تحفۂ اکبر شاہی میں درج شیر شاہ سوری کی اصلاحات کا مختصر جائزہ

فرید خان سور المعروف بہ شیر شاہ سوری ہندوستان کی تاریخ کا وہ اہم نام ہے جس نے 17/مئی 1540ء سے 22/ مئی 1545ء تک ہندوستان پرحکمرانی کی۔ اس کے والد افغانستان سے ہجرت کر ہندوستان آئے اور مغل بادشاہ بابر کے معمولی جاگیردار بنے مگر ان کے اولوالعزم بیٹے نے بابر کے بیٹے ہمایوں کو در بدری کی زندگی گذارنے پر مجبور کر دیا اور خود ہندوستان پر حکمرانی کی۔

ہمایوں کی در بدری کے زمانے میں ہی اکبر کی پیدائش ہوئی۔ اکبر کے دور حکومت میں عباس ککہور سروانی نے 1880ء میں تحفۂ اکبر شاہی تألیف کی جسے شیر شاہ کی حکمرانی کو سمجھنے کے لئے ایک بنیادی متن قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ کتاب شیر شاہ کی وفات کے پینتس برس بعد لکھی گئی۔

کتاب کا اسلوب

مؤلف نے شیر شاہ کے احوال نقل کرنے والوں اور اس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں سے استفادہ کیا کیونکہ اس وقت ایسے کافی لوگ حیات تھے جنھوں نے شیر شاہ کا دور دیکھا تھا۔ کتاب روزنامچہ کی طرز پر لکھی گئی ہے یعنی مختلف واقعات کو تاریخ وار درج کر دیا گیاہے۔ اسلوب بیان پر خاص توجہ نہیں دی گئی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مؤلف کا مقصد فقط شیر شاہ سے متعلق معلومات کو عوام تک پہنچانا تھا۔

اس کتاب میں شیر شاہ کے انتظام و انصرام پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ شیر شاہ کی مالی و زرعی اصلاحات، عدالتی نظام، عوامی رفاہ کے منصوبوں کے نقوش آج بھی موجود ہیں جو اس کے طرز حکومت پر غورو فکر کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اس کتاب کی افادیت کے پیش نظر اس کا اردو ترجمہ بھی ہواجسے تاریخ شیر شاہی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

سلاطین دہلی نے ہندوستان پر تین سو برس سے زیادہ حکومت کی۔ ان میں سے کچھ بادشاہوں جیسے شمس الدین التتمش، بلبن علاء الدین خلجی اور فیروز شاہ تغلق وغیرہ نے اپنی قلمرو کے نظم و نسق کو بہتر بنانے کی حتی الامکان کوشش کی۔ ان میں سب سے اہم زرعی اصلاحات تھیں کیونکہ اس دور میں زرعی لگان سے وصول کی گئی رقم ہی آمدنی کا اصل ذریعہ تھی۔ شیر شاہ نے جب زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لی تو اسے لگا کہ حکمرانی کے تقریباً ہر شعبہ میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ 1440ء میں ہمایوں کو شکست دینے کے بعد شیر شاہ کی حکومت شمالی ہندوستان کے ایک بڑے حصے پر قائم ہو گئی۔

زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لیتے ہی اسے محسوس ہواکہ ملکی امور کے ہر شعبہ میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ لہٰذا اس نے فی الفور ان اصلاحات کا خاکہ تیار کیا اور ان کے نفاذ پر سرگرم عمل ہو گیا جن کا مختصر ذکر سطور ذیل میں ملاحظہ فرمائیں

ملکی و مالی نظام:

شیر شاہ نے سب سے پہلے ملکی و مالی اصلاحات پر توجہ دی۔ اس نے اپنی وسیع و عریض سلطنت کو 47/ حصوں میں منقسم کیا۔ اس کی حکومت میں ایک لاکھ سولہ ہزار پرگنے تھے۔ شیر شاہ سے قبل زمین کی اکائیاں شق، سرکار اور پرگنہ کہلاتی تھیں۔ صوبہ مغلوں کی دی ہوئی اصطلاح ہے۔ شیر شاہ کے زمانے میں سرکار کی بہت زیادہ اہمیت تھی۔ مغلوں نے جب ملک کو صوبوں میں تقسیم کیا تو سرکار نے ضلع کی حیثیت اختیار کر لی اور ضلعوں کی اہمیت آج تک انتظامیہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔

شیر شاہ نے حکومت کو بہتر بنانے کے لئے بعض نئے عہدے دار اور ان کے فرائض کی حدود باقاعدہ مقرر کیں۔ پرگنہ میں حکومت کے جو عمال مقرر کئے جاتے تھے ان میں شقدار سب سے زیادہ اہم تھے۔ پرگنہ کا عمومی نظم اسی کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ امین یا منصف ہوتا تھا۔ شیر شاہ کی مراد ان دونوں کے تقرر سے یہ تھی کہ حکومت اور کاشتکار کے درمیان انصاف اور امانت کا معاملہ ہو۔ اس کے فرائض میں یہ شامل تھا کہ وہ فصلوں کا معائنہ کرتا رہے اور مالگزاری و خراج کی وصولیابی کی نگہداشت کرے۔ پرگنہ میں ایک خزانچی بھی ہوتا تھاجسے فوطہ دار کہتے تھے۔ یہ کارکن فارسی اور ہندوستانی دونوں زبانوں میں حساب لکھتے تھے۔ قانون گو کے پاس مالگذاری سے متعلق وہ کاغذات ہوتے تھے جن کے اندراجات سے سال گذشتہ کی کیفیت معلوم کی جا سکتی تھی۔

ذرائع سفر اور رسل و رسائل:

شیر شاہ کی حکمرانی کی مدت فقط پانچ برس ہے۔ اس قلیل مدت میں اس نے ذرائع سفر اور رسل و رسائل کو آسان بنانے کی بھرپور کوشش کی۔ اس کے لئے اس نے اپنی قلمرو میں نہ صرف عمدہ سڑکوں کا جال بچھا دیا بلکہ مسافروں کی جان و مال کی حفاظت کا بھی معقول بند وبست کیا۔

  1. سب سے بڑی اور اہم سڑک شمال مغربی علاقے میں دریائے سندھ کے کنارے سے سونار گاؤں تک تھی اور ملا عبد القادر بدایونی کے قول کے مطابق یہ راستہ چار ماہ کی مدت میں طے کیا جاتا تھا۔
  2. دوسری سڑک آگرہ سے شروع ہو کر مالوہ سے گذرتی ہوئی برہانپور تک پہنچتی تھی۔
  3. تیسری سڑک آگرہ کو چتوڑ سے اور چوتھی ملتان کو لاہور سے ملاتی تھی۔ ان سڑکوں کی تعمیر سے تجارتی اور ثقافتی تعلقات کی توسیع اور استواری میں بہت مدد ملی۔

ان راستوں پر مسافروں کی سہولت کی خاطر ہر دو میل (ایک کروہ) پر ایک سرائے تعمیر کی گئی جہاں ہر مسافر چند روز حکومت کا مہمان ہو کر قیام کر سکتا تھا۔ پاس ہی ایک مسجد اور کنواں بنوایا۔سڑکوں کی دونوں جانب کچھ کچھ فاصلے پر گھنے سایہ دار اور پھل دینے والے درخت لگوائے۔

غیر مسلم مسافروں کی ضرورت کے اعتبار سے الگ سہولیات فراہم کیں۔ بدایونی کہتا ہے کہ اس زمانے میں کوئی مسافر سونے کا طبق لے کر جہاں چاہتا تھا سو جاتا تھا اور کوئی چور اسے پوچھتا نہ تھا۔ انسداد جرم اور قیام امن کی خاطر شیر شاہ نے دزدوں اور قزاقوں کے لئے سخت سزائیں مقرر کیں۔ اگر چور پکڑا نہ جاتا تو وہ چاروں اطراف کے گاؤں سے تاوان وصول کرتا۔ تاوان کے ڈر سے گاؤں کے لوگ خود ہی بد قماش لوگوں پر نگاہ رکھتے۔

ڈاک کا انتظام:

شیر شاہ نے ہر سرائے میں ڈاک چوکیاں بھی بنوائیں۔ در اصل مسلم فاتحین اپنے ساتھ رسل و رسائل کی عمدہ روایت ساتھ لائے تھے۔ شیر شاہ نے اس کی توسیع کی۔ اس نے ہر سرائے میں ڈاک لے جانے کے لئے دو سوار مقرر کئے۔ فرشتہ نے لکھا ہے کہ سندھ اور بنگال کے دور دراز علاقوں سے بادشاہ کو روزانہ رپورٹ ملتی تھی۔ ڈاک چوکیوں میں گھوڑوں کی نگہداشت کا معقول انتظام تھا۔ ڈاک کو آگے لے جانے کے لئے دو گھوڑے ہمہ دم تیار رہتے۔

فوجی نظام:

شیر شاہ کی فوج نہایت منظم اور تربیت یافتہ تھی۔ اس کی فوج کے دو حصے تھے۔ ایک حصہ پرگنوں اور شہروں کے تحفظ اور دفاع کے لئے اور دوسرا خود اس کی نگرانی میں مرکز میں تعینات رہتا۔ فوج کی تربیت، سواروں اور دیگر ملازموں کی بھرتی اور فوج سے متعلق دیگر امور میں شیر شاہ ذاتی دلچسپی لیتا۔ اس کی فوجی اصلاحات میں داغ قانون کا ذکر لازمی ہے۔ دراصل اتنی وسیع و عریض سلطنت میں تمام امراء پر نگاہ رکھنا مشکل ہو جاتا تھا۔ اکثر و بیشتر اسے بے ایمانی اور گڑبڑی کی شکایت ملتی۔ جن امراء کی زیر نگرانی فوجی دستے رکھے جاتے وہ کبھی تعداد میں تو کبھی صفات میں بے ایمانی کر لیتے مثلاً جس قدر تعداد ان کے کاغذات میں درج ہوتی، اتنی رقم وہ حکومت سے وصول کرتے اور حقیقتاً اس سے کم سپاہ رکھ کر کافی پیسے بچا لیتے۔ اس کے علاوہ عمدہ قسم کے گھوڑے جو ان کو دئے جاتے، انھیں فروخت کر معمولی اور کم قیمت کے جانور رکھ لیتے۔ معائنہ کے وقت الٹے سیدھے طریقوں سے حکومت کے مطالبات پورے کر دیتے۔ اس طرح کی گڑبڑیوں سے نپٹنے کے لئے شیر شاہ نے پہلے سے چلے آرہے حل یعنی گھوڑوں کو داغ دینے کے طریقے کو اپنایا۔ سپاہیوں کا حلیہ جسے چہرہ کہا جاتا تھا لکھاجانے لگا۔ جس سے اس نے ان بد عنوانیوں پر کافی حد تک لگام لگائی۔

عدل گستری:

شیر شاہ کی عملی سیاست کا ایک قابل ذکر پہلو اس کی عدل گستری ہے۔ بدایونی تو اس بات پر فخر کرتا ہے کہ اس کی پیدائش شیر شاہ جیسے انصاف پرور بادشاہ کے زمانے میں ہوئی۔ اس کی انصاف پسندی کسی مخصوص طبقہ یا مذہب کے لئے نہیں تھی بلکہ اس کی نظر میں ہر شخص برابر تھا اور حکومت سے انصاف طلب کر سکتا تھا۔ اس نے عدلیہ کو شرعی بنیادوں پر قائم کرنے کی پوری کوشش کی اور اس بات کا خیال رکھا کہ عدلیہ غیر مسلوں کے لئے بھی اطمینان بخش ہو۔ اس کا خیال تھا کہ جو طاعت و گناہ نوکر و رعیت سے وقوع میں آتا ہے اس میں بادشاہ بھی شریک ہوتا ہے۔ وہ ہر دن چار گھڑی کاغذ کارخانہ جات کو سنتا اور دولت کارخانہ جات کی جو مہم ومشکلات ہوتیں انھیں دور کر دستور العمل طے کر تا اور تمام ارکان اس پر عمل کرتے۔ مہم سے قبل ہی سپاہیوں کی فریاد سنتا اور ان کی جائیداد وغیرہ کی فکر کرتا۔ جس کے پاس جاگیر نہ ہوتی انھیں عطا کرتا۔ اس کے بعد کسی بھی مظلوم اور ستم رسیدہ کی فریاد سنتا اور انصاف دیتا۔

وہ اکثر اوقات کہتا کہ

 عدل ہر دین میں بہتر ہے۔ کوئی طاعت و عبادت عدل کے برابر نہیں۔ کفر و اسلام کے ہر فریق مستحق عدالت ہیں۔ اگر بادشاہ کے عدل کا سایہ رعایا کے سر سے دور ہو جائے گا تو جمعیت اور آبادی کی گرہ کھل جائے گی اورصاحب زور و شوکت مسکین و غریب کو ہلاک کر دیں گے۔ اس کے مطابق ارکان دولت کی سستی و کاہلی سلطنت کے زوال کا سبب ہے۔ وہ لوگ دنیوی طمع کی خاطر اپنے زور قوت سے سپاہ ورعیت کے درمیان ظلم و ستم کو راہ نہ دیں اور مظلوموں کی آہ سے بچیں۔ ارکان دولت اکثر اوقات معاملات سے با خبر رہیں اور اپنے اعلیٰ مرتبے کے باعث ملکی امور کو حقیر نہ جانیں۔

شیر شاہ خود سلاطین عصر کی نقل و حرکت سے باخبر رہتا۔ تمام معاملات میں اراکین دولت کی کار گذاریوں پر بذات خود نگاہ رکھتا۔ اس طرح اس نے وزراء اور حکام کی اپنے عیش کی خاطر رشوت ستانی جیسی رذیل حرکت پر قابو پایا۔

رعایا پروری کے قاعدوں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اگر کبھی راہ کی تنگی کے باعث لشکر کو کھیتوں کے آس پاس سے گذرنا ہو تو اس بات کا خیال رکھا جاتا کہ زراعت کو نقصان نہ پہنچے۔ اگر کچھ نقصان پہنچ جاتا تو جریب کر کے اس نقصان کی قیمت ادا کی جاتی۔ اگر دشمن ملک میں ہوتا تو اس ملک کی رعیت کو نہ لوٹتا نہ گرفتار کرتا اور نہ ہی ان کی زراعت کو نقصان پہنچاتا۔

اس کا ماننا تھا کہ

رعیت بے گناہ ہوتی ہے۔ جو غالب ہے وہ اس کی فرماں بردار ہوتی ہے۔ رعیت کو ستانے کا مطلب رعیت کا ویران ہو جانا اور ملک کا بے چراغ ہو جانا۔ پھر ایک مدّت چاہئے کہ ملک آباد ہو۔ 

اس نے یتیموں مسکینوں اور محروموں کے لئے اپنے لشکر میں لنگر مقرر کئے تھے جن پر روزانہ پانچ سو اشرفیاں خرچ کی جاتی تھیں۔ جو لوگ کسب معاش کے لائق نہ ہوتے ان کا روزینہ ان کی تحصیل میں خود مقرر کر دیتا اور یہ ذمہ داری ایمہ داروں کے سپرد نہ کرتا کہ وہ جعلی نہ بنا دیں۔

علماء مخادیم، طالب علم اور مسافر جن کی پہنچ بادشاہ تک نہیں ہو پا رہی، ان کی بھی مدد معاش کرتا کیونکہ وہ یہ جانتا تھا کہ سلطنت کی آبادی اور رونق انھیں کے دم سے ہے۔ اس نے ہر امیر لشکر کے اوپر خفیہ خبر رساں لگا رکھے تھے جن کا کام پوشیدہ طور پر امیر و رعیت اور سپاہ کی نقل و حرکت کا جائزہ لے کر بادشاہ کو مطلع کرنا تھا۔

منجملہ شیر شاہ عقل و کاردانی میں یکتائے روزگار تھا۔ اس نے اپنی کم عرصہ حکومت میں ملکی نظام، آبادی وآسودگی رعیت و سپاہ اور امن و امان کی جو مثال قائم کی اسے عباس ککہور سروانی مؤلف تحفۂ اکبر شاہی نے شیر خان کے احوال کے نقل کرنے والوں اور روایت کرنے والوں سے سن کر نذر قلم کیا۔ جس کی معنویت افادیت آج بھی مسلم ہے۔

ڈاکٹر صالحہ رشید

پروفیسر ڈاکٹر صالحہ رشید صاحبہ ایک ممتاز اسکالر، ماہرِ لسانیات اور آباد یونیورسٹی کے شعبۂ عربی و فارسی کی سابق صدر رہ چکی ہیں۔ آپ نے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک تدریس، تحقیق اور تعلیمی قیادت کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ عربی، فارسی اور اردو زبان و ادب پر آپ کی تحقیق نہایت وقیع اور بصیرت افروز مانی جاتی ہے۔بطور صدر شعبہ، آپ نے نہ صرف تعلیمی نظم و نسق کو نکھارا بلکہ یو جی سی-ایچ آر ڈی سی جیسے قومی اداروں کے تحت علمی ورکشاپس میں بھی بھرپور شرکت کی۔ آپ کی تصانیف میں "نسوہ"، "محاضرات"، "عزلت"، "تفہیم"، "مستورات" اور اسلم جمشید پوری کے افسانوی اسلوب پر مبنی تحقیقی کتاب خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔آپ نے "میر تقی میر کے فارسی کلام کی عصری معنویت" جیسے موضوعات پر عصری تنقیدی انداز میں گہرے مضامین تحریر کیے، جو آپ کی فکری گہرائی کا مظہر ہیں۔ مختلف ادبی فورمز، خصوصاً "ادب سلسلہ" میں آپ کی علمی شرکت نے اردو و فارسی ادب کو نئی جہتیں عطا کیں۔ڈاکٹر صالحہ رشید کی تدریسی و تحقیقی خدمات کو متعدد اعزازات سے سراہا گیا ہے۔ آپ کی علمی کاوشیں نہ صرف طلبہ و طالبات کے لیے مشعلِ راہ بنیں بلکہ جنوبی ایشیائی ادبیات میں ایک مؤثر اور فکری تحریک کا آغاز بھی ثابت ہوئیں۔ اردو و فارسی دنیا میں آپ کا مقام علمی وقار اور فکری عظمت کی علامت ہے۔

Leave a Comment

قلمکارواں

عبد-سلمبین-سلفی-Abdul-Mubeen-Salafi

عبد المبین سلفی

مولانا-ابو-العاص-وحیدی-Abul-Aas-Waheedi

مولانا ابوالعاص وحیدی (شائق بستوی)

Aamir-Zafar-Ayyoobi

مولانا عامر ظفر ایوبی

Avatar photo

ڈاکٹر محمود حافظ عبد الرب مرزا

ڈاکٹر صالحہ رشید

مولانا خورشيداحمدمدنیKhursheed-Ahmad-Madni

مولانا خورشید احمد مدنی

ڈاکٹر-محمد-قاسم-ندوی-Mohd-Qasim-Nadwi

ڈاکٹر محمد قاسم ندوی

Dr-Obaidur-Rahman-Qasmi

ڈاکٹر عبید الرحمن قاسمی

جاوید اختر عمری

error: Content is protected !!