے میرے لیے اس کے دسترخوان پر آنا ممکن ہی نہیں ہے انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگ کر مجھے دسترخوان پر مدعو کرنا جسارت ہے۔ ( ایضاص 55)

نفاست پسندی

مولانا کا مذاق ہر معاملہ میں نفیس تھا ہر چیز نفاست سے رکھتے اور نفاست سے چاہتے اپنا علمی اور سیاسی سفر بھی نفیس لوگوں کے ساتھ شروع کیا ان کا رہنا سہنا کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا بولنا چالنا لکھنا غرض سفر حیات کا ہر قدم نفیس تھا ایسی کسی چیز کا تصور ہی نہ کر سکتے تھے جو خراب یا مکروہ ہو ان پر تحریک خلافت کے بعض حاسدوں نے بہت سے رقیق حملے کیے لیکن کبھی رسید تک نہ دی ۔

مسلم لیگ کا شباب ان کے لیے قیامت ہو گیا قائد اعظم نے کچھ کہا ملک میں ہنگامہ سا ہو گیا لوگوں نے چاہا کہ مولانا جواب دیں لیکن مسکرا کر ٹال گئے، بعض رفقانے کہا کہ جناح کو اس گالی کا جواب ضرور ملنا چاہیے فرمایا چھوڑیے مسٹر جناح نے اس سے اپنی عزت میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔

سیدہ عطاءاللہ شاہ بخاری سے ہم کلام تھے اور موضوع خطابت تھا فرمایا ایک روشن دماغ کا ادمی اپنی زبان پر کبھی غیر شائستہ الفاظ نہیں لاتا وہ الفاظ جن میں کھردرا پن ہو اور مقصود کسی کی اہانت یا تضحیک ہو ان سے طبیعت کی نفاست مجروح ہوتی ہے اور سماعت کا حسن مغموم ہوتا ہے۔ (ایضاصفحہ 61)

احوال مطالعہ

مولانا کو ابتدا ہی سے کتابوں سے شغف تھا 10 برس کی عمر میں مولانا کتابوں کے اتنے رسیہ ہو گئے تھے کہ ناشتے کے جو پیسے ملتے تھے انہیں جمع کرتے اور کوئی نہ کوئی کتاب خرید لاتے دن کا غالب حصہ تعلیم میں گزر جاتا جو کتابیں جب خرچ سے خود خریدتے وہ شب کو موم بتی جلا کر پڑھتے بنا بریں چھوٹی سی عمر ہی میں لکھنے پڑھنے والے انسان کی سنجیدگی پیدا ہوگئی۔

گئیشورش کاشمیری کے بقول گاندھی جی سے ملاقات میں انہوں نے مولانا ازاد سے متعلق بعض سوال کیے گاندھی جی نے فرمایا پنڈت جواہر لال نہرو سیاست میں اور مولانا ابوالکلام تاریخ میں میر ےاستاد ہیں جو کچھ سیاسی دنیا میں ہو رہا ہے جواہر لال سے پوچھتا ہوں اور جو کچھ عالمی تاریخ کا ماضی و حال ہے مولانا ازاد سے ان کی محیر العقول معلومات اور عالمانہ تجزیہ ہم سب کو حیرت میں ڈال دیتا ہے ۔

شورش کاشمیری لکھتے ہیں

” مولانا ازاد عالمی تاریخ میں گاندھی جی کو استاد تھے یا نہیں لیکن گاندھی جی کا اعتراف اپنی پس منظر میں مولانا کی عظیم ذہانت اور ان کے علم کا اقرار تھا، ڈاکٹر راجندر پرشاد جو خود فارسی اور اردو کے جید عالم تھے شورش کاشمیری نے ان سے مولانا کے متعلق کچھ کہا راجیندر پرشاد نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اسی عظیم ذہانت اور بے مثال برجستہ گوئی کا نام ابوالکلام ہے، مولانا کا دماغ سیکڑوں دماغوں کا نچوڑ ہے قدرت نے انہیں ڈھال کے وہ سانچہ ہی توڑ دیا ہے جس میں اس مرتبے کے انسان ڈھلتے ہیں مولانا انسانی قامت میں ہندوستان کا سب سے بڑا کتب خانہ ہیں۔

اسی طرح سید عطاء اللہ شاہ بخاری مولانا کے متعلق فرماتے ہیں مولانا مسلمانوں کے عہد گم گشتہ کی ذہانت و فراست کا مجسمہ اور دہلی اطراف کے علم و نظر کا مرقع ہیں وہ مسلمانوں کے گمشدہ اقبال کی تصویر ہیں۔ (مولانا ابوالکلام ازاد صفحہ 65 66 از شورش کاشمیری )

مولانا بلا شبہ مطالعہ مشاہدہ اور تجزیہ کا معدن تھے ان کی زندگی ان سہگونہ عناصر سے تیار ہوئی وہ مکے میں حرف شناسی کے اغاز سے لے کر دہلی میں حیات مستعار کی اخری ہچکی تک مشاہدہ اور تجربہ کے مطالعا تی انسان تھے۔

مولانا کا بیان تھا کہ خوشی اور غمی خوشحالی اور تنگ دستی جو بھی حالت رہی میں نے کتابوں کی خریداری سے کبھی بخل نہیں کیا میرا واحد شوق کتابوں کا حصول تھا اور اس کے باوجود میں نے کتابوں کی فضا میں آنکھ کھولی ابھی لڑکپن کے حدود میں داخل نہ ہوا تھا کہ مطالعہ کی چاٹ لگ گئی تھی اپنی استعداد سے بڑھی ہوئی کتابیں پڑھتا ہمارا گھر حافظہ کی عظیم کان اور کتابوں کا نگر تھا، میں کتابوں کے معاملے میں اس طرح تھا گویا میرا خمیر ہی ان سے اٹھا ہے مجھے کتاب کے بغیر اپنا وجود ادھورا محسوس ہوتا۔

مولانا اگے لکھتے ہیں میرا حال یہ تھا کہ دس برس کی عمر میں ناشتے کے جو پیسے ملتے ہیں ان کو جمع کرتا اور ان سے کتابیں خریدتا دن کو درسی مطالعہ کرتا رات کو ایک دو بجے تک خرید کی ہوئی کتابیں پڑھتا میرا مطالعہ جوانی سے بہت پہلے جوان ہو گیا میرے شوق کا عالم تھا کہ ہر مشتںبہ ورق پر نظر ڈالتا سر سید کی کتابوں کا شوق بے پناہ ہو گیا وہ سب کتابیں خریدیں اور پڑھی حال یہ تھا کہ ہر مضمون کی کتاب شریک مطالعہ تھی، میں کتاب پڑھتا نہیں ہضم کرتا تھا عربی پڑھی تو اس کا سارا ذخیرہ ہضم کر لیا، فارسی پڑی تو اس میں ڈوب گیا اب اردو کی راہ کھلی تو ایسی چٹک لگی کہ اسی کا ہو گیا سب کچھ پڑھ ڈالا مولانا حالی مولانا محمد حسین ازاد مولانا شبلی مولانا شرر اور مولوی نظیر احمد کے قلم سے جو نکلا میں ان سے کما حقہ آشنا ہوتا رہا اسی مطالعہ ہی نے مجھے علوم جدیدہ کا شوق ڈالا اور میں ڈھونڈ ڈھونڈ کے کتابیں پڑھتا رہا میرے مطالعہ کا ایک ڈھنگ بھی تھا کہ میں کتابوں پر نوٹ لکھتا میرا مطالعہ صرف کتابوں تک محدود نہ تھا میں نے وقت کی علمی ہستیوں سے جن کا وجود ایک ادارہ و تحریک تھا کما حقہ استفادہ کیا ، مثلا مولانا شبلی ایک ادارہ و تحریک تھے اور ان کا کتب خانہ بھی بجائے خود منفرد و یگانہ تھا اور اس زمانے میں اس سے محروم رہنا بد قسمتی تھا۔ (ایضاصفحہ 67)

مولانا کی مطالعاتی وسعت نہ پیدا کنار تھی اسد اللہ خان میرٹھی نے الجمعیہ دہلی کے ازاد نمبر میں لکھا تھا کہ "ان کے مطالعے کی بو قلمونیوں کے پھیلاؤ کا یہ حال تھا کہ انقلاب فرانس سے متعلق کسی نے سوال کیا اس کا جواب اس طرح دیا گویا خود انقلاب فرانس کے بانی ہیں ایک صاحب نے پتنگ بازی کی تاریخ پوچھی تو اس طرح تفصیلات بیان کی کہ ہر شخص مبہوت ہو گیا ایک ہندو نوجوان چندر ایم اے ہمارے ساتھ قید خانے میں فلاسفر کے نام سے موصوف تھا اس نے مولانا کو صرف مولوی سمجھا ان کے علم سے متعلق متذبذب تھا ایک دن میرٹھ کالج یوپی سے فلسفے کی تازہ ترین کتاب منگوائی اور دو چار ساتھیوں کے ساتھ صلاح کر کے مولانا کی خدمت میں حاضر ہوئے ان سے کہا کہ فلسفے پر لندن سے تازہ کتاب آئی ہے لیکن اس کے مندرجات اتنے دقیق اور پیچیدہ ہیں یہ سمجھ میں نہیں آرہے ہیں براہ کرم ان کے سمجھنے میں مدد فرمائیں مولانا نے کہا میرے پاس چھوڑ دو اسے کل کسی وقت دیکھ کر بتاؤں گا اس میں کیا لکھا ہے اگلے روز دو نوجوان مولانا کے پاس گئے مولانا دریافت کیا تمہاری سمجھ میں کیا چیز نہیں آئی؟ انہوں نے کہا ہم تو اس میں سے کچھ نہیں سمجھے مولانا نے پہلے اس کی ابتدائی مطالب بیان کیے یہ ساری کتاب کی حقیقت بتا دی اور ساتھ ہی ساتھ نشاندہی کر دی مصنف نے فلاں فلاں جگہ ٹھوکر کھائی ہے وہ نوجوان جو فلسفے میں کسی کو پٹھے پر ہاتھ نہیں دھرنے دیتا تھا دنگ رہ گیا ہر کسی سے کہتا تھا کہ مولانا کا دماغ قدرت کا معجزہ ہے۔

نیاز فتح پوری نے ان کی اس عظمت ہی کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا تھا:

اان کی زندگی ایک خاص سانچے میں ڈھل کر وہ نہ ہو جاتی جو ہمارے سامنے ائی تو وہ خدا جانے کیا ہو سکتے تھے، اگر وہ عربی شاعری کی طرف توجہ کرتے تو متنبی ہوتے، اگر محض دین و مذہبی فلاح اپنا شعار بنا لیتے تو اس عہد کے ابن تیمیہ ہو تے، اگر محض علوم حکمیہ کے لیے اپنے اپ کو وقف کر دیتے تو ابن رشد اور ابن طفیل سے کم درجہ کے متکلم نہ ہوتے، اگر وہ فارسی شعر و ادب کی طرف متوجہ ہوتے تو عر فی و نظیری کی صف میں انہیں جگہ ملتی ، اگر وہ تصوف و اصلاح اخلاق کی طرف مائل ہوئے تو غزالی اور راضی سے کم نہ ہوتے، اگر مسلک اعتزال اختیار کرتے تو دوسرے واصل بن عطا ہوتے۔

اسی مضمون میں نیاز لکھتے ہیں کہ ایک بار حکماے اسلام کے سلسلے میں ابن طفیل کا ذکر کیا گیا تو مولانا نے اس کی مشہور کتاب حی بن اقضان کی پوری داستان ایک نشست میں اس طرح سنا دی گویا وہ اس کے حافظ تھے اور یہ سب مطالعہ کے کرامات تھے (صفحہ 69 / 70)

تقسیم ہند اور مولانا ازاد

مولانا ہر حال میں تقسیم ہند کے خلاف تھے انہوں نے ہر ممکنہ حد تک تقسیم کے ہولناک سانحہ کو روکنے کی بھرپور کوششیں کی یہاں تک کہ کیبنٹ مشن پڑھان میں مولانا نے جو تجاویز منظور کی تھی اسے مسلم لیگ نے بھی مان لیا تھا لیکن پنڈت جواہر لال نہرو کی غلط بیانی کی وجہ سے مسٹر جناح کو اعتراض ہوا اور وہ پھر سے تقسیم پر بضد ہو گئے ، جناح کا بیان تھا کہ کانگرس انگریز کی موجودگی میں اس قدر جلد رائے تبدیل کرتی ہے تو انگریز کے چلے جانے پر اس کا طرز عمل کیا نہیں ہوگا وہ اس وقت بھی اپنی پالیسی اور پلان میں حسب منشا تبدیلی لا سکتی ہے۔ ( صفحہ 186)

جب کہ مولانا تقسیم کو ہولناک خیال کرتے تھے ان کے نزدیک تقسیم ہندوستان کا ضیاع تھا اور مسلمانوں کے مسئلے کا حل بھی نہ تھا کہ پاکستان نہ تو سارے ہندوستان کے مسلمانوں کا گھر ہو سکتا تھا کہ مسلم لیگ نے اپنے جارحانہ پالیسی کی بدولت ان سب سے ووٹ لے لیے تھے اور نہ پاکستان و ہندوستان بٹوارے کے بعد آپس میں دوست ہو سکتے تھے مولانا کے نزدیک اصل مسئلہ فرقہ واری نہیں معاشی تھا اور اختلافات جماعتوں کے درمیان نہیں’ طبیعتوں کے درمیان تھے، مولانا نے اپنے ساتھیوں پر زور دیا کہ اس کا آخری نتیجہ مفید نہ ہوگا نفرت بالاخر باہمی جنگ کا سر آغاز ہوگی جو چیز نفرت پر بن رہی ہو اس کے متعلق کوئی مثبت رائے قائم کرنا مشکل ہے، کوئی نہیں کہہ سکتا کہ انجام کیا ہوگا دونوں کے مابین ہمیشہ ذہنی لڑائی رہے گی لیکن سردار پٹیل تقسیم پر تل چکے تھے اورعلی الاعلان کہنے لگے تھے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک ساتھ رکھنا ناممکن ہو چکا ہے، جواہر لال تقسیم نہیں چاہتے تھے لیکن ان کے نزدیک بھی اب کوئی دوسرا حل نہ تھا مولانا لکھتے ہیں کہ:

” میں تقسیم کے ہمیشہ خلاف تھا کیونکہ میرے خیال میں مسلمانوں کے لیے اس میں ہر اعتبار سے خسارہ تھا بلکہ ان کا وجود خطرے میں پڑتا تھا اور 20 25 سال کے اندر اندر تقسیم کے مرجھا جانے کا امکان تھا. ” (صفحہ 193)

مولانا نے گاندھی جی سے رجوع کیا انہوں نے مولانا سے کہا کہ تقسیم میری لاش پر ہوگی اور کانگریس میری لاش پر ہی تقسیم کر سکتی ہے اسی دن اور اس کے بعد مزید دو روزگاندھی جی لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے ملے پھر سردار پٹیل سے ملاقات کی ہوا کیا ہوا کہ تقسیم پر راضی ہو گئے، اس دوران میں تقسیم کو روکنے کے لیے مولانا نے کئی تجویزیں سوچیں لیکن ماؤنٹ بیٹن مقتدر تھا مولانا بے بس تھے کانگرس تقسیم کے مسئلے میں اس کی ہمنوا ہو چکی تھی اور پٹیل کے بعد کسی اور شخصیت کے رد و قبول کا سوال ہی نہ تھا لیگ کا مطالبہ ہی تقسیم تھا اور مولانا سے بات چیت کے لیے تیار نہ تھی، لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم سے متعلق اس طرح خاکہ تیار کیا جس میں پنجاب اور بنگال بھی تقسیم کیے گئے مولانا نے ان سے مل کر تقسیم کو روکنے پر زور دیا اور وزارتی پلان کو بہترین حل قرار دیتے ہوئے دلائل بیان کیے ماؤنٹ بیٹن نے بظاہر مولانا سے اتفاق کیا لیکن اندرون خانہ و تقسیم کا پلان لے کر اس کی توثیق کے لیے 18 مئی کو لندن گیا اور 30 مئی کو دہلی اگیا ، اس نے دو جون کو کانگرس اور لیگ کے نمائندوں سے گفتگو کی اور تین جون کو اپنے پلان کا اعلان کر دیا اس پلان سے ہندوستان ہی نہیں پاکستان بھی تقسیم ہو گیا اس میں برطانوی سلطنت کے خاص حکمت عملی تھی وہ بر عظیم میں اپنے معاشی اور اقتصادی تحفظات چاہتی تھی اور اس طرح سے وہ حاصل ہو جاتے تھے ، کانگرس ورکنگ کمیٹی نے تین جون کو اس پلان پر غور کرنے کے لیے اجلاس طلب کیا جس میں صوبہ سرحد کے مسئلے پر غور کیا گیا کہ عمر بھر کی مشترکہ جدوجہد کو تیاگ کر صوبے کو نظر انداز کر دیا گیا گاندھی جی کی ماؤنٹ بیٹنن سے ملاقات کے بعد خان عبدالغفار خان قائد اعظم سے ملے لیکن پاکستان بن جانے کے بعد ان سے خان وزارت اور خدائ خدمت گاروں سے جو سلوک ہوا وہ اظہر من الشمس ہے ہندوستان کی ازادی 15 اگست کی شب کو 12 بجے شروع ہوئی ایک عظیم جشن منایا گیا لیکن مولانا اس میں مطلقا شریک نہ تھے، چوہدری خلیق الزمان نے ترنگا کو سلام کیا اور ہندوستان سے وفاداری کا حلف اٹھایا مگر اس کے چند دن بعد فرار ہو کر پاکستان آگئے ۔

مولانا ، آزادی کی اس رات کو سخت غمگین تھے وہ محسوس کر رہے تھے کہ ان کی خوابوں کی دنیا اجڑ چکی ہے مسلمانوں کی بدقسمتی اور بزدلی مولانا دیکھ رہے تھے کہ بعض مسلمان زعما سردار پٹیل کی چوکھٹ کا طواف کر رہے ہیں ان کا لہو کھولتا تھا لیکن دل پہ ایک داغ تھا نواب اسماعیل میرٹھی اور چوہری خلیق الزماں مولانا کے پاس گئے کہ وہ جامع مسجد کے پاس اردو باغ میں سردار پٹیل کو سپاس نامہ دینا چاہتے ہیں اور اس طرح مسلمانوں کو تحفظ دلوانے کی فکر میں ہے، مولانا نے ان سے کہا کہ اس طرح قومی حمیت مجروح ہوگی ملی انا حمیت ہی سے باقی رہتی ہے فسادات ناگزیر ہیں یہ سب رد عمل ہے لیکن یہ بادل بہت جلد چھٹ جائیں گے آپ حوصلہ قائم رکھیں کسی کے سامنے جھکنے کی ضرورت نہیں اور نہ الحاح و زاری کام ا سکتی ہے پتھروں میں جھونک لگانے سے کچھ نہیں ملے گا ۔

مسلمان عہد کے پرانے کھنڈروں میں پڑے تھے یا بعض مشہور خانقاہوں میں سر چھپا کے بیٹھے تھے مولانا نے کئی سو خاندانوں کو اپنی کوٹھی میں جگہ دی اس میں وہی لوگ زیادہ تھے جو دہلی میں مسلم لیگ کا دست و بازو تھے لیکن تقسیم کے نتائج نے انہیں بے بس کر دیا تھا (صفحہ 199, 200)

آزادی کے بعد ایک بار پھر سے مولانا کی عظمت کا احساس ابھر رہا تھا لیکن وہ علم کی ان بلندیوں پر تھے کہ ان سے نیچے اترنا ان کے لیے ناممکن تھا وہ ان شخصیتوں میں سے تھے جو صدیوں بعد پیدا ہوتی اور حالات کے افتاد نے عوام کی کرتی ہیں وہ عوام سے ہم کلام ہوتے لیکن کلام اپنا بولتے ظاہر ہے کہ ایک عبقری یا نابغہ عوام سے ان کی سطح پر ہم کلام نہیں ہو سکتا وہ عوام سے واقف ضرور ہوتا ہے لیکن عوام کی زبان بولنا یا عوام سے ان کے لہجے میں مخاطب ہونا اس کے لیے ممکن نہیں۔

جنگ آزادی میں مسلمانوں کا زوال اور مولانا کا نظریہ

مولانا آزاد نے جنگ آزادی میں ہندی مسلمانوں کی زوال کی جو وجہ بیان کی ہےوہ یہ کہ ان کے اندر نظم و ضبط اور ایمان و اعتقاد کی کمی تھی انہیں مسلمانوں سے شکوہ تھا کہ وہ آندھی کی طرح اٹھتے بادل کی طرح چھا جاتے اور غبار کی طرح بیٹھ جاتے ہیں نہ مسلمانوں سے متعلق عمومی شکایت تھی وہ تاریخ و تجزیہ کے انسان نہیں افتاد و ہنگامہ کی مخلوق ہیں اور ہیجان پر جیتے ہیں ، ان کو مسلمانوں کے ماضی سے گہرا لگاؤ تھا فرماتے تھے کہ اس ماضی ہی نے ان کے صفوں میں شجاعت و علم کی نادریں روزگار شخصیتیں پیدا کی ان کے خیال میں مسلمانوں کا زوال خارجی نہیں داخلی تھا ، اگر مسلمان اسلام کی اخلاقی قدروں سے محبت کرتے اور محض جذبات کے غل غپاڑے پہ تکیہ نہ کرتے تو ان کا زوال ٹل سکتا تھا لیکن انہوں نے ذہنی زوال سے اپنی سیاسی زوال کا آغاز کیا اور اسلامی معاشرہ کے قرانی احکام سے رو گردانی کی ،وہ سیاسی احکام سے ہاتھ اٹھا کر تہذیبی رنگ وروغن کے ہو گئے تو ظاہر ہے انکا کا مل وجود قومی خصائص سے محروم ہو گیا یہ کہنا مشکل ہے کہ ایک قوم کس وقت زوال کے سینے پر قدم رکھتی ہے اور اس کا انحطاط کب شروع ہوتا ،جب زوال و انحطاط نمایاں ہوتے اور قوم و ملک اس کی زد میں ا جاتے ہیں تو یکایک زوال و ادبار کا احساس ہوتا اور قوم کو اس کے عوارض کا شکار ہونے کی خبر ملتی ہے (صفحہ 200)

ہندوستان میں ایک کثیر تعداد مسلمانوں کی تھی مگر اسلام سے ان کی غالب تعداد نابلد رہی اور وہ ایک وحدت پہ کبھی اکٹھا نہ ہو سکے لوگوں نے معاشرتی طور پر اسلام قبول کر لیا لیکن دینی طور پر اسلام سے بے بہرہ رہے یہ وجہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی زبردست اکثریت کے باوجود عوام میں اسلام ایک ذہنی عصبیت کا نام رہا اور لوگ سیاسی طور پر مسلمان رہے وہ مسلمان ہو گئے لیکن ان لوگوں کے مقابلے میں جو مسلمان نہ تھے۔ الغرض کہ طبقات میں بٹے ہوئے مسلمان رونما ہوئے ان میں سیاسی وحدت گاہے بگاہ ابھر آتی لیکن دینی وحدت ہمیشہ مفقود رہی ہندوستان انگریزوں کے قبضے میں آگیا تو ہندوستان کا مسلمان زبردست مزاحمت کے باوجود ایک قومی تحریک پیدا کرنے سے قاصر رہا عوام کو اپنے مسلمان ہونے کا شدید احساس تھا اور ان نصاری کے مقابلے میں تھا لیکن مغلیہ سلطنت کے زوال نے حکومت کو اتنے حصوں میں بانٹ رکھا تھا کہ نہ صرف ان میں اتحاد کی طاقت مفقود تھی بلکہ وہ ایک دوسرے سے متصادم متحارب تھے، انگریزوں نے اس سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور جب انگریزوں کا اقتدار ہندوستان میں بھر میں مضبوط ہو گیا تو مسلمانوں کی بندر بانٹ ایک دوسرے کے سامنے آگئی شیعہ نے امام غائب کے انتظار میں برطانوی سلطنت کی تصدیق کی مسلمانوں کے ضعیف الاعتقاد لوگ مشائخ کی معرفت جہاد سے دست بردار ہو گئے اہل حدیث نے کسی قدر ہمت دکھائی لیکن انہیں جلد ہی ملک میں دوسرے فرقوں کا طعن و تبرا سہنا پڑا ،حنفی العقیدہ مسلمان کئی حصوں میں بٹ گئے مختلف گدیوں کے ہو گئے چکرالوی فرقہ ایجاد ہو گیا مرزا غلام محمد نے استعماری نبوت کی نیو اٹھا کر نظر جہاد منسوخ کر ڈالا یہ سب ایک ایسا سانحہ تھا کہ مسلمان قوم جو ہندوستان میں اپنے اقتدار کی تلاش میں تھی اپنے حزبی عقائد کی تو تکار میں لگ گئی ۔

جاری ۔۔۔۔۔۔۔ دوسری قسط پڑھیں

عبد-سلمبین-سلفی-Abdul-Mubeen-Salafi

عبد المبین محمد جمیل سلفی (ایم اے)

عبد المبین محمد جمیل سلفی ایک نوجوان اسلامی اسکالر، معروف کالم نگار اور معتبر تعلیمی شخصیت ہیں۔ جامعہ سلفیہ بنارس اور سدھارتھ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے تعلیم و صحافت کے شعبوں میں گہرا اثر چھوڑا ہے۔ "حجاب کی اہمیت وافادیت" جیسی معروف کتاب اور متعدد پمفلٹس کے علاوہ سیکڑوں مضامین لکھ کر انہوں نے عوامی سطح پر علمی و سماجی موضوعات پر روشنی ڈالی ہے۔ تین سال سے زیادہ عرصے سے صحافت کی تدریس کے ساتھ ساتھ، وہ اپنے تحقیقی مضامین اور پراثر تحریروں کے ذریعے قارئین کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ ان کا انداز بیاں واضح، دلنشین اور فکری طور پر پرکشش ہے، جو انہیں ورڈپریس بلاگرز اور جدید ذرائع ابلاغ کے لیے ایک مثالی رول ماڈل بناتا ہے۔

Leave a Comment

قلمکارواں

عبد-سلمبین-سلفی-Abdul-Mubeen-Salafi

عبد المبین محمد جمیل سلفی (ایم اے)

مولانا-ابو-العاص-وحیدی-Abul-Aas-Waheedi

مولانا ابوالعاص وحیدی (شائق بستوی)

Aamir-Zafar-Ayyoobi

مولانا عامر ظفر ایوبی

Avatar photo

ڈاکٹر حفیظ الرحمن سنابلی

Avatar photo

ڈاکٹر محمود حافظ عبد الرب مرزا

ڈاکٹر صالحہ رشید

مولانا خورشيداحمدمدنیKhursheed-Ahmad-Madni

مولانا خورشید احمد مدنی

ڈاکٹر-محمد-قاسم-ندوی-Mohd-Qasim-Nadwi

ڈاکٹر محمد قاسم ندوی

Dr-Obaidur-Rahman-Qasmi

ڈاکٹر عبید الرحمن قاسمی

جاوید اختر عمری

error: Content is protected !!