گلشن بے خار1250ھ یعنی1835 ء میں فارسی زبان میں لکھا گیا اردو شعراء کا تذکرہ ہے جو667/ شعراء کے ذکر پر مشتمل ہے۔ اس کے مؤلف نواب محمد مصطفےٰ خان شیفتہ مرزا غالب کے ہمعصر ہیں۔ ان کی پیدائش 1806ء دہلی اور وفات بھی 1896 ء کوچہ چالان دہلی میں واقع ہوئی۔ان کا تعلق ایک اعلیٰ خاندان سے تھا۔ وہ خود بھی ریختہ اور فارسی میں شعر کہتے تھے۔ ریختہ میں شیفتہ و فارسی میں حسرتی تخلص فرماتے تھے۔ گلشن بے خار جسے ہم اردو شعراء کا تذکرہ کہتے ہیں، شیفتہ نے اسے ریختہ گویوں کا تذکرہ کہا ہے:
”۔۔۔بیاضی جمع آمد روشن تر از سپیدۂ صبح صادق گلستانی آراستہ شد رنگین تر از صفحۂ خیال عاشق تذکرہ ترتیب یافت، مشتمل بر اشعار منظومان فصاحت گستر و ریختہ گویان بلاغت طراز بغایت مختصر ہدیہ مہیا گشت از برای یاران جان پرور و احباب دلنواز نہایت مختصر۔“ (دیباچہ گلشن بے خار، صفحہ ۴، مطبع نولکشور)
”اما ریختہ را کہ محقر تر شمردی و این زبان را ادون گمان بردی، ندانی کہ غرض از معانی است۔ پس معانی تازہ بہر لفظ طلاقت فزا کہ بستہ شود و ستودنی است و بگوش دل و جان شنودنی لا سیما درین زمان کہ گرامی نتیجہ است، سہ لغت فصیح است و ہر زبان اورا باعث شوق و تفریح خاطر نشانم شد۔“ (دیباچہ، صفحہ ۵)
اس دیباچہ کے آخر میں لکھتے ہیں:
الآن اشرع فی المقصود و اسئل التوفیق من رب الورود و انا محمد المدعو بہ مصطفیٰ ختم اللہ لی بالحسنی و جعل آخر امرے خیر اً من الاولی المتخلص بہ شیفتہ در ریختہ و بہ حسرتی در فارسی، الٰہی پسند خاطر مشکل پسند افتد“ (دیباچہ صفحہ ۶)
ان کلمات کے ذریعہ شیفتہ نے نہ فقط ریختہ کی اس زمانے میں حیثیت کی طرف اشارہ کیا بلکہ تین زبانوں کے ظہور پذیر ہونے کی بات کہی۔اس کے ساتھ ہی کسی زبان کے مقبول ہونے کی وجہ بیان کر دی۔یہاں پر اردو کے تعلق سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر گلشن بے خار تذکرۂ ریختہ گویان ہے تو پھر کب سے اسے اردو شعراء کا تذکرہ گردانا گیا؟ اس سوال کا تعلق اردو زبان کی ارتقاء سے ہے جو اس تذکرہ پر نگاہ پڑنے سے پیدا ہوا۔گلشن بے خارکے غائر مطالعہ سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اسے بوجوہ اردو تحقیق اور تنقید کے اولین نقوش میں شمار کیا جانا چاہئے کیونکہ شیفتہ نے اپنے تذکرہ میں ہر کس و ناکس سے اجتناب کرتے ہوئے ان شعرا ء کا ذکر شامل کیا ہے جن کے فن سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔ دہلی اسکول کے شعراء پر ان کی خاص نگاہ تھی۔انھوں نے شاعر کے کوائف زندگی،خاندان، تلمذ، مشاغل اور کلام پر اپنی بے باک رائے عمدہ شعر کے انتخاب کے ساتھ پیش کی ہے۔ اس تذکرہ کا ایک نمایاں پہلو اس میں چند خواتین کا نام اور کلام شامل کیا جانا ہے۔ ظاہر ہے شیفتہ کے شعری مذاق کے مطابق جن شاعرات کا کلام عمدہ کے زمرہ میں تھا انھیں کو اس تذکرہ میں جگہ دی گئی۔ان کی الگ فہرست نہ ہوکر حروف تہجی کے مطابق ان کے نام شعراء کی صف میں جہاں پر آتے تھے وہیں درج ہیں۔ ان کے حالات زندگی اور کلام کی موزونیت پر بھی کسی تحیر و استعجاب کا اظہار نہ کرتے ہوئے معمولاً کیا گیا۔سطور ذیل میں ان کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں جس سے اس زمانے کی خواتین کی معاشرتی شناخت اور ادبی ذوق پر روشنی پڑتی ہے:
جانی
آپ کا نام بیگم جان تھااور بہو بیگم کے نام سے مشہور تھیں۔ نواب قمر الدین خان مرحوم کی صاحبزادی اور نواب آصف الدولہ بہادر کی زوجہ تھیں۔ کہتے ہیں کہ بیگم صاحبہ شدت علالت کے باعث رنجیدہ خاطر تھیں۔ ان کا خواجہ سرا ہمدم ؔ نامی عیادت کو آیا۔ آپ نے اسے دیکھ کر فی البدیہہ مطلع پڑھا جو ان کی لیاقت کی نشاندہی کرتاہے ؎
کیا پوچھتا ہے ہمدم اس جسم ناتواں کی
ہر رگ میں نیش غم ہے کہئے کہاں کہاں کی
دل جس سے لگایا وہ ہوا دشمن جانی
کچھ دل کا لگانا ہی ہمیں راس نہیں آیا
جینا
ان کا نام جینا بیگم تھا اور ان کے جمال کی مانند ان کا نام بھی پردۂ اخفا میں ہے۔
یہ کس کے آتش غم نے جگر جلایا ہے
کہ تا فلک میرے شعلے نے سر اٹھایا ہے
دولہن بیگم
ان کا حال ان کے چہرے کی طرح پوشیدہ ہے۔ اس پیکر عصمت کے یہ دو شعر ؎
بہا ہے پھوٹ کے آنکھوں سے آبلہ دل کا
تری ہی راہ سے جاتا ہے قافلہ دل کا
جہاں کے باغ میں ہم بھی بہار رکھتے ہیں
مثال لالہ کے دل داغدار رکھتے ہیں
زینت
اس شہر کی حسین طوائف تھی۔ مرزا ابراہیم بیگ مقتولؔ کے ہمراہ جو اس کے عاشق تھے، بپاس وفا ترک وطن و اہل وطن گوارا کر کے لکھنؤ چلی گئی۔
شب مہتاب میں تا صبح زینتؔ
خیال ماہ رو ہے اور ہم ہیں
صاحب
ان کا نام امۃ الفاطمہ بیگم تھا۔ صاحب جی کے نام سے مشہور تھیں۔ حسن و صفات میں مثل آفتاب تھیں۔ اپنے معالجہ کے سلسلہ میں مومنؔ سے سابقہ پڑا۔ کچھ مہینہ زیر علاج رہیں۔مدت ہوئی کہ لکھنؤ چلی گئیں۔ خان موصوف کی مثنوی ’قول غمگین‘ انھیں کے حسن و جمال کی شرح ہے۔ المختصر ان کے فیضان صحبت سے ان کی طبیعت شعر و شاعری کی طرف مائل ہوئی اور موزونی قدّ موزونی طبع کی طرف راغب ہوئی اور ان کی زلف پریشان کی زینت اشعار گوئی میں متبدل ہوئی۔
رقیبوں کا جلنا کہاں دیکھتا تو
سماں یہ مرے گھر میں آیا تو دیکھا
گنہ کیا صنم کے نظارہ میں زاہد
یہ جلوہ خدا نے دکھایا تو دیکھا
نظر ہے جانب اغیار دیکھئے کیا ہو
پھرے ہے کچھ نگہ یار دیکھئے کیا ہو
جو خط جبین کا مرے کاٹے ہے اسی کو
دکھلا تو مرا نامۂ اعمال آ لئے
کھولے ہیں اس نے پیرہن یوسفی کے بند
تہہ کر رکھے نسیم سے کہہ دو قبائے گل
صاحب جو بنایا ہے تو مانند زلیخا
یوسف سا غلام ایک مجھے دے ڈال الٰہی
گنّا بیگم
نواب اعتماد الملک غازی الدین خاں المتخلص بہ نظامؔ کی زوجہ ہیں۔ وہ ایک با عفت خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپنے شوہر کے حکم کے مطابق اپنا کلام میر قمر الدین منتؔ کو دکھلاتی ہیں۔
مقابل ہو اگر لب کے تیرے مصری چبا جاؤں
تری آنکھوں سے ہم چشمی کرے بادام کھا جاؤں
ترے منہ کی تجلی دیکھ کر کل رات حسرت سے
زمین پر لوٹتی تھی چاندنی اور شمع جلتی تھی
شمع کی طرح کون رو جانے
جس کے جی کو لگے ہے سو جانے
نازک
ان کا نام زینت ہے اور حسین طوائفوں میں سے ہیں۔
یاد آتے ہیں ان آنکھوں میں انداز نشے کے
ساقی مے گل رنگ سے جب جام بھرے ہے
ہے نالہ و زاری کا مرے شور فلک تک
پر وہ بت مغرور کوئی کان دھرے ہے
نزاکت
آفتاب و ماہتاب، حسن میں یکتا، خوبصورتی میں بے مثال، جاں نواز، دل آرام، رمجو نام، در اصل نارنول وطن ہے۔ جوانی ہی سے شاہجہان آباد میں جلوہ فرما ہیں۔ در اصل شیفتہ نے ان کے کوائف اور اشعار پر تین صفحات صرف کئے ہیں۔ یہاں پر مختصراً دو شعر ملاحظہ ہوں ؎
کیا کیا عذاب اٹھائے ہیں اندوہ عشق کے
جز نام اب تو کچھ بھی نزاکتؔ نہیں رہے
نزاکتؔ ہوں ہر ناتوان محبت
لطیفہ مرے نام کا جانتا ہے
گلشن بے خار میں شیفتہ نے میرؔ، مومن ؔ، غالبؔ، سوداؔ، آتش و ناسخ ؔ جیسے نام چین شعرا کا ذکر اور ان کے کلام پر اپنی بے لاگ رائے کا اظہار کیا ہے وہیں بے شمار ایسے صاحب ذوق کے نام لئے ہیں جو دور دراز علاقوں میں اپنے فنی جواہر بکھیر رہے تھے مگر شہرۂ عام انھیں نصیب نہیں تھا۔انھیں میں ایک بڑی تعداد غیر مسلم شعراء کی ہے جن میں زیادہ تر ہندو کایستھ ہیں۔ان میں سے کچھ کا تعلق درباروں سے بھی رہا۔ ان کے علاوہ کشمیری پنڈتوں کی شمولیت ہے۔ کچھ شعراء ایسے ہیں جن کا تعلق یوروپین ممالک سے تھا جو ہندوستان آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ ان میں سے بعض مشرف بہ اسلام بھی ہو ئے، یہاں کی رائج زبان سیکھی اوراس میں شعر کہے۔ وہ زبان اس وقت ریختہ تھی جو نستعلیق میں لکھی جا رہی تھی اور بیرون ممالک سے تعلق رکھنے والے یہ افراد اسے سیکھ کر ریختہ گویان کی صف میں کھڑے ہو گئے۔ان مختلف النوع لوگوں کے حالات زندگی اور نمونہ کلام سے شیفتہ کا تذکرہ مزین ہے۔اس سے جہاں ایک طرف شخصی فکر و شعور اور تخلیقی سفر کا اندازہ ہوتا ہے وہیں دوسری جانب اس وقت کے سماجی، سیاسی، ثقافتی اور معاشی حالات سے بھی آگاہی ہوتی ہے۔یہ تذکرہ ماضی سے حال کا رشتہ قائم کرنے میں مددگارہے۔اول تو اردو زبان و ادب کے ارتقاء کا سراغ لگانے میں معاون ہے دوسرے اردو زبان سے جڑی ثقافت اور مشترکہ تہذیب و تمدن کی نہ فقط روایت بلکہ شواہد مہیا کراتا ہے جن کی مدد سے موجودہ دور میں اردو زبان کو لے کر پیدا ہوئی الجھن کو سلجھانے میں مدد ملتی ہے۔گلشن بے خار حالانکہ آج سے تقریباً دو صدی قبل لکھا گیا مگر آج بھی تحقیق اور تنقید سے شغف رکھنے والوں کے لئے اس کا مطالعہ ناگذیر ہے۔یہاں پر شیفتہ کی تحقیقی صلاحیت کی بابت پروفیسر محمود الٰہی کا قول نقل کر دینا ضروری ہے۔ موصوف فرماتے ہیں:
”اردو شعراء کے بہت سے تذکرے لکھے گئے لیکن شیفتہ کے گلشن بے خار (سال اختتام 1250 ھ۔ 1835ء) سے تذکرہ نگاری کے ایک نئے باب کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ پہلا تذکرہ ہے جس میں شاعروں کے کلام پر متوازن انداز میں اظہار خیال کیا گیا ہے اور مذاق سلیم کو انتخاب اشعار کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ بعض شاعروں کے بارے میں شیفتہ کی رائیں آج بھی قطعی اور حتمی تسلیم کی جاتی ہیں۔“ (پیش لفظ، گلشن بے خار، مطبوعہ اتّر پردیش اردو اکادمی، 1982ء)
اس تذکرہ کی افادیت کے مد نظر اس کے اردو تراجم بھی ہو چکے ہیں جن سے استفادہ کرتے ہوئے سطور ذیل میں اس میں شامل تمام غیر مسلم شعراء کے حالات و کلام کا نمونہ ملاحظہ فرمائیں:
آرام
ان کا نام پریم رائے کھتری تھا اور نستعلیق اچھا لکھتے تھے۔ان کے خط شکستہ کی بھی بڑی دھوم تھی اور کفایتؔ خان کے حریف تھے۔ تیر اندازی میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ ریختہ اور فارسی دونوں میں شعر کہتے تھے۔
خون آنکھوں سے نکلتا ہی رہا
دل کا فوارہ اچھلتا ہی رہا
کون دلداری کرے آرامؔ کی
ایک مجنون تھا سو جلتا ہی رہا
آرام
مکھن لعل کایستھ قوم سے عقلمند انسان تھے۔
ہمدمو مجھ سے یہ کہتے ہو نہ تو یار سے مل
اس کو سمجھاؤ ذرا یہ کہ نہ اغیار سے مل
آزاد
نام رام سنگھ تھا۔ اخلاق و ارادت کے زیور سے آراستہ تھے۔ تحصیل علوم متداولہ کے بعد نور بصر سے عاری ہو گئے۔ ان کی شعر گوئی کا شوق احاطہ تحریر سے باہر ہے۔ مہدی علی خان کے مشاعروں میں بڑے شوق سے شرکت کرتے تھے۔
ان دنوں پیارے تری طرز تکلم اور ہے
طور چشمک اور ہے وضع تبسم اور ہے
اسیر
تلبرار نام نصرانی قوم کے اور ظفر یاب خان کے دوستوں میں تھے۔ یہ ایک تنو مند شخص تھے۔ شاہ نصیر سے شعر و شاعری میں اصلاح لیتے تھے۔
ہم اس آئینہ رو کے ہجر میں یوں زیست کرتے ہیں
کہ سکتہ کی سی حالت ہے نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
آسفاں
غالباًنام بھی یہی ہوگا۔ مذہباً نصرانی اور فرنگی النسل تھا۔ اس کی پیدائش ہندوستان میں ہوئی تھی۔
خط کا یہ جواب آیا جو لکھا کبھی پھر خط
کر ڈالوں گا ایک دم میں ترے آنکے پرزے
الفت
منگل سین عظیم آباد کے کایستھوں میں سے تھے۔ وہ دہلی آئے۔ اصلاح سخن قلندر بخش جرأت سے کی۔ جو کچھ بسر قلم آتا تھا لکھ دیتے تھے۔ خوش مزاج شخص تھے۔
ہر قدم پر یاں تلک آنے میں سو سو ناز تھے
کیونکہ گھر جانے لگے شام و سحر دو چار کے
امانت
امانت رائے نام جہان آباد محلہ دریبہ میں رہتے تھے۔
تشریف یہاں نہ لاؤ پر نامہ بر تو بھیجو
مت لو خبر ہماری اپنی خبر تو بھیجو
پروانہؔ
راجہ جسونت سنگھ، راجہ بینی بہادر کے بیٹے تھے، جو وزیر الممالک شجاع الدولہ کے مقتدر اراکین میں سے تھے۔ ہنس مکھ خوش مزاج اور زیبا رو تھے۔ ایک عالم ان کا گرویدہ تھا۔ ان کو سرب سنگھ دیوانہ کے شاگردوں میں کہا جاتا ہے۔ ان کے افکار کا نمونہ ؎
نسیم آہ نے شاید کسی کی کی تاثیر
شگفتگی سی تیرے غنچہ دہان پر ہے
بہادرؔ
راجہ بینی بہادر صوبہ بہار کے راجاؤں میں سے تھے۔ جسونت سنگھ پروانہ کے والد تھے جن کا ذکر اوپر آ چکا ہے۔
سیاہی مو کی گئی دل کی آرزو نہ گئی
ہمارے جامہ کہنہ سے مے کی بو نہ گئی
بیتاب ؔ
سیوک رام نام کا ایک شخص میدان شاعری میں آیا۔ اس کے علاوہ مجھے ان کا حال معلوم نہیں۔ ایک شعر تذکرہ میں نظر آیا جو درج کیا گیا ؎
محبت کی بھی کچھ ہوتی ہیں کیا اے ہمنشیں راہیں
کہ خوباں یوں ہمیں دکھ دیں ہم ان کو اس طرح چاہیں
بیخودؔ
نام نرائن داس تھا۔ دہلی کے ہندو تھے۔ خواجہ میر درد ؔ سے حق تلمذ تھا۔
مے گلگوں کو چشم کم سے تو مت دیکھ اے زاہد
نپایا ہے یہ اعجاز مغاں نے آب آتش کا
تابؔ
نام مہتاب رائے اصلاً کشمیری تھے۔ دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے یہ دلپذیر اشعار بہت مشہور ہیں ؎
خو ہوتی ہمیشہ سے تمھاری اگر ایسی
تو کاہے کو نبھتی مری اے فتنہ گر ایسی
یا تنگ نہ کر ناصح نادان مجھے اتنا
یا چل کے دکھا دے دہن ایسا کمر ایسی
تسلیؔ
نام ٹیکا رام، وزیر الممالک بخشی گوپال رائے کے صاحبزادے تھے۔ ان کے بزرگ اٹاوہ کے رہنے والے تھے۔ فارسی میں فاخر مکین ؔسے فخر تلمذ تھا اور ریختہ میں مصحفیؔ کو اساتذہ میں شمار کرتے تھے۔
آنکھیں سحر تلک مری در سے لگی رہیں
کیا پوچھتے ہو حال شب انتظار کا
گو دل میں خفا ہے تو پر اس بات کو نادان
کہہ بیٹھیو مت عاشق دل گیر کے منہ پر
اب بھی اس نیم جان میں کچھ ہے
فائدہ امتحان میں کچھ ہے
جامؔ
کنور سین نام بڈھولی کے رہنے والے تھے۔ شرف الدین مسرور ؔ ولد غلام محی الدین نے ان کو اپنے شاگردوں میں لکھا ہے۔
چڑھے ہے باد کے گھوڑے پہ گو موج ہوا لیکن
نہ دعویٰ کر سکی گلگوں سے تیری ہم عنانی کا
جھمّنؔ
نام جھمن ناتھ، دہلی کے رہنے والے، شگفتہ کلام اور کہنہ مشق تھے۔
دل جو سپند عشق کی آتش سے جل گیا
ایک آہ کھینچتے ہی مرا دم نکل گیا
حسرت ؔ
نام ذوقی رام، جہان آباد میں پیدا ہوئے اور فرخ آباد میں رہتے تھے۔
برنگ آبلہ اے وائے یہ کیا زندگانی ہے
کہ جس کے پاؤں پڑتا ہوں اسی کو سر گرانی ہے
حضورؔ
لالہ بال مکند کھتری دہلوی خواجہ میر دردؔ کے شاگرد ہیں عربی خوب جانتے تھے۔
نہ پاؤں کو جنبش نہ ہاتھوں کو طاقت
جو اٹھ کھینچوں میں دامن اس دل ربا کا
سر راہ بیٹھے صدا ہے یہ اپنی
کہ اللہ یاد رہے بے دست و پا کا
یہ جو چشم پر آب ہیں دونوں
ایک خانہ خراب ہیں دونوں
یہاں مجھ میں نہیں ہے جان باقی
وہاں اب بھی ہے امتحان باقی
ےجفا کو تم وفا سمجھے ستم کو ہم کرم سمجھ
ادھر کچھ دل میں تم سمجھے ادھر کچھ دل میں ہم سمجھے
حیرتؔ
پنڈت اجودھیا پرشاد کشمیری لکھنوی، قلندر بخت جرأت ؔ کے شاگرد تھے۔ ایک مختصر دیوان اور چند مثنویاں یادگار چھوڑی ہیں جو مطالعہ سے نہیں گذریں۔ فن موسیقی اور تیر اندازی میں بھی ملکہ تھا۔مدت تک لکھنؤ میں رہے اور کچھ عرصہ جہان آباد میں۔ پینتیس سال کی عمر میں 1234ھ میں دار فانی سے کوچ کیا۔
برنگ نقش پا اس کی گلی سے اٹھ نہیں سکتا
ہوا ممنون احسان خوب اپنی نا توانی کا
دلؔ
دیبی پرشاد، مرشد آباد کے رہنے والے تھے۔
امید وصل اس سے تو عبث رکھے ہے دل
جس سے کہ رسم نامہ و پیغام بھی نہ ہو
دل خوشؔ
نام بہادر سنگھ کھتری، یہ راجہ خوشحال رائے کے پوتے تھے جو محمد شاہ کے عہد میں اہل ثروت ہو ئے ہیں۔
ہوں ترے ہجر میں جوں دیدہ ئ نرگس حیراں
چشم پوشی نہ کر آ اپنے گنہ گار سے مل
دیوانہؔ
رائے سروپ سنگھ مشہور شاعروں میں سے ہیں۔ بلاد مشرقیہ (پورب)کے اکثر شعراء نے ان سے اکتساب فن کیا ہے، جن میں جعفر علی حسرتؔ، میر حیدر علی حیرانؔ بھی ہیں۔ اکثر فارسی میں فکر سخن کرتے تھے، گاہے گاہے ریختہ میں بھی کہہ لیتے تھے۔
جان پر آ بنی ہمدم میری خاموشی سے
بات کچھ بن نہیں آتی ہے اب اظہار بغیر
دل ہے کہ تیری تیغ کے آگے سے ٹل نہ جائے
رستم کا کب جگر ہے جو زہر ہ پگھل نہ جائے
ذرہؔ
مرزا رام ناتھ بہادر حضور والا کی پیش کاری نظارت کے عہدے پر فائز تھے۔
ترے کوچہ میں روز و شب پڑا پھرتا ہے یہ ذرہ
بجا ہے ایسے دیوانے کے مطلب کو روا نہ کرنا
ذکاؔ
خوب چند کایستھ دہلوی، شاہ نصیر کے شاگرد تھے۔ ایک روز ان کی خاکسار سے ملاقت ہوئی۔کہتے تھے کہ میں نے ریختہ میں ایک تذکرہ لکھا ہے مگر نظر سے نہیں گذرا۔
آسیا جب کہ چلے سر پہ ذکا نیند کہاں
ہاتھ سے چرخ کے ڈھونڈے ہے تو آرام کہیں
ہلے ہے ابروئے دلدار دیکھئے کیا ہو
کہاں کہاں چلے تلوار دیکھئے کیا ہو
نقش پائے خالق گیتی نے بنایا ہم کو
جس کے قدموں سے لگے اس نے مٹایا ہم کو
شرم سے ہو گئی پانی تیری دولت سے جنوں
موج دریا بھی مرے پاؤں کی زنجیر کو دیکھ
ذوقیؔ
نام ذوقی رام، مراد آباد کے رہنے والے تھے۔ آپ مہدی علی کے شاگرد تھے۔ عطر فروشی کر کے روزی حاصل کرتے تھے۔کہتے ہیں کہ ہولی کے موسم میں جو ہندؤں کے عیش کا زمانہ ہے، فقیروں کی طرح کوچہ و بازار میں شعر پڑھتے پھرتے تھے۔
ملنے سے تصور میں کچھ کم نہ مزا دیکھا
گر وہ نہ ہوا اس کی تصویر ہے اور میں ہوں
راقمؔ
ان کا نام بندرابن ہے۔ بعض انھیں متھرا کا اور بعض نے جہان آباد کا رہنے والا لکھا ہے۔ ان کے نام کے قرائن سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ متھرا سے رہے ہوں گے۔ ان کی شاگردی کے بارے میں بھی اختلاف ہے۔ایک نے ان کو مرزا مظہر ؔ کا اور دوسرے نے مرزا رفیع سوداؔ کا شاگردلکھا ہے۔
مری بد شرابیوں سے کریں توبہ مے گساراں
رہے وہ عمل کہ ہووے سبب نجات یاراں
یہاں تک قبول خاطر کیجے تری جفا کو
تا سب کہیں کہ راقمؔ رحمت تری وفا کو
راجہؔ
راجہ بہادر، راجہ شتاب رائے کے فرزند تھے جو صوبہ بنگال کے ناظم تھے۔
یہ زخم دل ہمارے مرہم تلک نہ پہنچے
ہم ان تلک نہ پہنچے، وہ ہم تلک نہ پہنچے
رنگینؔ
پورن لعل کایستھ دہلی کے رہنے والے تھے۔
رنگین نہیں ہیں قطرہئ شبنم یہ باغ میں
باد صبا نے مے سے بھرا ہے ایاغ گل
رندؔ
گنگا پرشاد لکھنوی کشمیری جرأت کے شاگردوں میں سے ہیں۔
مل چکا میں خاک میں اور دل میں ہے تیرے غبار
جان مجھ سے اس قدر کس نے مکدر کر دیا
روتا ہوں چپکے چپکے آتا ہے یاد جس دم
وہ دیکھنا کسی کا نظریں چرا چرا کر
کہیں مرقد پہ آ نکلا بت ایماں شکن میرا
گلے میں ہو گیا زنار ہر تار کفن میرا
کہیں وہ شوخ بھی آ جائے لڑکوں میں تماشہ کو
مبارک جب مجھے اے شوق ؔ ہو دیوانہ پن میرا
شوقؔ
روشن لعل نام، علم موسیقی اور ستار نوازی میں استاد تھے۔
گردش چشم دکھانا نہ گل اندام کہیں
ورنہ ٹوٹے گی صراحی کہیں اور جام کہیں
عقدۂ دل نہ کھلا ناخن تدبیر کے ساتھ
آخرش کام پڑا پنجۂ تقدیر کے ساتھ
صباؔ
آپ کا نام کانجی مل تھا۔ فیروز آباد کے رہنے والے اور لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ مصحفیؔ کے شاگردوں میں سے تھے۔ ایک مختصر دیوان یادگار چھوڑا۔ عالم شباب میں اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔
ابھی تسکین ہوئی تھی ایک ذرا فریاد و زاری سے
لگا دل مضطرب ہونے کہ پھر درد جگر اٹھا
افسوس وہ آرام عدم میں بھی نہ پایا
جس کے لئے دنیا سے سفر ہم نے کیا تھا
چلے دامن اٹھا کے یہ کہو اس شوخ قاتل سے
کہ یہ مدفن نظر آتا ہے رنگین خون بسمل سے
صبا ؔ
مرزا راجہ شنکر ناتھ بہادر راجہ رام ناتھ بہادر کے بیٹے تھے۔ نظارت کی پیش کاری کے عہدے پر ممتاز تھے۔ آپ محفل مشاعرہ منعقد کرتے تھے۔
کیا پوچھتے ہو جور و ستم مجھ سے یار کا
دیکھو نہ حال میرے دل بے قرار کا
دل جب اس کی نگہ مست کا مخمور ہوا
سر خوش کیفیت بادہئ انگور ہوا
صباؔ
منو لعل کایستھ لکھنؤ کے رہنے والے اور مصحفیؔ کے شاگرد تھے۔ بجز ایک شعر کے ان کے اشعار نظر سے نہیں گذرے لیکن یہ کہنا بہتر ہوگا کہ اس ایک شعر کا کہنے والا اس فن میں ایک اچھے مذاق کا مالک ہوگا۔
چرخ کوکب یہ سلیقہ ہے ستمگاری میں
کوئی معشوق ہے اس پردہئ زنگاری میں
ضمیرؔ
گنگا داس شاہ نصیر کے شاگرد تھے۔ وہ رمل سے بھی واقف تھے۔
میں بتاتا ہوں ضمیر ؔ اب کچھ تجھے بھی ہے خیال
چشم خواب آلودہ اس کی فتنہ بیدار ہے
طربؔ
جھنو لعل کایستھ لکھنؤ کے رہنے والے اور نوازش حسین نوازشؔ کے شاگرد تھے۔ مرثیہ گوئی میں فکر سخن کرتے تھے۔ اسی نسبت سے دلگیر تخلص تھا۔ان کے مراثی زبان زد عام ہیں۔ ائمہ ؑ سے کافی معتقد ہونے کے باعث تبدیل مذہب کر مشرف بہ اسلام ہوئے۔
معطر اس کے نہانے سے بسکہ آب ہوا
حباب بحر ہر اک شیشہ گلاب ہوا
گئے جان سے گذر ہم جو نہ وعدہ پر تب آیا
بہانہ اس کا گویا موت کا اپنی بہانہ تھا
طوماسؔ
فرنگی النسل اور خان صاحب کے نام سے مشہور تھے۔ شاہ نصیر ؔکے شاگردوں میں سے تھے۔
سودا ہے زلف یوسف ثانی کا اس قدر
روتے ہیں ہم کھڑے سر بازار زار زار
عاجزؔ
زور آور سنگھ کھتری، نند رام مخلص ؔ کے پوتے تھے۔آپ شیخ نصیر الدین عزتؔ کے شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔
شب مہتاب کس کمبخت کو ہجراں میں بھاتی ہے
کہ اس سے گرمی روز قیامت یاد آتی ہے
عاشقؔ
بخشی بھولا ناتھ پنڈت کے والد گوپی ناتھ سرکار مجد الدولہ کے دیوان تھے۔
قیس نادان سراسر نظر آیا ہم کو
جائیے دشت میں کیوں کوچہئ دلدار کو چھوڑ
عاشقؔ
رام سکھ کھتری پہلے غلام حسن تجلیؔ کے شاگرد ہوئے پھر شاہ نصیر ؔ کے زیر تلمذ آئے۔
حیرت زدہ میں دیکھوں ہوں یوں اس کو بزم میں
تصویر جیسے دیکھے ہے تصویر کی طرف
عزیزؔ
بکھاری لعل، ایک خوش معاش اور فارغ البال شخص تھے۔
بات اب امتحان پر آئی
قصہ کوتاہ جان پر آئی
ملیں کیونکر بھلا اس شوخ طفل لا وبالی سے
کہ سوتے سوتے جو چونکے ہے تصویر نہالی سے
آرام وصل و ہجر میں ممکن نہیں ہمیں
یوں ہی ہمیشہ مضطرب اے رشک ماہ تھے
اب ہجر ہے تو حسرت دیدار لئے ہے جی
جب وصل تھا تو کشتہئ تیغ نگاہ تھے
عزیزؔ
نام مہاراج سنگھ۔
ضعف سے ہر رگ تن جس کے ہو تار بستر
کیونکہ بستر سے وہ بیمار اٹھے اور بیٹھے
عزیزؔ
شیو ناتھ دہلی کے سود خواروں میں سے تھے۔
لیا دل ایک نگہ میں دلربائی اس کو کہتے ہیں
کیا بیگانہ سب سے آشنائی اس کو کہتے ہیں
عشاقؔ
اہل ہنود سے ہیں۔ قدماء سے تعلق رکھتے تھے۔
سر سبز اور ہوا حسن یار کا
آخر خزاں نے کچھ نہ اکھا ڑابہار کا
عیاش
خیالی رام دہلی کے کایستھوں میں سے اور شاہ نصیرؔ کے شاگرد تھے۔
جام ہے ہاتھ میں اور شیشہ مے زیر بغل
نہیں عیاش ؔ کو اب بزم خرابات سے چھوٹ
غافلؔ
رائے سنگھ، فن حساب میں دستگاہ رکھتے تھے۔
وصف کرتا ہے ان لبوں کا جب
غافلؔ اس وقت لعل اگلتا ہے
غافل ؔ
بختاور سنگھ مراد آباد کے ایک شاعر تھے۔
بیمار عشق کی نہ دوا ہو طبیب سے
مر جائے یا جئے کوئی اپنے نصیب سے
غلامؔ
راجہ گوپال ناتھ، راجہ رام ناتھ کے بیٹے ہیں جو بادشاہ شاہ عالم کے مقربین میں سے تھے اور اسی نسبت سے غلام ؔ تخلص اختیار کیا۔
جو ہمبستر کبھو ہم ہوں غلاؔ م اس خوبصورت کے
نہ لیں واللہ تا روز قیامت دوسری کروٹ
خط دے تو نہ دے، گوش بر آواز ہیں قاصد
مژدہ تو ہمیں یار کے آنے کا سنا دے
فارغؔ
مکند سنگھ، بریلی کے رہنے والے اور حاتمؔ کے شاگرد ہیں۔
دور سے دیکھ مجھے چیں بجبیں ہوتا ہے
تاکہ کچھ کہہ نہ سکوں بلبے رکھائی تیری
فداؔ
لچھمی رام دہلی کے رہنے والے سوداؔ کے شاگرد ہیں۔
گذشتہ حسن کا اب تک نشان باقی ہے
نہ ہوں فریفتہ کیونکر کہ آن باقی ہے
کہا جو ان سے کہ میں دل تو کر چکا ہوں فداؔ
تو ہنس کے بولے ابھی تجھ میں جان باقی ہے
فدوی ؔ
مکند بقال۔ لاہور کا رہنے والا ایک لڑکا تھا جو مشرف بہ اسلام ہو گیا۔ اس شہر میں آ کر سوداؔ سے نوک جھونک ہو گئی۔ سوداؔ نے اس کی بہت سی رکیک ہجویں لکھیں جو مشہور ہیں۔ شاہ صابر علی صابر ؔ کے شاگردوں میں شمار ہوتا تھا۔ کہتے ہیں کہ سادہ رخوں کی محبت کا نقش اس کے دلنشین تھا اور اس سلسلے میں کئی بار جھگڑے بھی ہوئے اور زخم بھی کھائے۔ بالآخر نواب ضابطہ خان کے دربار میں ملازم ہو گیا اور بعد میں مر گیا۔ بعض تذکرہ نویسوں نے اسے مغل لکھا ہے اور اس کا نام فدائی بیگ بتایا ہے۔
بعد مرنے کے بھٹکتا ہوں تہِ خاک ہنوز
ساتھ پھرتی ہے مرے گردش افلاک ہنوز
چشم پر آب ہے اور تس پہ جگر جلتا ہے
کیا قیامت ہے کہ برسات میں گھر جلتا ہے
آوارہ و سرگشتہ نہ دیوار نہ در کے
سایہ کی طرح ہم نہ ادھر کے نہ ادھر کے
یہ سرو نہیں باغ میں ہے آہ کسی کی
نرگس نہیں تکتا ہے چمن راہ کسی کی
فراسوؔ
تخلص نام کی نسبت سے ہے۔ اہل نصاریٰ سے ہیں۔ زیب النساء بیگم زوجہ سمرو فرانسس کی سرکار میں کسی خدمت پر مامور تھے۔ خیراتی خان دلسوزؔ کو کلام دکھلاتے تھے۔
ہے خواب میں دیکھا تو بظاہر بھی ملیں گے
قسمت سے نہ گر خواب کی تعبیر الٹ جائے
فراقیؔ
پریم کشور، راجہ جگل کشور بادہ فروش کے پوتے تھے جن کا حال ہر چھوٹے بڑے پر آشکارا ہے۔ ترک دنیا کر کے سیر و سیاحت کے لئے نکل گئے۔
ہوئیں آنکھیں گلابی روتے روتے
گلابی کی نہ دیکھی شکل افسوس
فیضؔ
پنڈت کرپا کشن کشمیری لکھنؤ کے شعراء میں سے ہیں۔
لوٹتے خون میں تہ خاک سے بسمل آ کر
دیکھتا میرے تڑپنے کو جو قاتل آ کر
کاملؔ۔ پنڈت ٹھاکر داس کشمیری اس وقت عدالت میں وکالت کرتے ہیں۔
پلٹ کر جو دیکھا سر راہ اس نے
لگا تیر اک باز گشتی جگر پر
مشہورؔ
بریلی کے کایستھوں میں سے تھے۔ تخلص مشہور ہے مگر حال معلوم نہیں۔
خوشی سے کیوں نہ اے مشہور ؔ بغلیں بجائیں ہم
ملے گا یار ہم سے آج پھر بازو پھڑکتے ہیں
مضطرؔ
کنور سین لکھنؤ کے رہنے والے ہیں۔ بارہ سال سے تحصیل ڈبائی میں رہتے ہیں جو بلند شہر کے متعلقات میں سے ہے۔ راقم سے بارہا ملاقات ہوئی۔ ان کو شعر گوئی کا بیحد شوق ہے۔ بہت منکسر المزاج ہیں۔ ایک قصیدہ واقعہ کربلا پر لکھا تھا جس کے دو تین شعر مجھ کو پڑھ کر سنائے تھے، معلوم ہوتا تھا کہ مضامین معقول ہیں۔ خود کو مصحفی ؔ کے شاگردوں میں بتلاتے ہیں۔
خلل انداز وفا کون سا غماز ہوا
کہ جواب خط مضطرؔ قلم انداز ہوا
سوز جگر کو دیدہئ پرنم کو دیکھئے
ان آفتوں کو دیکھئے اور ہم کو دیکھئے
ابھی سے بے قراری ہے تو ہم نے
دل مضطرؔ مقرر رات کاٹی
مضطربؔ
درگا پرشاد لکھنؤ کے کایستھوں میں سے ہیں۔ ان کو محمد عیسیٰ تنہاؔ سے حق تلمذ ہے۔
ترے وعدوں پر اب ہے دم شماری
بہت اختر شماری کر چکے ہم
منشی ؔ
مول چند کایستھ، شاہ نصیرؔ کے شاگرد اور دہلی کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے شاہنامہ کے قصوں کو ریختہ میں نظم کیا۔
چشم ہے قہر بلا زلف ہے قیامت قامت
اس لئے لوگ تمھیں آفت جان کہتے ہیں
خواہش نہیں کہ ہاتھ مرے سیم و زر لگے
یہ آرزو ہے سینے سے وہ سیم بر لگے
منعمؔ
موہن لال، شاہ نصیرؔ کے شاگردوں میں سے ہیں۔
کہیں آیا ہے دلا آج قد یار نظر
کچھ قیامت کے سے آتے ہیں جو آثار نظر
وہاں اشارہئ ابرو مطلع ہلالی ہے
ہے یہ آہ کا مصرع مقطع فغانی یہاں
موزونؔ
چھتر سنگھ، دہلی کے کایستھوں میں سے ہیں۔ خود کو مادھو رام کا پوتا بتاتے ہیں۔
بیت ابرو کو تری دیکھ کے اے مطلع حسن
جو ترے کوچہ سے نکلا سو غزل خواں نکلا
مہرؔ
منشی مہر چند، فرخ آباد کے رہنے والے ہیں۔ بہت عرصہ لکھنؤ اور اکبر آباد میں بسر کی، تمام عمر تحصیل کے مختلف مواضعات کی پیشکاری میں گذاری۔
اے کمال ابرو جہاں جاتا ہوں واں تیرا خدنگ
پہنچتا ہے ایک دم میں پاس میرے پر لگا
نیند آ گئی ابرو کے تصور میں مجھ کو
تھا خواب میں ہوئے کھینچے تلوار کوئی شخص
یہ تو اپنے خواب میں بھی بر نہ آئی آرزو
ہم خیال وصل جاناں بیشتر باندھا کئے
سرمگین چشم کے بیمار کی لے جلد خبر
بولتا ہی نہیں کہتے ہیں بڑی دیر ہوئی
نادرؔ
گنگا سنگھ، لکھنؤ کے رہنے والے میر حسن ؔ کے شاگرد ہیں۔
قاصد تو اس بہانہ سے اس پاس جائیو
یہ کس کا خط ہے مجھکو ذرا پڑھ سنائیو
نسیمؔ
مرزا راجہ کیدار ناتھ بہادر، راجہ رام ناتھ بہادر کے پوتے اور ایک متین شخص تھے، رئیسوں میں شمار ہوتے ہیں۔ دربار سلطانی کی نظارت کی پیشکاری پر وراثتاً مامور ہوئے۔ ان کے انتقال کو دو سال ہوئے۔
قتل ہاتھوں سے ترے عاشق رنجور ہوا
درد سر روز کا تھا خوب ہوا دور ہوا
نشاطؔ
ایسری سنگھ عرف بسنت سنگھ کایستھ، سندر داس کے صاحبزادے تھے، جو دفتر خالصہ کے متصدی تھے۔ خود کو انشاء اللہ خان کا شاگرد بتلاتے تھے۔
کوئی تڑپے ہے مارا چشم کا اور کوئی قامت کا
ترے کوچہ میں ہے گرم آج ہنگامہ قیامت کا
پاؤں تک دسترس کہاں ہے نشاطؔ
ہاتھ سے ہاتھ لگ نہیں سکتا
ہو اجازت تو ذرا لیجئے دم سایہ میں
تیرے دیوار کے آ پہنچے ہیں ہم سایہ میں
تڑپوں ہوں دیکھنے کو ہے وقت آخری یہ
وہ آئے یا نہ آئے یارو بلا تو دیکھو
نظیرؔ
کھنپت رائے، ایک ہندو، شاہ نصیرؔ کے شاگردوں میں سے ہیں۔
کیا زرد ہوئیں عشق کے آزار سے آنکھیں
ہم چشم ہیں اب نرگس بیمار سے آنکھیں
والہؔ
فیض آباد کے ہندو ہیں۔ دہلی بھی آتے تھے۔
اعجاز لب اس کا دم عیسیٰ سے نہیں کم
وہ پنجہ ٔسیمین ید بیضا سے نہیں کم
معدوم کو کیوں کر کوئی ثابت کرے والہؔ
مضمون کمر یار کا عنقا سے نہیں کم
وحدتؔ
جمعیت رائے میرٹھ کے کایستھوں میں سے ہیں۔
ہر دم ہے عندلیب کو اب عزم نالگی
فصل بہار آتے ہی اس کو ہوا لگی
ہر چند ؔ
ہر چند کشور راجہ جگل کشور باد ہ فروش کے پوتے ہیں۔
پردۂ ظلمات دل پر سے وہیں سب اٹھ گئے
شمع روئی جب چراغ بزم کو گل کر دیا
منجملہ گلشن بے خار میں مذکور ان غیر مسلم شعرا کے کوائف زندگی اور کلام پر نگاہ ڈالنے سے یہ بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ اس وقت کی رائج زبان ریختہ ایسی کڑی تھی جس نے بلا امتیاز قوم و ملت تذکیر و تانیث سب کو اظہار خیال کا موقع فراہم کیااور اس زبان کے ارتقاء اور فروغ میں سبھی شامل رہے۔حالانکہ یہ قصہ دو صدی پرانا ہے۔