صحافت کی زبوں حالی اسباب و تدارک

کئی روز بعد آج جب پیش آمدہ حادثات و واقعات کے متعلق کچھ تحریر کرنے  بیٹھا  تو نظروں کے سامنے  مسائل  کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر دکھائی دیا جس کی تلاطم خیز موجوں سے بچ کر ساحل پر پہنچنا مشکل نظر آتا ہے  پھر بھی ہمت مرداں مدد خدا کے مانندکشتیٔ حیات کو بخوشی بھنور میں یہ سوچ کر اتار دیا کہ ساحل (تاریخ) اسی نا مراد کو یاد رکھتا  ہے جو کمزور بیڑوں کی پرواکئے بغیر حالات کے موجوں سے دو دو ہاتھ کرتا ہے ، مسائل سے گھبرا کر راہ فرار اختیار کرنے والوں کے سامنے مسائل مزید سنگین ہوتے جاتے ہیں جبکہ ان کا مردانہ وار مقابلہ کرنے سےبتدریج ختم ہو جاتے ہیں ، مسائل کچھ ذاتی ہوتے ہیں تو کچھ ملکی ،ملی ،معاشرتی اور انتظامی ۔

حالات حاضرہ  پر گہری نگاہ رکھنے والوں کے لیے ذاتی مسائل سے زیادہ ملی اور قومی مسائل اہم ہوتے ہیں جس کے تدارک کے لیے انکے دلوں میں ایک طوفان موجزن ہوتا ہے اور جب تک وہ مسائل کا حل تلاش نہیں کر لیتے یا اسکا کوئی اجتماعی حل نہیں نکل جاتا انہیں کلی اطمینان نہیں ہوتا ۔

راقم الحروف کو چونکہ صحافت سے ایک گونہ دلچسپی ہے اور صحافت کی تدریس سے وابستگی کی وجہ سے اس سلسلے کا کوئی بھی مسئلہ اس کے لیے اہم ہوتا ہے،  طبقہ صحافی یا پیشۂ صحافت پر جب کوئی افتاد آتی ہے یا اسکی افسوسناک صورتحال سامنے آتی تو ایسے میں اس سے وابستہ اصحاب کا تڑپ اٹھنا ایک فطری امر ہے

ہاں ایسے عالم میں بھی سلسلۂ صحافت سے جڑے لوگوں کو اگر کوئی تکلیف نہیں ہوتی  ہے تو سمجھ لیجئے کہ وہ قرطاس و قلم  فروش ہیں جو قلم کی حرمت سے کھلواڑ کررہے ہیں اور مقدس پیشہ کی شبیہ کو داغ دار کرنے والوں کا ساتھ دےرہے  ہیں۔

 عصر حاضر میں صحافت کی زبوں حالی سے واقفیت سے قبل صحافت کی تعریف جان لیتے ہیں ۔

صحافت کی تعریف

صحافت صحیفہ سے ماخوذ ہے اور لغت کی قدیم وجدید کتابوں میں صحیفہ کی تعریف یہ ہے” چمڑے کا ٹکڑا یا کاغذ کبھی کبھی صحیفہ کا اطلاق نفس تحریر یا کتاب پر بھی ہوتا ہے۔اسی مفہوم کو مدنظر رکھتے ہوئے انگریزی زبان کے معروف لفظ Journalism کو وضع کیا گیا ہے ۔

معجم المصطلحات العربیۃ واللغۃ والادب میں صحافت کا تعارف کچھ یوں ہے :

عصر حاضر میں صحافت کا اطلاق رسائل وجرائد میں مضامین لکھنے کی حرفت پر ہوتا ہے ۔اسی طرح انکی اشاعت ،ترتیب و تزئین ،طباعت ومارکٹنگ اور اداریہ کی تحریر کے فن کو بھی صحافت کہا جاتا ہے ۔ (ذرائع ابلاغ میں صحافت کی اہمیت/محدث ص 47سن 1993 )

صحافت کی اہمیّت و افادیت ہم دور میں مسلم رہی ہے یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے مختلف کام بیک وقت لئے جا سکتے ہیں اہم مسئلے کو معمولی اور معمولی مسلئے کو اہم بنانے کا کام اس کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے ۔

1869میں یورپ کے شہر پراگ میں یہودیوں کی اہم مجلس منعقد ہوئی جس میں انہوں نے پوری دنیا پر اپنا تسلط قائم رکھنے کے لئے صحافت کو نہایت اہم اور مؤثر قرار دیکر اسے اپنے ماتحت کرنے کے سارے امور بروئے کار لائے ۔

الغرض یہ کہ قوموں کے عروج وزوال ،سلطنتوں کے قیام واستحکام ،ملکوں کی آزادی ،اور جمہوریت کی بقا وتحفظ میں صحافت کا جو کردار رہا ہے اسکی نظیر نہیں ملتی ایسے میں اس کردار پر آنچ آئے اور اس سے وابستہ لوگ خاموش رہیں یہ ناممکن ہے، بلکہ ایسے وقت میں یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کی بیخ کنی کرنے والوں کو آئینہ دکھایا جائے اور ترقی کی آڑ میں اسکی عظمت کو ملیامیٹ کرنے والی شخصیات اور حکومتوں کے چہروں سے نقاب کشائی کی جائے ۔یہ اس لئے کہ آج بھی صحافت کا دائرہ اثر کل سے کہیں زیادہ ہے لیکن ساتھ ساتھ خطرات کا سامنا بھی ہے ۔

اس ناحیہ سے جب ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہردور میں صحافیوں کے خریدنے، انہیں ڈرا دھمکا کر اپنے موافق کرنے کی ناروا کوششیں ہوئی ہیں ،چنانچہ کچھ بک گئے اور جو  بکے نہ ڈرے انہیں جسمانی اور معاشی اذیت سے دوچار کرکے انکی زبان مقفل کرنے کا غیر محمود عمل کیا گیا  اور اس طرح اظہارِ  رائے کی آزادی اور پریس کی خود مختاری کا گلا بھی گھونٹ دیا گیا ۔

 جبکہ  رپورٹر ود آوٹ بارڈرز(Reporters Without Borders)   کے مطابق پریس کی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ:

صحافی آزادانہ طور پر عوامی مفاد میں خبریں جمع ،تیار اور نشر کرسکیں بغیر کسی سیاسی، سماجی ،اقتصادی یا قانونی مداخلت کے اور بغیر کسی جسمانی یا ذہنی خطرات کے۔

اسی طرح انیسویں صدی کے فلسفی جیریمی بینتھم (Jeremy Bentham) کے بقول:

آزاد صحافت حکومتی اختیارات اور نجی اداروں کو عوام کے سامنے جوابدہ بنانے کا ایک ذریعہ ہے۔

برطانیہ کے ڈربن یونیورسٹی میں صحافت کے محقق صحافتی آزادی کے متعلق لکھتے ہیں :

یہ (آزادی صحافت)بنیادی طور پر عوام کی آواز بلند کرنے ،اختیارات تک رسائی حاصل کرنے اور جمہوری نظام میں شفافیت کو یقینی بناتی ہے۔

ایک طرف صحافتی آزادی کی بات ہوتی ہے لیکن     اس سلسلے کی چونکا دینے والی  تحقیقات سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ حکومتوں کے گفتار اور کردار میں بعد المشرقین ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ابھی حال ہی میں”رپورٹر ود آوٹ بارڈرز”کی  سالانہ رپورٹ آئی جس میں اس نے مانا کہ عالمی سطح پر صحافت کی آزادی بدترین سطح پر پہنچ گئی ہے، رپورٹ میں یہ بتایا گیا کہ یکم جنوری سے اب تک پندرہ صحافیوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے ، یہ پندرہ صحافی رجسٹرڈ تھے غیر رجسٹرڈ کا شمار کیا جائے تو ہلاک شدگان کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی ۔

اسی طرح سروے رپورٹ میں یہ خوفناک حقیقت بھی سامنے آئی کہ 2001سے لیکر آج تک  تین ہزار تین صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

اسی طر ح گزشتہ سال 67صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ 2015سے 2024کے مابین 139صحافیوں کو صحافت کی قربان گاہ پر قربان کیا گیا ۔

رپورٹ کے مطابق پانچ سالوں سے 774صحافی غائب ہیں ہو سکتا ہو وہ کہیں قید و بند کی اذیت سے دو چار ہوں یا مرچکے ہوں ،  اسی طرح 567صحافی حراست میں لئے گئے ہیں ۔

مذکورہ رپورٹ میں صحافیوں کے لئے سب خطرناک ملکوں کی بابت  بھی گفتگو ہوئی ہے اس ضمن میں سب سے خطرناک ملک رپورٹ کے مطابق ارپڑیا ہے 180ملکوں کی فہرست میں یہ پہلے بھی اسی مقام پر تھا اور آج بھی  ہے۔

دیگر دس خطرناک ممالک جہاں صحافیوں کو قید و بند یا سخت خطرات درپیش ہیں وہ بالترتیب یہ ہیں :

Most Dangerous Countries for Journalists

شمالی کوریا 179 چین 178شام 177ایران 176افغانستان 175 ترکمانستان 174 روس 171ویں نمبر پر ہے

اس سلسلے میں خود وطن عزیز بھارت کی حالت بھی پاکستان سے کمزور ہے اس رپورٹ میں پاکستان کو 150اور بھارت کو 11درجہ تنزلی کے ساتھ 161ویں مقام پر رکھا گیا ہے ۔

 مذکورہ اعدادوشمار کی روشنی میں اپنے ملک میں صحافیوں کی حالت زار اور صحافت کی افسوسناک صورتحال کا جائزہ لیا سکتا ہے ۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں 2021میں 6صحافی قتل اور 108 پر حملے ہوئے ۔

صحافیوں کے خلاف تشدد، سیاسی طور پر متعصب میڈیا اور میڈیا کی ملکیت کا ارتکاز یہ سب ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں آزادیء صحافت کس قدر بحران کا شکار ہے (ڈان 4/مئی 2022 )

رپورٹ میں سیاسی رہنماؤں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والے طبقے کی ذرائع ابلاغ کے حصول پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے خاص طور پر بھارت میں جہاں مرکزی دھارے کا تمام تر میڈیا اب برسرِ اقتدار طبقہ کے قریب ترین امیر تاجروں کی ملکیت ہے ۔

یہ افسوسناک صورتحال ایشیائی ممالک کی ہے جہاں دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی ہے ۔  خودیورپی ملکوں کی حالت بھی بہت اچھی نہیں ہے خصوصاً  جمہوریت کے سب سے بڑے علمبردار امریکہ کی صورتحال اس سلسلے میں نہایت پُرسوز ہے۔ امریکہ جو آزادی اظہارِ رائے کا پروپیگنڈہ کرتا رہا ہے ڈونالڈ ٹرمپ کے آنے کے بعد وہاں کے حالات مسلسل خراب ہو رہے ہیں۔ اس بار 180ملکوں کے درمیان وہ 57ویں نمبر پر ہے (  انقلاب ص 9/ 11جولائ2025بروز جمعہ)

نیویارک میں قائم بین الاقوامی تنظیم "کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس” (CPJ) کی تازہ رپورٹ کے مطابق، سال 2024 صحافیوں کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہوا۔ صحافیوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا، جو کہ سن 2021 سے ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال اظہار رائے کی آزادی اور صحافتی تحفظ کے لیے ایک سنگین خطرہ سمجھی جا رہی ہے۔سن 2024میں 85 صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی ہلاکتیں صرف اسرائیل غزہ جنگ کے دوران ہوئیں جن میں زیادہ تر فلسطینی تھے۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق سن 2024کے اختتام پر 361صحافی جیل میں تھے چین اسرائیل فلسطینی مقبوضہ علاقے میانمار بیلاروس اور روس میں صحافیوں کی گرفتاریوں کی سب سے زیادہ تعداد رپورٹ ہوئی ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ اس طرح کی صورتحال اب پیدا ہوئی ہے بلکہ جب سے صحافت کی جڑیں زمین سے پیوست ہوئیں اور جب جب اس برادری نے ایمانداری کا مظاہرہ کیا اسی وقت سے یہ کشمکش چلی آ رہی ہے ہاں یہ الگ بات ہے کہ آج کے بالمقابل پہلے لوگوں میں آزادی اظہارِ خیال کا احترام تھا ،برسرِ اقتدار طبقہ میں اپنی غلطیوں کی اصلاح کا جذبہ بھی آج سے زیادہ تھا ، قلم پر پہرہ پہلے بھی تھا لیکِن اتنا شدید نہیں جو اب ہے ۔

جب ہاتھ میں قلم تھا تو الفاظ بھی نہ تھے

اب لفظ مل گیا تو میرے ہاتھ کٹ گئے

✍ ساغر اعظمی

خیال رہے کہ صحافت کوئی پھولوں کی سیج نہیں بلکہ وہ پرپیچ اور خاردار وادی ہے جس میں قدم رکھنے والے کو آبلہ پائی سے بچ پانا شدید مشکل ہے،  اس میدان میں رنج وراحت بھی ہے تو شہرت و ناموری  کے ساتھ زخم خوردگی بھی ہے۔

صحافتی اصول و ضوابط کو عملی جامہ پہنا کر اس خاردار میدان سے صحیح سلامت نکل آنا ایک طرح سے جوئے شیر لانا ہے ،  ہاں  جو صحافی اپنی جان کو جوکھم میں نہیں ڈالنا چاہتے وہ یا تو خطرات سے بچ بچا کر لکھتے ہیں یا اپنی قلم کو ایک خاص سمت دینے کی منہ مانگی قیمتیں وصول کرتے ہیں، جن کے لئے یہ بھی ممکن نہیں وہ یہ کہہ کر خاموش ہو جاتے ہیں :

جو مجھ سے چاہتے ہیں خوشامد پسند لوگ

اس کی مرے قلم سے توقع فضول ہے

✍ ساغر اعظمی

آج جب ہر طرف جمہوریت کی ردائے عفت و عصمت کو تار تار کیا جارہاہے ، بے گناہوں کو قید و بند کی زندگی جینے اور ان کے مکانات کو منہدم کرنے کی ناروا کوششیں کی جارہی ہیں ، ماورائے قتل کا رجحان روز بروز بڑھتا جارہا ہے حکمران طبقہ خود کو آئین وقانون سے بالاتر سمجھ کر ہر وہ کام کررہا ہے جو جمہوریت کے سراسر منافی ہے ایسے میں بیشتر صحافیوں کا حکمران جماعت کی ہاں میں ہاں ملانا،  اسکی قباحت پر حسن کی ملمع سازی اس بات کی علامت ہے کہ یا تو حکومت انہیں ڈرا دھمکا کر آزادی صحافت کو صحافت کی قربان گاہ کی بھینٹ چڑھا دیا یا خود صحافیوں نے حرص وہوس میں آکر ضمیر وظرف کا سودا کرلیا اور یہ دونوں عمل جمہوری ستون کو متزلزل اور آئین کی بالادستی کو چیلنج کرنے والا ہے ۔

اس قدر لوگ اندھیروں سے ہوۓ ہیں مانوس

صبح لکھنی تھی جسے سب نے اسے شام لکھا

البتہ جو  صحافی  قلم کی حرمت اور پیشے کے تقدس  کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے جمہوریت کو مستحکم اور آئین کی بالادستی کو برقرار رکھنے کا کام کررہے ہیں انہیں اسکی قیمت  ذہنی وجسمانی اذیت اور معاشی اضمحلال کی صورت میں ادا کرنا پڑتی  ہے۔ اس سلسلے میں صدیق کپن ، الٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر ،گوری لنکیش ،ورورا رائے، ابھِسار شرما ،اجیت انجم ، رویش کمار ،پنے پرسون واجپئی اور رعنا ایوب وغیرہ کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں جو حکومت کی خفگی کا سامنا کررہے ہیں۔

ابھی حال ہی میں جس وقت یہ سطریں لکھی جارہی ہیں خبر آرہی ہے کہ بہار کے بیگو سرائے میں مشہور صحافی اجیت انجم پر SIR ڈیٹا میں گڑبڑی اور الیکشن کمیشن کی کوتاہیاں عیاں کرنے کی پاداش میں ایف آئی آردرج کرلی گئی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ صحافت کی آزادی کو تسلیم کیا جائے اور جمہوری نظام کے استحکامِ کی خاطر ملک میں صحافیوں کو آزادنہ فضا میں سانس لینے کا موقع فراہم کیا جائے ۔اسی طرح زرد صحافت کرنے ، آئین کی بالادستی کو چیلنج کرنے ،اور اس پیشہ کی حرمت سے کھلواڑ کرنے والے صحافیوں کا ناطقہ بند کرکے صحافت کی ترقی کی راہ میں درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔

عبد-سلمبین-سلفی-Abdul-Mubeen-Salafi

عبد المبین سلفی

عبد المبین محمد جمیل سلفی ایک نوجوان اسلامی اسکالر، معروف کالم نگار اور معتبر تعلیمی شخصیت ہیں۔ جامعہ سلفیہ بنارس اور سدھارتھ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے تعلیم و صحافت کے شعبوں میں گہرا اثر چھوڑا ہے۔ "حجاب کی اہمیت وافادیت" جیسی معروف کتاب اور متعدد پمفلٹس کے علاوہ سیکڑوں مضامین لکھ کر انہوں نے عوامی سطح پر علمی و سماجی موضوعات پر روشنی ڈالی ہے۔ تین سال سے زیادہ عرصے سے صحافت کی تدریس کے ساتھ ساتھ، وہ اپنے تحقیقی مضامین اور پراثر تحریروں کے ذریعے قارئین کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ ان کا انداز بیاں واضح، دلنشین اور فکری طور پر پرکشش ہے، جو انہیں ورڈپریس بلاگرز اور جدید ذرائع ابلاغ کے لیے ایک مثالی رول ماڈل بناتا ہے۔

Leave a Comment

قلمکارواں

عبد-سلمبین-سلفی-Abdul-Mubeen-Salafi

عبد المبین سلفی

مولانا-ابو-العاص-وحیدی-Abul-Aas-Waheedi

مولانا ابوالعاص وحیدی (شائق بستوی)

Aamir-Zafar-Ayyoobi

مولانا عامر ظفر ایوبی

Avatar photo

ڈاکٹر محمود حافظ عبد الرب مرزا

ڈاکٹر صالحہ رشید

مولانا خورشيداحمدمدنیKhursheed-Ahmad-Madni

مولانا خورشید احمد مدنی

ڈاکٹر-محمد-قاسم-ندوی-Mohd-Qasim-Nadwi

ڈاکٹر محمد قاسم ندوی

Dr-Obaidur-Rahman-Qasmi

ڈاکٹر عبید الرحمن قاسمی

جاوید اختر عمری

error: Content is protected !!