صحابۂ کرام نے رسول اللہ ﷺ سے جس والہانہ محبت کا اظہار کیا ہے اس کی تاریخ انسانی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ دشمنانِ اسلام بالخصوص کفار مکہ رسول اللہ ﷺ کو طرح طرح کی جسمانی اذیتیں دیں، فوجی حملے کئے، اور جانی ومالی نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ مگر جب آپ ﷺ اور صحابۂ کرام پر ان لوگوں نے ہجویہ قصائد کہنا شروع کیا، تو رسول اللہ ﷺ پر یہ بہت گراں اور شاق گزرا، اس لئے نہیں کہ کفار مکہ ہجویہ اشعار کے ذریعے آپ کی شان میں گستاخی کرتے یا آپ پر طنزیہ فقرے کستے ، بلکہ اس لیے کہ وہ اسلام پر تنقید ور اسلام اور مسلمانوں سے لوگوں کو متنفر کرنے لگے تھے۔ اسی موقع پر رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ انصار سے فرمایا: "جولوگ اپنے ہتھیاروں کے ذریعے اﷲ کے رسول کی مدد کرتے ہیں ، انہیں زبانوں کے ذریعے مدد کرنے سے کس چیز نے روکا ہے؟” ، نیز دربار رسالت سے وابستہ شعراء نے اپنی تمام تر شعری توانائیاں اسلام اور رسول اﷲ ﷺ کی دفاع میں صرف کردیں۔
ایک زمانے تک عرب معاشرے میں شعر و شاعری کو جنون کی حد تک پسند کیا جاتا تھا۔ شعروشاعری سے کسی بھی شخص کی تذلیل یا اس کے رتبے کو بآسانی بلند کیا جاسکتا تھا۔ دور حاضر میں جس طرح دشمنوں کے پروپیگنڈا کو روکنے کیلئے میڈیا بلکہ سوشل میڈیا ایک بہترین اور مؤثر ذریعہ سمجھا جاتاہے ، اسی طرح یہ کام عرب اُس زمانے میں شعر و شاعری سے لیا کرتے تھے ۔ ضرار بن خطاب ، ابوسفیان بن حارث ، عمروبن العاص ، کعب بن اشرف اور عبداﷲ زبعری جیسے بڑے شعراء نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ رسول اللہ ﷺ پر طنز، سب وشتم، استہزاء واستخفاف اور رسالت کی توہین کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ بن گیا تھا ، نیز حضرت حسان بن ثابت یا ديگر اسلامی شعراء کا رسول اللہ ﷺ کی تعریف وستائش ،مدح سرائی یا اوصاف حمیدہ بیان کرنا دراصل کفار مکہ کے ہجویہ اشعار کے ردعمل کے سوا کچھ نہیں تھا، علامہ شبلی نعمانی رقم طراز ہیں:
” یہ خیال پیدا ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ حضرت حسان کو منبر پر بٹھاکر ان کے اشعار سنتے تھے اور فرماتے تھے "اللهم أيّده بروح القدس” حالانکہ یہ اشعار آنحضرت کی مدح میں ہوتے تھے لیکن واقعہ یہ ہے کہ حسان کے اشعار کفار کے مطاعن کا جواب تھے، عرب میں شعراء کو یہ رتبہ حاصل تھا کہ زور کلام سے جس شخص کو چاہتے ذلیل اور جس کو چاہتے معزز کردیتے، ابن الزبعری اور کعب بن اشرف وغیرہ نے اس طریقہ سے آنحضرت کو ضرر پہنچانا چاہاتھا، حسان کی مداحی ان کا رد عمل تھا”[1]۔
طلوع اسلام کے بعد سے ہی شعراء نے نبی کریم ﷺ کی مدح، آپ کے تئیں اپنی محبت، خلوص اور جذبات کا خوب اظہار کیا ۔ اور آپ ﷺ اور آپ کی رسالت کا اپنے اشعار سے بھر پور دفاع کیا ہے۔ ان شعراء میں سب سے نمایاں حضرت حسان بن ثابت، کعب بن مالک، عبداللہ بن رواحہ، اور کعب بن زہیر رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔ آپ ﷺ کے حضور حضرت حسان بن ثابت ؓنے گلہائے عقیدت پیش کرتے رہے ، ایک موقع پر آپ ﷺ کے حسن وجمال میں یوں رطب اللسان نظرآتے ہیں:
وأجمل منك لم تلد النساء
وأحسن منك لم تر قط عيني
خُلقت مبرءاً من کل عـیب
كأنك قد خلقت كما تشاء
ترجمہ :( آپ سے زیادہ حسین میری آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا ، اور آپ سے زیادہ خوبصورت کسی ماں نے نہیں جنا۔آپ کو تمام عیوب سے اس طرح پاک پیدا کیا گیا ، گویا آپ ﷺ کی تخلیق آپ کی مرضی اور چاہت کے عین مطابق کی گئی ہے)۔
اموی شعراء نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی محبت، خلوص اور وفاداری کا کھل کر اظہار کیا۔ان میں سب سے نمایاں الفرزدق اور کمیت الاسدی ہیں۔ عباسی دور میں رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں خوب نعتیہ کلام پیش کئے گئے ۔ان شعراء میں الشریف الرضی، دبل الخزاعی سب سے مشہور ہیں۔ عصر ممالیک تک آتے آتے مدیح نبوی ایک مستقل فن کی حیثیت اختیار کر گئی۔ساتویں صدی ہجری میں محمد بن سعید البصیری کی بے حد مشہور نظم "البردہ” جس کا پورا نام "الكواكب الدرية في مدح خير البرية” منظر عام پہ آئی۔یہ نظم رسول اللہ ﷺ کی مدح سرائیوں میں سب سے نمایاں ہے۔ اس نظم کا بہت گہرا اور دیر پا اثر رہا، یہاں تک کہ دور جدید میں بھی ا س کے آثار نظر آتے ہیں، محمود سامی البارودی جیسے نامور شاعر نے قصیدہ”البردہ” کے طرز پر ایک نظم کہی جس کا عنوان "كشف الغمة في مدح سيد الأمة ” ہے۔ امیر الشعراء احمد شوقی نے بھی اسی طرز پر ایک نظم لکھی جس کا عنوان "نہج البردہ” رکھا۔ نعتیہ شاعری آج بھی بے حمد مقبول فن کے طور پر متعارف ہے ،کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کئی معنوں میں ممتاز اور منفرد ہے جو تمام شعراء ، ادباء اور مفکرین کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے ، جس کی وجہ سے ان پر ایسی کیفیتیں طاری ہوجاتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے محبت وجذبات میں ابال آجاتا ہے اور ان کا داخلی جذبہ موجزن ہوجاتا ہے۔
ظاہر ہے کہ مسلم شعراء نعت گوئی میں ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرنے میں آج بھی کوشاں نظر آتے ہیں ۔رسول اللہ ﷺ کے تئیں وہ اپنے جذبات اور احساسات کو کثرت سے اظہار کرتے ہیں، کیونکہ وہ آپ ﷺ کی محبت میں سرشار ہوتے ہیں، ان کی پیروی کرتے ہیں، ان کی محبت کو اسلام کا جزء لا ینفک سمجھتے ہیں، اور ان کے کردار میں ان کو اسوۃ حسنہ نظر آتا ہے، لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں کے وہ شعراء جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی مذہب اسلا م کے پیروکار ہیں، اسی راستے پر چلتے ہوئے ایسی شاہکار نظمیں لکھیں ہیں جو مدیح نبوی کے باب میں مسلم شاعروں سے کم دلچسپ اور نمایاں نہیں ہیں۔ انہوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے تئیں اپنے بے پناہ محبت کا اظہار کیاکیونکہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسی شخصیت کے حامل تھے جس نے خدمت انسانیت کو لازم قرار دیا، رواداری کےکلچر کو عام کیا ، غیر مسلموں کو ان کی مذہبی رسومات پر عمل کرنے کی اجازت فرمایا اورسراپا عفو ودرگزر کے پیکر تھے۔
عفو ودرگزر اور رحم وکرم کی اس سے بڑی مثال کیا ہوسکتی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے ان تمام دشمنوں کو معاف فرمادیا جنھوں نے چند ماہ نہیں بلکہ تیرہ سال لگاتار مکہ میں آپ ﷺ پراور صحا بہ کرامؓ پر عرصۂ حیات تنگ کررکھا تھا ۔طرح طرح کی اذیتیں اور تکلیفیں پہنچائی تھیں۔ظلم وستم کے پہاڑ توڑے تھے اور آپ کو اپنا محبوب وطن چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا۔ آپ نے مشرکین مکہ سے ارشاد فرمایا ’’آج تم لوگوں پر کوئی ملامت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو ‘‘۔
حقیقی فضل وکمال تو وہ ہوتا ہے جس کی گواہی دشمن دیا کرتے ہیں۔ اسی زمرہ میں مختلف مذاہب کے ماننے والے شعراء کی ایک بڑی تعداد نظر آتی ہے جو عشق رسول ﷺ میں سرشار ہے، نیز انہوں نے دین اسلامی کی خوب تعریفیں کیں اور حضور ﷺ کی شان میں قصیدے پڑھے۔ان کی خوبیوں کا اعتراف کیا، ان کی فضیلت، برتری اور انفرادیت کو تسلیم کیا ، ان کی بہادری اور جراَت مندی کے قائل ہوئے، ان کی منفرد اور بے مثال شخصیت کے دلدادہ ہوئے اور ان کی سچائی اور صداقت کے آگے سرتسلیم خم کیا۔عیسائی شاعروں کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے آپ ﷺ کی مدح سرائی میں بہت سے مدحیہ قصائد کہے، لیکن سب سے زیادہ حیرت میں ڈالنے والی بات یہ ہے کہ برصغیر کے ہندو، سکھ، عیسائی غیر مسلم شعراء نے نہ صرف سیرت طیبہ کا صدق دل سے مطالعہ کیا بلکہ اظہار عقیدت میں کوئی نہ کوئی حتیٰ کہ وہ اسلامی تعلیم و مزاج کو اس حد تک پی گئے تھے کہ ان کے اشعار سے پتہ ہی نہیں چلتا کہ ان کا قائل ایک مسلمان ہے یا غیر مسلم۔ ان ادیبوں اور شاعروں کو شمار کرنا بے حد مشکل کام ہے مگر ان میں جگدیش مہتا درد، جگن ناتھ آزاد، مہاراجہ کشن پرساد شاد، پنڈت ہری چند اختر، کنور مہندر سنگھ بیدی سب سے نمایاں ہیں۔
رشید سلیم الخوری
جہاں تک رسول اللہ ﷺ کی مدح میں قصیدہ پڑھنے والے عرب نژاد مسیحی شعراء کا تعلق ہے، ان میں سب سے نمایاں شاعر رشید سلیم الخوری ہیں۔وہ اسلام اور عربیت کی عظمت پر فخریہ اشعار کہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر وہ جو انہوں نے میلاد نبوی کے موقع پر پڑھی تھیں، جس کا عنوان: "نحن أعطينا القلم” (ہمیں قلم دیا گیا ہے) ہے،” اس میں انہوں فخریہ انداز میں کہا کہ ہم عربوں کو غلبہ حاصل تھا نیز قوموں کی ترقی اور خوشحالی کا سہرا ہمارے سر پر ہی ہے جب کہ اس وقت مغرب پسماندگی اور تاریکی کے بوجھ تلے دبے رہے۔
نحن الألى سدنا الشعوب
ونحـن مــدنا الأمـــم
طلــــع الهدى من شرفنا
والغرب يخبط في الظلم
ترجمہ: (ہم نے قوموں کی سرداری کی، ہم ہی نے قوموں کو عروج بخشا اور ہماری بزرگی سے ہی ہدایت نکلی جبکہ اس وقت مغرب تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا)۔
الخوری نے "عید البرية” (ساری مخلوق کا تیوہار) کے عنوان سے رسول اللہ ﷺ کی مدح سرائی میں ایک بے حد مشہور نظم کھی ہے، اس نظم میں اس نے مسلمانوں سے اپنی عظمت رفتہ کو بحال کرنے پر زور دیا ، اور رسول اللہ ﷺ سے اپنے والہانہ محبت اور جذبے کا اظہار کیا کیونکہ ایسی عظیم اور منفرد شخصیت سے محبت ہونا انسانی فطرت کا تقاضہ ہے ۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان بھائی چارے کو قائم کرنے کے لئے اور اپنے ملکوں اور درحقیقت پورے عالم مشرق کی خدمت کے لئے یہ نعرہ بلند کیا:
عيد البرية عيد المـــــولد النبوي
في المشرقين له والمغـــــربين دوي
عید النبي ابن عبد الله من طلعت
شمس الهداية من قرآنه العــلوي
يا قوم هذا مسيــــحي يذكركم
لا ينهض الشرق إلا حبنا الأخوي
فإن ذكرتــــم رسول الله تكرمة
فبلغوه سلام الشــــاعر القـروي
ترجمہ: (مولد نبوی کا تیوہار ساری مخلوق کا تیوہار ہے جس کی گونج مشرق ومغرب میں ہے۔فرزند عبد اللہ جو کہ نبی ہیں ان کا یہ تیوہار ہے جن کے بلند وبرتر قرآن سے ہدایت کا آفتاف طلوع ہوا ہے۔ اے میری قوم یہ ایک عیسائی ہے جو تمہیں یاد دلا رہا ہے کہ مشرق ہماری برادرانہ محبت ہی سے پھر عروج پاسکتا ہے۔ اگر تم رسول الل کا اعزاز کے ساتھ تذکرہ کرو تو ان کی خدمت میں شاعر قروی کا سلام بھی پہنچادینا )۔
الیاس قنصل
شام کےایک بے حد نامور شاعر الیاس قنصل نے اپنے اشعار میں رسول اللہ ﷺ کی مدح سرائی اور ان کے اوصاف حمیدہ کو بیان کرتے ہوئے مندرجہ ذیل اشعار کہے:
إني ذكرتك يا محمـــد ناشراً
روح الأخوة في بني الإنســان
يعلو بلال العبـد أشرف قبة
ليذيع منها أشرف الألحــــان
حق المواهب أن يقدر أهلها
للا فرق في الأجناس والألوان
ترجمہ: اے محمد (ﷺ) تجھے میں نے انسانوں میں بھائی چارے کو عام کرتے ہوئے یاد کیا۔ حضرت بلال جیسے غلام سب سے معزز گنبد پر چڑھتے ہیں تاکہ وہاں سے وہ سب سے دلکش نغمہ نشر کرسکیں۔رنگ ونسل کے امتیاز کے بغیر ہنر کا حق ہے کہ اس کی قدر کی جائے۔
وصفی قرنفلی
شامی شاعر وصفی قرنفلی رسول اللہ ﷺ کو "مشرق کا نجات دہندہ” قرار دیتے ہوئے نہ کسی منفی تنقیدیا مذمت سے ڈرتا ہے اور نہ ہی اپنے خلاف کسی جنگ سے خوف کھاتا ہے ، ۔ اپنی "منقذ الشرق ” (مشرق کا نجات دہندہ) سے موسوم ایک مشہور نظم میں رسول اللہ ﷺ کی سچائی اور صداقت کی گواہی دیتے ہوئے کہتا ہے:
أو ليس الرسول منقذ هذا الشرق
من ظلمــــــة الهوى والهوان
أفكنا لولا الرســــــــول سوى
العبدان بئست معيشة العبدان
ترجمہ: کیا رسول (ﷺ) اس مشرق کو ذلت ورسوائی کے اندھیروں سے نجات دلانے والے نہیں ہیں۔ اگر رسول (ﷺ) نہ ہوتے تو ہم آج بھی غلاموں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہوتے، کیا ہی بری زندگی ہے غلاموں کی!
جارج صیدح
شام نژاد شاعر جارج صیدح نے نعت گوئی جیسے صنف میں طبع آزمائی کرتے ہوئے "محمد” کے عنوان سے ایک نظم لکھی جس میں اس نے پیغمبر اکرم ﷺ کی مدح وستائش کے ساتھ ساتھ ان کے بلند مقام اور عظیم کارناموں کا ذکر کیا ۔ اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ رسول ﷺ میں ایک عمدہ نمونہ ہے، عربوں کو ان کےاسوۂ حسنہ کی اتباع کرنے کی پر زور حمایت کی کیونکہ آپ ﷺ کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنے اور ان کے نقش قدم کی پیروی کرنے میں ہی یقینی کامیابی اور سرخروئی کا راز مضمر ہے۔
وجهٌ أطل على الزمان
لألاؤه شقّ العـنان
فيه شعـــاع النيرات
وفيه أنفاس الجنان
يا صاحبــيّ بأي الآ
ء السماء تكــذبان
ترجمہ: ایک چہرہ زمانہ پرجلوۂ افروز ہوتے ہی اپنی چمک دمک سے آسمان کے اطراف کو روشن کردیا۔ اس میں روشنی کی کرنیں ہیں اور اس میں دلوں کی دھڑکنیں بھی شامل ہیں۔ اے میرے دوستو، آسمان کی کن کن نشانیوں کو جھٹلاؤگے۔
معراج نبوی کی اہمیت کسی سے مخفی نہیں ہے، اسی لئے شاعر معراج نبوی پر گفتگو کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی تعریف ومدح کو مسجد اقصی کے جیسے اہم ترین مسئلے سے ملادیتا ہے، جسے یہودیوں کے شرمناک قدموں نے روندرکھا ہے ۔آپ ﷺ سے درخواست بھی کرتا ہے کہ غاصب یہودیوں کی غلاظت سے مسجد اقصی کو آزادی دلا ئیں، ساتھ ہی عربوں کی حالت زار پر افسوس کا بھی اظہار کرتا ہے:
وجزت أشواط العنان
آن الأوان لأن تجـــــــدد
ليلة المعـــــــراج آن
عرج على القدس الشريف
ففيه أقـــــداس تهان
ترجمہ: اے براق پر سوار ہونے والے اور آسمان کے اطراف تک جاپہنچے، شب معراج کی تجدید کاری کا وقت آن پڑا ہے۔ قدس شریف روانہ ہوں، کیونکہ وہاں مقدس مقامات کی توہین ہو رہی ہے۔
اس کے بعدیہ عظیم شاعر اپنی نظم کا اختتام دعاؤں سے کرتاہے، اس امید کے ساتھ کہ رسول اللہ ﷺ ان مومنین کے جہاد میں جو ظلم کے خلاف بغاوت کا پرچم لہرا رہے ہیں برکتیں نازل فرمائيں گے اور ظالموں کے خلاف ان کی مدد بھی کرینگے تاکہ سرزمین فلسطین کو نفرت انگیزی سے اور یہودیوں کی ظلم وزیادتی سے محفوظ کیا جا سکے۔ وہ کہتا ہے:
بارك جهــــاد المؤمنين
النافرين إلى الطعــــان
الضارعين إليك باسـم
الآل والصحب الغران
وبيوم مولدك السنــي
وبحق موحـيك القرآن
أن تصون دمــــاءهم
وامنح فلسطين الصيان
ترجمہ: ان مومنین کے جہاد میں برکت عطا فرما جو جنگ کے لئے نکل پڑے ہیں، جو آپ کو آپ کے روشن آل و عیال اور اصحاب کے نام سے پکارتے ہیں، آپ کی پیدائش کے دن سے، اوراس کے نام سے جس نے قرآن کریم آپ پر نازل فرمایا ہے۔ کہ ان کے خون کی حفاظت فرما اور سرزمین فلسطین کو تحفظ فراہم کر۔
مشیل بن حافظ المغربی
ایک اور شامی نژاد شاعر مشیل بن حافظ المغربی نے بھی پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ ﷺ کی شان میں قصیدہ پڑھتے ہوئے آپ ﷺ کی خوب مدح وستائش کرتا ہے ۔ اور اسلام کی وجہ سے عربوں کی برتری کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ اس نے عربی زبان کی حفاظت فرمایا۔ "عید میلاد النبوی” (مولد نبوی کا تیوہار) سے معنون نظم میں وہ کہتا ہے :
يا من طلعت على الفصحى وأمتها
بنصر دين يضم الدهر سرمـده
الضاد لولاك ما كانت مخلـــــدة
ولا رواها جمال أنت مـــورده
إن كان للغرب عرفان وفلســفة
فالشرق يكفيه ما أعطى محمده
ترجمہ: اے وہ جو فصحی عربی اور اس کی قوم پر ظاہر ہوئے ایک ایسے مذہب کی فتح کے ساتھ جس کی ابدیت کو زمانہ کی ضمانت ہے۔ اگر تو نہ ہوتا تو لغۃ الضاد (عربی زبان) زندہ جاوید نہ ہوتی اور نہ اسے آپ کی خوبصورتی سیراب وشاداب کرتی۔ اگر مغرب کے پاس علم اور فلسفہ ہے تو مشرق کو جو کچھ اس کے محمد (ﷺ )نے دیا وہ اس کے لئے کافی ہے۔
جاک صبری شماس
شام ہی کے ایک اور عیسائی شاعر جاک صبری شماس ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تعریف میں ایک نظم "خاتم الرسل” کی عنوان سے یو اے ای "البردہ” ایوارڈ میں شرکت کی تھی چہ جائیکہ وہ ایوارڈ حاصل نہ کرسکا۔ تاہم اس مقابلہ کے ذمہ داروں نے شماس کی شرکت کو اس مقابلہ کا سب سے زیادہ دلکش شاعرانہ شرکت سے تعبیر کیا۔ اس نظم کا ایک حصہ پیش خدمت ہے:
يممتُ ( طهَ ) المُرْسَلُ الروحــانـي
ويُجلُّ (طه) الشاعـرُ النصـرانـي
يا خاتمَ الرسل الموشـح بالهـــدى
ورسـول نبـلٌ شامـخٍ البنيـــان
أَلْقَىَ عليكَ الوَحـي طهـرُ عقيـدة
نبويـةٍ همـرت بفيـض مـعـــان
مهما أساء الغـرب فـي إيلامـــــه
لـم يـرق هـون للنبـي البــانـي
لا يحجب الغربـال نـور شريعــة
ويظـل نـورك طاهـراً روحانـي
ترجمہ: روحانی رسول (طہٰ) کو عزت بخشی جاتی ہے اور (طہ) کو یہ عیسائی شاعر احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اے ہدایت کے پیکر خاتم الرسل جسے بلند مقام پر فائزکیا گیا ہے، آپ پر وحی نے بہترین پیغمبرانہ عقیدہ کو اتارا جو معانی کی کثرت سے لبریز ہے۔ مغرب الزام تراشی میں چاہے جتنی بھی گستاخی کرے ، اس نبی کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ چھلنی شریعت کی روشنی کو مدہم نہیں کرسکتی، نیز آپ کی روشنی خالص اور روحانی رہے گی۔
حسنی غراب
شام نژاد ایک اور مشہور مہجری شاعر، حسنی غراب جس نے برازیل ہجرت کیا اور اندلس لیگ کے بانیوں میں سے ایک رہا۔ آنحضرت ﷺ کی تعریف وستائش میں قصیدہ پڑھتے ہوئے کہتا ہے:
شعلة الحق لم تـــــزل يا محمــد
منذ أضرمت نارهــــا تتوقد
غمر الأرض نــورها فإذا رمت
دليلاً فعد إلى الأرض واشهد
جئــت والناس في ضلال وغي
ومن الهدي في يديك مهنــد
ترجمہ: اے محمدؐ، حق کا شعلہ جب سے بھڑکا ہے، تھم نے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ زمین اس کی روشنی سے بھر گئی ہے، لہٰذا اگر ثبوت دیکھنا ہے تو زمین کی طرف لوٹ جاؤ اور گواہی دو۔ آپ کی تشریف آوری ہدایت کی ہندی تلوار کے ساتھ اس وقت ہوئی جب لوگ گمراہی میں ڈوبے ہوئے تھے ۔
محبوب الخوری الشرتونی
لبنانی شاعر، محبوب الخوری الشرتونی ن "قالوا تحب العرب” (انہوں نے کہا کہ آپ عربوں سے محبت کرتے ہیں) کے عنوان سے ایک نظم میں اعلان کیا کہ عرب ایک ہی نسلی گروہ اور قوم ہیں نیز ان کی مذہبی وابستگی سے قطع نظر وہ آپس میں بھائی بھائ ہیں۔ اسی نظم میں اس نے رسول اللہ ﷺ کو تمام بیابانوں کا ہیرو قرار دیا،وہ کہتا ہے:
قالوا تحب العرب قلـت: أحبهـم
يقضي الجوار علي والأرحــــامُ
قالوا: لقد بخلوا عليك، أجبتهـم
أهلي وإن شحــــوا علي كــرام
قالوا: البداوةُ، قلتُ: أطهرُ عُنصرٍ
صفت القلوبُ هناكَ والأجسامُ
ومحمد … بطــل البرية كلــــها
هو للأعــارب أجمعين إمــــامُ
ترجمہ: (لوگو ں نے کہا کیا تو عربوں سے محبت رکھتا ہے؟ تو میں نے ان سے کہا کہ میں ان سے محبت رکھتا ہوں کیونکہ ہمسایگی اور رشتے اس کو لازم قرار دیتے ہیں۔ لوگوں نے کہا انہوں نے تو تیرے ساتھ بخل کیا ہے تو میں نے جواب دیا کہ وہ میری قوم ہیں لہذا میرے نزدیک عزیز ومحترم ہیں خواہ وہ بخل کریں۔لوگوں نے کہا اور یہ بدوی تو میں نے کہا یہ پاک ترین نسل کے لوگ ہیں۔ ان کی روحیں اور جسم دونوں پاک ہیں۔ اور محمد تو تمام خلق کے ہیرو ہیں اور وہ تمام عربوں کے رہبر ہیں)۔
الیاس فرحت
مہجری شعراء کا ایک بے حد مشہور شاعر الیاس فرحت بھی اپنی نعتیہ گوئی میں رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے عرب قوم کی بدحالی اور پسماندگی کی شکایت کرتا ہے۔ آپ ﷺ سے درخواست کرتا ہے کہ میں اس دلدل سے نکال دیں جس میں ہم پوری طرح سے پھنس چکے ہیں۔ اپنی مشہور نظم "يا رسول الله” (اے خدا کے رسول) میں رسول اللہ ﷺ کی ستائش کرتے ہوئے ان کو ایک ایسا چمکتا ہوا ستارہ قرار دیتا ہے جو جہالت کی اتھاہ گہرائیوں میں چمکا، وہ کہتا ہے:
غمر الأرض بأنوار النبــــوة
كوكب لم تدرك الشمس علوه
لم يكد يلمع حتى أصبــحت
ترقب الدنيا ومن فيها دنــوه
يا رســـــــول الله إنا أمـــة
زجها التضليل في أعمق هوة
ذلك الجهل الذي حـــاربتـه
لم يزل يظهر للشرق عتــــوه
قل لأتباعك صلوا وادرسوا
إنما الدين هدى والعلم قــوة
ترجمہ: (ایک ستارے نے جس کی بلندی کو آفتاب بھی پہنچ نہ سکا زمین کو نبوت کی روشنی سے ڈھک لیا۔ ابھی وہ ستارہ چمکنے بھی نہ پایا تھا کہ دنیا اور دنیا والے آپ کے قرب ظہور کا انتظار کرنے لگے۔ اے اللہ کے رسول! ہم ایسی قوم ہیں جسے گمراہی نے عمیق ترین گڑھے میں گرادیا ہے۔ وہی جہالت جس سے اے رسول اللہ آپ نے جنگ کی تھی مشرق میں پھر اپنی سرکشی ظاہر کر رہی ہے۔ اپنے پیروؤں سے فرمادیجئے کہ تم عبادت کرو اور دین کا مطالعہ کرو کیونکہ دین سیدھا راستہ ہے اور علم ایک طاقت ہے)۔
حلیم دموس
مسیحی شعراء کی پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ سے محبت کے جھونکے آج تک ہمیں تازگی بخشتے رہے ہیں۔ لبنانی شاعر حلیم دموس بغیر کسی جانبداری کے انسانی محبت کے اعلیٰ ترین درجات پر پہنچ کر رسول اللہ ﷺ کی تعریف ومدح کرتے ہوئے کہتا ہے:
أمحمد والمجد بعض صفاته
مجدت في تعليمك الأديانا
إني مسيحي أحب محمــداً
وأراه في فلك العلا عنوانا
ترجمہ: کیا محمد (ﷺ) جس کی بعض اوصاف بزرگانہ ہیں اپنی تعلیم میں ادیان کی تعریف وستائش کرتے ہیں۔ بے شک میں ایک ایسا عیسائی ہوں جسے محمد (ﷺ) سے محبت ہے اور میں ان کو بلند آسمان میں ایک عنوان کے طور پر دیکھتا ہوں۔
ریاض معلوف
ریاض معلوف، جو لبنان کا ایک نازک مزاج شاعر اور برازیل میں مقیم شاعروں میں سے ایک تھا، وہ بھی رسول اللہ ﷺ کی مدح سرائی میں کہتا ہے:
يا نبي الأعراب والإســـلام
عيدك اليوم بهجـــة للأنام
أنت يا صاحب الرسالة فخر
أنت أهل للمدح والإكرام
تنثر الحكمـــة البليغة شعرا
عربيــــــاً يطيب للأفهام
ترجمہ: اے بدویوں اور اسلام کے پیغمبر آج تمہاری عید لوگوں کے لئے خوشی کا دن ہے۔ اے پیغام پہنچانے والے، تو تعریفوں اور اعزاز کے حق دار ہو۔ فصیح وبلیغ زبان میں حکمت کو شعرو شاعری کے ذریعہ پھیلاتے ہو جو لوگوں کو بآسانی سمجھ آجاتی ہے۔
ابو الفضل الولید (الیاس طعمہ)
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ ان عیسائی شعراء میں سے بعض شاعروں نے نہ صرف اسلامی تہذیب وثقافت کا احترام کیا بلکہ اس کے اعلی انسانی اقدار اور بلند اخلاق وکردار سے متاثر ہوکر اسلام کو اپنالیا ۔ اللہ تعالی نے جب ان کو ہدایت بخشی تو انہوں نے اپنے مذہب کو خیرباد کر کے خالص یقین کے ساتھ اسلام قبول کیا ، جیسے ابو الفضل الولید جو اسلام میں داخل ہونے سے پہلے الیاس طعمہ کے نام سے موسوم تھے۔ اسلام اور اس کی عظمتوں کے دفاع کے لیے انہوں نے ایک نظم ابن الفارض کی مشہور نظم کے طرز پر لکھی اور رسول اللہ ﷺ کی مدح سرائی کا ایک بہترین نمونہ پیش کیا:
أعاهد ربي أن أصـــلي مسلماً
على أحمد المختار من خير أمـة
هداني هواها ثم حبب شرعه
إلي فصحت مثل حبي عقيدتي
ترجمہ: میں اپنے رب سے عہد کرتا ہوں کہ میں ایک مسلم کی حیثيت سے بہترین امت میں سے چنے ہوئے احمد پر درود بھیجوں گا۔ان کی محبت نے میری رہنمائی کی، پھر انہوں نے اپنی شریعت کو میرے لیے محبوب بنا دیا ، نیز میرا ایمان میری محبت کی طرح درست ہوگیا۔
رشید ایوب
مہجری شاعری کے بے حد نامور شاعروں میں لبنان کا ایک مایہ ناز شاعر رشید ایوب بھی ہے۔ پیغمبر اکرم ﷺ ،خلفاء راشدین اور بہادر فاتحین پرفخر کرتے ہوئے کہتا ہے:
فنحن بني الأعراب كنا ولم نـزل
بما خصنا المولى نفوق الأجانبـــــا
فمن يا ترى أعلى الورى كمحمد
وأرفعهم مجدا وأسمى مناقبــــــا
ومن مثل من قادوا الخلافة بعده
وكانوا لصرح العدل منه جوانبـــا
ألسنا الألى سادوا العباد ودوخوا البلاد
وأبدوا في الحــروب عجائبــــا
ترجمہ: ہم بدو ہیں، اور ہم آج بھی بدو ہی ہیں۔ کیونکہ رب نے ہمیں غیروں سے برتر قرار دیا ہے۔بھلا محمد ﷺ کی طرح کس کا رتبہ بلند اور عظیم الشأن ہے۔ ان کے بعد خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالنے والوں جیسا بھلا کون ہے جو عدل کی عظیم عمارت کے ستونوں کے مانند تھے۔ کیا ہم وہ نہیں ہیں جنہوں نے بندوں پر سرداری کی، ملکوں کو فتح کیا اور جنگوں میں عجائبات دکھائے؟ ۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مذکورہ بالا اشعار در اصل وہ اعتراف ہے جو عیسائیوں نے رسول اللہ ﷺ کی شخصیت سے متاثر ہوکر فضائل محمدی کى بے شمار خوبیوں کا احاطہ کرتے ہوئے کیا ہے۔ آپ کی بردباری، رواداری،سچائی، چشم پوشی ، منصفانہ رویہ اور کرم فرمائی ان کو بھی قائل کر گئی، نيز جب بھی ذکر نبوی چھڑتا تو ان کے جذبات پر رقت کی کیفیت طاری ہوجاتی اور وہ بھی بے قابو اور بے تاب ہوجاتے اور ان کی زبان سے ایسے کلام صادر ہوتے جو ان کی محبتوں اور شیفتگی کے جذبات کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے سوا اس قسم کی والہانہ محبت اور تعظیم انسانیت کی طویل تاریخ میں شاید ہی کسی کو نصیب ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی شخصیت ہی ایسی ہے کہ اگر ان کا ذکر آجائے یا ذہن میں ا ن کا خیال ہی اگر آجائے تو پوری کی پوری فضاء معطر ہوجا تی ہے۔ وہ ایسی باکمال ہستی ہے جو سراپا تعریف ومدح ہے، جن کی ہر آن تعریف وستائش کے قصیدے پڑھے جاتے ہیں، ہر زمان ومکان میں انہی کی مدحت کا چرچا ہوتا ہے، اپنے تو اپنے غیر بھی ان کے گرویدہ اور دام محبت میں اسیر نظر آتے ہیں، ان کی شخصیت کے ایسے بے شمار پہلو ہیں جس نے ان عرب نژاد عیسائی شاعروں کو بھی فریفتہ کردیا، بالخصوص حضور کی رواداری، صحابہ کرام سےمحبت وشفقت ، آپ کا بلند اخلاق وکردار اور اہل کتاب اور مشرکوں کے ساتھ حسن سلوک نیز وہ ایک ایسی شخصیت کے مالک ہیں کہ اگر کوئی بھی شخص اخلاص نیت کے ساتھ مطالعہ کرے تو ان کے اوصاف و کمالات محاسن و محامد سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے:
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں
***
[1] نعمانی، شبلی، سیرۃ النبی، حصہ دوم، معارف پریس، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ، 2011ء، ص 258۔