مسکراتے آنسو (رخصتی)

اے میری بیٹی عزیزم! نورِ چشمی، نیک نام

والدہ تیری ہیں بیٹی، آج تم سے ہمکلام

عقد تیرا کردیا، بر سنتِ خیر الاَنام

حوصلہ لاؤں کہاں سے، آگئی فرقت کی شام

 

رخصتی کا غم ہے بیٹی، دل بہت رنجور ہے

بنتِ حوا کے لئے لیکن یہی دستور ہے

☆☆☆☆☆

دل ہے بیکل، آنکھ پُرنم، لب پہ نا گفتہ سُخن

بے کلی تیری بجا ہے، پر سنبھل، گل پیرہن!

گھر یہ بابُل کا فقط ہے عارضی سا اک سّکّن

چھوڑنا پڑتا ہے اک دن یہ سّكّن بن کر دُلَھن

 

آج تو بن کر دلھن جا اپنے دلدادہ کے گھر

جا میری بیٹی چلی جا اپنے شہزادہ کے گھر

☆☆☆☆☆

چند دن مہمان تھی اب گھر کی نعمت مل گئی

ایک پاکیزہ گھرانہ، تجھکو جنت مل گئی

تجھکو بو ریحان سی کیا خوب ! صورت مل گئی

نیک دل شوہر ملا، جا تیری قسمت کِھل گئی

 

ساری خوشیاں ہوں میسر، ایک ایسا در ملا

شکر واجب ہے تجھے جو کچھ ملا، بہتر ملا

☆☆☆☆☆

بچھڑی یادوں کی تجھے مہکی گھٹا یاد آئے گی

بیتے بچپن کی سنہری سی فضا یاد آئے گی

بھائیوں کا پیار بہنوں کی وفا یاد آئے گی

بیتے لمحوں کی ہر اک لمحہ ادا یاد آئے گی

 

یہ مگر یادیں کبھی بھی راہ میں حائل نہ ہوں

تیری ذمہ داریاں تجھ سے کبھی زائل نہ ہوں

☆☆☆☆☆

شکر کے سجدے ہزاروں، اور دعائیں بے شمار

بھیگی آنکھوں میں جھلکتا امی اور بابا کا پیار

بھائی عاصم کی جبیں پر کم نہیں غم کا غبار

لاڈلی ام سمیہ کی ہیں آنکھیں اشک بار

 

آج پیاروں کی رفاقت چھوڑ، ہے جانا تجھے

اپنے بابل کا حسیں گھر چھوڑ، ہے جانا تجھے

☆☆☆☆☆

اب یہ میکہ چھوڑ کر سسرال جانا ہے تجھے

پیار و الفت سے وہاں رشتہ نبھانا ہے تجھے

اپنے شوہر کی رضا، سچ کر دکھانا ہے تجھے

خود کو ہر اک آن میں شاکر بنانا ہے تجھے

 

ہر تعلق کو نبھانا ریشمی کردار سے

سب کے دل کو جیت لینا نرمئ گفتار ہے

☆☆☆☆☆

ہر قدم اسوہ ہو تیرا، سيرتِ زہرہ بتول

یاد رکھنا، گلشن زہرہ کی تو ہے ایک پھول

بن کے رہنا ہے تجھے پابند فرمانِ رسول

اپنی پاکیزہ روایت یاد رکھ، ہرگز نہ بھول

 

زندگانی چار دن، اس کا بھروسہ کچھ نہیں

جانب عقبی نظر رکھنا یہ دنیا کچھ نہیں

☆☆☆☆☆

زندگی کے راستے میں آگہی ہو ہر قدم

آرزوئیں کامراں ہوں بس خوشی ہو ہر قدم

جس طرف جاؤ سفر میں روشنی ہو ہر قدم

رشک سے منزل تمہی کو دیکھتی ہو ہر قدم

 

چاند تاروں سے سجی اِک کہکشاں تم کو ملے

تم جہاں جاؤ مقدّر مہرباں تم کو ملے

☆☆☆☆☆

ہے دعا رب سے کہ تم دونوں سدا شاداں رہو

غم نہ بھٹکے پاس کوئی خوش رہو خنداں رہو

دہر کی نیرنگیوں میں دین کے خواہاں رہو

با مراد و کامراں دونوں بہ ہر عنواں رہو

 

آنے والی زندگی کی ہرگھڑی ہو شاد باد

اک نئے جیون کی خاطر رخصتی ہو شاد باد

☆☆☆☆☆

جاوید اختر عمری

جاوید أختر عمری کا تعلق مئوناتھ بھنجن، اترپردیش سے ہے۔ آپ نے دینی مدارس اور عصری جامعات دونوں سے تعلیم حاصل کی، اور تحقیق، تدریس، ادب و تحریر کے میدان میں سرگرم عمل ہیں۔ اسلامی ادب، سفرنامہ نگاری، اور سیرت و ثقافت جیسے موضوعات پر خامہ فرسائی کے ساتھ ساتھ آپ ڈیجیٹل دنیا میں بھی فعال ہیں۔ عربی، اردو، اور انگریزی زبانوں پر مہارت رکھتے ہوئے بلاگنگ، ویب ڈیزائننگ، اور مواد نویسی کے ذریعے معیاری علمی مواد پیش کرتے ہیں۔ روایت و جدت کے امتزاج سے علم کی خدمت کا یہ سفر جاری ہے۔

Leave a Comment

قلمکارواں

عبد-سلمبین-سلفی-Abdul-Mubeen-Salafi

عبد المبین سلفی

مولانا-ابو-العاص-وحیدی-Abul-Aas-Waheedi

مولانا ابوالعاص وحیدی (شائق بستوی)

Aamir-Zafar-Ayyoobi

مولانا عامر ظفر ایوبی

Avatar photo

ڈاکٹر محمود حافظ عبد الرب مرزا

ڈاکٹر صالحہ رشید

مولانا خورشيداحمدمدنیKhursheed-Ahmad-Madni

مولانا خورشید احمد مدنی

ڈاکٹر-محمد-قاسم-ندوی-Mohd-Qasim-Nadwi

ڈاکٹر محمد قاسم ندوی

Dr-Obaidur-Rahman-Qasmi

ڈاکٹر عبید الرحمن قاسمی

جاوید اختر عمری

error: Content is protected !!