اردو میں غیر افسانوی ادب: ایک جائزہ

کسی بھی زبان کے تخلیقی ادب کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے افسانوی ادب اور غیر افسانوی ادب، تخلیقی عمل میں دنیا کی حقیقت و مسائل تجربات و مشاہدات اور احساسات کو قصہ پن کے بغیر،  ادب اور فن کے تقاضوں کی تکمیل کے ساتھ پیش کیا جائے تو ایسی نثر غیر افسانوی نثر کہلاتی ہے۔

غیر افسانوی ادب میں قصہ بیان کرنے کے بجائے ادیب زندگی میں درپیش حقیقی واقعات پر اپنے احساسات، اختیار کردہ مخصوص صنف کی ہیئت کے دائرہ کار میں پیش کرتا ہے فرضی کرداروں اور فرضی واقعات کا تانابانا جوڑ کر اسے کہانیوں کے رنگ میں (جو انسانی تہذیب کا قدیم ترین وصف ہے) بیان کیا جائے تو اس طرح کا ادب افسانوی ادب کہلائے گا۔ چنانچہ داستان، ناول، افسانہ، ڈرامہ، اور ناولٹ جیسی تمام اصناف کو افسانوی نثر کا درجہ حاصل ہے۔ غیر افسانوی نثر میں مضمون، سوانح، خاکہ، سفر نامہ، خود نوشت، سوانح، خاکہ، طنزومزاح، مکتوب، انشائیہ اور پورتاز جیسی اصناف کی شناخت کی جاتی ہے۔

قصہ گوئی کا فن قدیم ترین فن ہے داستان سے ناول تک ہمارے ادب نے ایک طویل سفر طے کیا اور طویل عرصے تک اردو ادب پر افسانوی نثر کا غلبہ رہا، داستانوں کی صورت میں اردو کا افسانوی ادب ترقی کرتا رہا۔ ہندوستان میں انگریزوں کی آمد اور جدید علوم و فنون اور نئے خیالات کے فروغ کے نتیجے میں غیر افسانوی ادب ترقی کرنے لگا، فورٹ ولیم کالج کلکتہ اور فورٹ سینٹ چارج کالج مدراس کے توسط سے افسانوی ادب کا فروغ ہوا اور اردو ادب پر داستانوں کی حکمرانی رہی، لیکن 1824 میں دہلی کالج کے قیام کے بعد غیر افسانوی ادب کی طرف توجہ دی گئی، ماسٹر رام چندر اور ماسٹر پیارے لال نے پہلی مرتبہ ہر فن کی حقیقت اور ان کی موضوعاتی وضاحت کی جانب توجہ دی جس کی وجہ سے مضمون نگاری کی صنف کا آغاز ہوا۔

غیر افسانوی نثر کی شروعات میں مضمون کو اولیت کا درجہ حاصل ہوا، مضمون نگاری کے علاوہ سفر نامہ کی روایت کا بھی آغاز ہوا، چنانچہ محمد یوسف کمبل پوش نے "عجائبات فرنگ” لکھ کر ایک نئی صنف کا آغاز کیا-

مرزا غالب کے ابتدائی خطوط کی وجہ سے غیر افسانوی ادب کی نمائندگی1857 سے قبل ہی ممکن ہوسکی تھی جس کے بعد سے غیر افسانوی اصناف "آپ بیتی سوانح اور خود نوشت سوانح کو فروغ حاصل ہونے لگا، غیر افسانوی ادب کے ذریعے نثر کو فروغ دینے میں سرسید تحریک نے موضوعات اور اسالیب دونوں اعتبار سے بے حد اہم کردار نبھایا، انشائیہ، خاکہ، مقالہ اور رپورٹاز جیسی نثری اصناف کے غیر افسانوی ادب کے سرمائے میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ "اودھ پنج” اور اس کے معاصرین کے توسط سے طنزیہ و مزاحیہ تحریروں کو کافی فروغ ہوا جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ نثر کے تمام پیرایۂ اظہار میں طنز و مزاح نگاروں نے اپنے جوہر دکھائے۔ آج غیر افسانوی ادب میں نثر کی مصروف و غیر معروف بیشمار اصناف رائج ہو چکی ہیں

‏جنوبی ہند کے علاقوں میں رائج دکنی زبان کے اندر صوفیانہ تشریحات اور اسلامی قوانین اور اصولوں کو سمجھانے کے لیے جو اسلوب اختیار کیا گیا وہ غیر افسانوی ادب کی بنیاد ہے۔ خدا کی ذات، اس کی صفات، نور کے جلوے اور اسلام کے سربستہ راز پر سے پردہ اٹھانے کا کام دکن کے بزرگان دین اور صوفیائے کرام نے انجام دیا چنانچہ دکن میں غیر افسانوی ادب کے ابتدائی نقوش "رسالوں” کی صورت میں دستیاب ہیں جن میں سے کئی ایک شائع بھی ہو چکے ہیں اور بے شمار قلمی نسخوں کی شکل میں مختلف کتب خانوں میں موجود ہیں۔ دکن میں تحریر کردہ صوفیانہ، اسلامی شرعی، فقہ و عقائد کی تشریح کرنے والے تمام رسالے مذہبی ادب کا سرمایہ ہیں لیکن ان میں غیر افسانوی تخلیقی ادب کے ابتدائی نقوش دیکھے جا سکتے ہیں

‏ ہندوستان پر انگریزوں کے تسلط اور ان کی جانب سے نئے علوم و فنون کے فروغ کی کوششوں کی وجہ سے غیر افسانوی ادب کے فن نے کا موقع فراہم ہوا ان ابتدائی منتشر اور خام نمونوں کے بعد اردو کی پہلی غیر افسانوی صنف مضمون نگاری کو باضابطہ فروغ حاصل ہوا

اردو ادب کی تاریخی پس منظر میں جب غیر افسانوی اصناف کے ارتقا پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اردو کی بیشتر غیر افسانوی اصناف کی ترقی 1857 سے پہلے ہوئی۔ اور جب سرسید تحریک نے اپنا اثر دکھایا تو انگریزی ادب اور جدید علوم و فنون کے زیر اثر 1857 کے بعد ایک جانب قدیم اصناف کی ہیئتوں اور مزاج میں فرق آیا تو دوسری طرف بعض نئی اصناف سے اردو والے روشناس ہوئے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ سرسید نے بھی سادہ اسلوب کی وکالت کے ساتھ نئی اصناف سے متعارف کیا۔ لیکچر یا خطبات کی بنیاد رکھی، انشائیہ نگاری ان کی ذات سے وابستہ صنف کا درجہ رکھتی ہے۔ سرسید کے نامور رفقاء نے غیر افسانوی نثر کے فروغ میں اہم اور بنیادی حصہ لیا۔ ماضی میں اردو نثر پر افسانوی رنگ حاوی تھا، سرسید کے دور میں حقیقت پسندی کی تحریک اور عام طور پر مبالغہ سے پرہیز کے نتیجے میں مروجہ نثری اصناف میں کافی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اگرچہ پہلی جنگ آزادی سے قبل مضمون، سفر نامہ، آپ بیتی، مکتوب اور خود نوشت لکھنے کی روایت کا آغاز ہو چکا تھا لیکن بعد کے دور میں ان تمام اصناف میں اسالیب ہیئت اور موضوعات کے اعتبار سے نمایاں تبدیلیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ سائنسی، علمی، ادبی، تاریخی،تدریسی، معلوماتی اور علوم و فنون کے مختلف شعبوں سے متعلق مضامین کا طویل سلسلہ شروع ہوا اور اس جدید دور میں مضمون نگاری کو ہمہ جہت ترقی حاصل ہوئی۔

Share on: